Wednesday, August 22, 2018

احتساب - ٹرک کی بتی

ہم پاکستانی وہ بےوقوف لوگ ہیں جنہیں ٹرک کی بتی بہت خوبصورت لگتی ہے۔ اپنے خلاف ہونے والی سازش کو نہ صرف سمجھتے نہیں ہیں بلکہ اس کے ساتھ ہمقدم کھڑے ہوتے ہیں۔ جب ہم اس سازش کے نتیجے میں اپنی نسلیں تباہ کر بیٹھتے ہیں، تب بھی اصل مجرم کو مسیحا ہی سمجھتے رہتے ہیں۔

ہمارے پرائمری تعلیم کے دور میں فیصلہ ہوا تھا کہ سرکاری سکولوں میں انگریزی کی تعلیم دینے کا آغاز چھٹی جماعت سے کیا جائے گا۔ اساتذہ چاہے کلاسیں لیں یا نہ لیں، ان کی تنخواہ کبھی نہیں رکے گی۔ تعلیمی اداروں میں سیاسی تنظیمیں بنادی گئیں۔ سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے اگر تعلیم میں کوئی رکاوٹ آتی ہو تو بغیر امتحان کے بھی بچوں کو پروموٹ کیا جاسکتا تھا۔ میں خود بھی اس وقت آٹھویں سے نویں جماعت میں پروموٹ ہوا تھا۔

اس دور کے سرکاری سکولوں کے پڑھے ہوئے بچے جو آج ادھیڑ عمری کے دور سے گزر ہیں، کیا وہ قابل اساتذہ میں شمار کیے جاسکتے ہیں؟ کیا ان کے پڑھائے ہوئے بچوں میں حب الوطنی کا کوئی جزبہ نظر آتا ہے؟ کیا ان اساتذہ کے پڑھائے ہوئے بچوں میں معاشرتی روایات کا فقدان نظر نہیں آتا؟ کیا اس دور کے طلبا آج لائق افسر بن سکے ہیں؟ کیا اس دور کے طلبا آج قابلیت کے اس میعار پہ نظر آتے ہیں کہ غیرملکی وفود کے ساتھ بحث و مباحثے میں حصہ لے سکیں؟

ایسی تمام ذمےداریاں وہی لوگ پوری کررہے ہیں جو اس زمانے میں مہنگے پرائویٹ سکولوں میں پڑھتے رہے یا پھر بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے رہے۔ گویا اس زمانے میں ایسے اقدامات کردیے گئے تھے کہ افسر کا بچہ ہی افسر بنے، غریب کا بچہ نہ تو افسری کے قابل ہوپائے اور نہ ایسے خواب دیکھنے کی جرات کرے۔ اس دور کے طلبا جو آج مختلف درجات میں سرکاری ملازمتیں کررہے ہے، وہ سب سے زیادہ خوفزدہ اس پالیسی سے ہوتے ہیں کہ کہیں ترقی کے لئے امتحان کی شرط نہ رکھ دی جائے۔

اسی دور کے دیگر امور کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں نظر آتا ہے کہ "سرمایہ دار" کا لفظ ایک گالی کے طور پہ متعارف کرایا گیا۔ یہ لفظ آج تک قابل نفرت ہی چلا آرہا ہے۔ کیا ہم میں سے کسی نے یہ سوچنے کی ضرورت محسوس کی کہ سرمایہ دار اگر انڈسٹری نہیں لگائے گا تو ہمارے جو بچے میکینیکل، الیکٹریکل، الیکٹرانک، اور دیگر شعبوں میں انجینیرنگ کی ڈگریاں اور ڈپلومے حاصل کررہے ہیں، ان کے لئے ملازمتوں کے مواقع کہاں سے پیدا ہوں گے؟

جب پاکستان بنا تھا تو 22 سرمایہ دار خاندان تھے۔ سرمایہ دار کے لفظ کو گالی قرار دیتے ہوئے ہم نے ان 22 کے ساتھ جو سلوک کیا اس کے نتیجے میں سارے کے سارے اپنا سرمایہ سمیٹ کر ملک سے باہر نکل گئے۔ ہم آج بھی ان ہی لوگوں کو اپنا نجات دہندہ مانتے ہیں جنہوں نے سرمایہ دار کو ذلیل و خوار کیا لیکن ہمیں مسلسل ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رکھا ہے کہ ہم لٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے۔

کبھی ہم سرمایہ دار کی دولت کو نیشنلائزیشن کے ذریعے ضبط کرلیتے ہیں، کبھی مارشل لاء لگا کر اور کبھی احتساب کے رگڑے میں۔ ایسی صورت میں کسی کو پاگل کتے نے کاٹا ہے کہ وہ اپنی دولت پاکستان میں رکھے؟ کسی کو یاد ہے کہ نیشنلائزیشن کے نتیجے میں آپ کی کتنی انڈسٹری بنگلہ دیش منتقل ہوئی تھی؟ نتیجہ اپ کے سامنے ہے۔ بنگلہ دیش اور پاکستان کا بےروزگاری کے حوالے سے موازنہ کرلیں، تعلیم کے حوالے سے کرلیں، انڈسٹری کے حوالے سے کرلیں، زراعت کے حوالے سے کرلیں، آپ کو ہر جگہ اس حقیقت کے باوجود وہی بہتر نظر آئیں گے کہ وہاں سال میں دو بار سیلاب کی تباہ کاریاں بھی ہوتی ہیں۔

سیپیک CPEC کے ساتھ ملک میں بہت سے انڈسٹریل زون بنانے کا منصوبہ بننے کا اعلان ہوتے ہی پاکستان میں احتساب کا جو عمل شروع ہوا ہے اس نے پاکستان کی تباہی کے عمل میں آخری کیل ٹھوک دی ہے۔ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔ میرے اور اپ جیسے لوگوں کے انجینیر بچے کال سینٹرز میں پانچ سے دس ہزار کی نوکریاں کرتے پائے جائیں گے۔

ڈاکٹر سعید اختر کو ہم نے کیسے ذلیل و خوار کیا؟ کیا اس کے بعد کوئی قابل شخص ملک کی خدمت کے لئے پاکستان آنے کی جرات کرے گا؟

سیاحت کا شعبہ پہلے ہی دہشتگردی کے نتیجے میں تباہ ہوچکا ہے۔ ایسے حالات میں ایک غیر ملکی خاتون نے ہمارے یوم آزادی پہ ہمارے ساتھ اظہار یکجہتی کیا تو ہم نے اس پہ وہ گل افشانی کہ کہ اسے معافی مانگنا پڑی۔ کیا یہ سلوک پاکستان کی سیاحت کی انڈسٹری کے تابوت میں آخری کیل نہیں تھا؟

بہرحال ہم کیا اور ہماری اوقات کیا۔ ہم تو بس اب احتساب کا تماشہ دیکھتے دیکھتے آخری منزل کو سدھاریں گے۔ اپنے بچوں کے لئے ہم جیسا پاکستان چھوڑ کر جائیں گے اس کے نتیجے میں ان میں سے شاید ہی کوئی بچہ ہماری قبر پہ محبت کے ساتھ فاتحہ پڑھنے آئے گا۔ کیسے آئے؟ آخر ہم اسے دے کر ہی کیا جارہے ہیں؟

Wednesday, June 13, 2018

صاف چلی شفاف چلی

‏السلام علیکم۔۔
آج کل ملک عزیز کی سیاست میں عمران خان نے سیاست میں ایک ایسی تبدیلی لا دی ہے کہ الزام اور جھوٹ کا بول بالا ہے۔ جس میں سچ بہت دب کر رہ گیا عمرانی سوشل میڈیا نے اس قدر طاقتور کمپین کی ہے کہ ان کی اس طاقت سے سچ لکھنے والے میڈیا کے لوگ بھی بہت دب کر لکھتے ہیں کیونکہ کون ایسا ہوگا جس کو اپنی عزت عزیز نہ ہوگی؟

ایک طرف عمرانی سوشل میڈیا اپنے جھوٹ کو انتہائی مکاری کے ساتھ اتنا زیادہ پھیلاتا ہے کہ عام انسان کو جھوٹ بھی سچ لگنے لگتا ہے۔ دوسری طرف اگر کوئی ان کے جھوٹ کو بےنقاب کرتا ہے تو اس کی ماں بہن ایک کر دی جاتی ہے۔ الغرض ان کے جھوٹ اور سینہ زوری نے معاشرے میں ایک ایسا طبقہ پیدا کردیا ہے جو صرف جھوٹ ہی سننا چاہتا ہے۔

کل زرداری کا نیب سے آخری ریفرنس بھی ختم ہو گیا اور زرداری مکمل طور پر مسٹر کلین بن چکے ہیں۔ یہ بات پاکستانیوں کو کیسے ہضم ہو سکتی ہے مگر یہ سچ کر دکھایا گیا ہے جس پر سوائے ایک مسکراہٹ کے کچھ بھی نہ کہا جاسکتا ہے کیونکہ زرداری کی کرپشن وہ مقام حاصل کر چکی تھی کہ بھٹو کا جیالا PPP کا دفاع کرنے میں ناکام تھا اور PPP چھوڑ کر PTI میں شامل ہو رہا تھا۔ عمرانی سوشل میڈیا اور اس کے ہمنوا الیکٹرانک میڈیا نے اپنی توپوں کا رخ نوازشریف کی طرف صرف اس لئے کئے رکھا کہ کسی طرح عمران نیازی کو وزیراعظم بنا دیا جائے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اصل کرپشن کے بانی اور ذمہ داری آج بری ہو رہے ہیں باقی ماندہ عمران نیازی کے ساتھ مل کر چور مچائے شور کی پالیسی پر گامزن ہیں۔

صوبہ پختونخواہ جس کا سربراہ عمران نیازی نے پرویزخٹک کو مقرر کرکے وزارت اعلیٰ کی مسند پر بٹھایا وہ شخص PTI میں آنے سے پہلے کرپشن اور اقربا پروری میں بےمثال تھا۔ خیبرپختونخواہ میں اس وقت سب سے بڑی جو کرپشن ہو رہی ہے وہ خیبرپختونخواہ کی معدنیات ہیں۔ اس کرپشن پر روشنی ڈالنے سے پہلے آپ کے علم میں یہ بات لانا ضروری ہے کہ معدنیات کی تھوڑی سی اہمیت آپ کو بتا سکوں۔ سوئٹزرلینڈ اور جنوبی افریقہ انہی معدنیات کی وجہ سے اپنا %75 بجٹ بناتے ہیں۔ جی ہاں کرومائیٹ وغیرہ۔ خیبرپختوخواہ میں جو کرومائیٹ نکالی جا رہی ہے اس کرومائیٹ سے کئی گناہ بہترین ہے اور اوپر سے کرومائیٹ کے دنیا کے سب سے بڑے خریدار چائینہ آپ کے دروازے پر موجود ہے۔ سابق دور حکومت میں پرویزخٹک نے بطور آبپاشی وزیر سابقہ حکومت میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے کرومائیٹ کی سب سے بڑی کان تنگی مائنز کا ٹھیکہ ایک شخص کو دلوایا اور اس سے یہ ٹھیکہ اپنے بھائی جلال خان کو لے دیا جو بدستور اب بھی جلال خان کے پاس ہے۔ جلال خان دبئی میں شہنشاہوں کی زندگی گذار رہا ہے جبکہ عملاً جہانگیرترین کی کمپنی کرومائیٹ نکال کر چین اور دوسرے ممالک میں بیچ رہی ہے اور یوں جس کرومائیٹ سے خیبرPK کے عوام کی قسمت تبدیل ہو سکتی ہے اس کرومائیٹ سے جہانگیرترین پرویزخٹک اور اس کے خاندان کی عیاشی ہو رہی ہے۔

خیبرPK میں پرویز خٹک نے مل بانٹ کر کھانے کا بہت خوبصورت نظام بنا رکھا ہے۔ اسدقیصر جو کہ اسپیکر صوبائی اسمبلی ہے جب سیاست میں آیا تو اس کا کل اثاثہ 14 مرلے کا گھر تھا۔ مگر آج اسد قیصر کا گھر پانچ کروڑ سے زیادہ قیمتی ہے اور اسلام آباد میں بنیگالا عمران نیازی کی رہائش کے قریب اس کا ایکڑوں میں پھیلا کروڑوں روپے کا بنگلہ ہے۔ اسد قیصر کا ذریعہ لوگوں کو من پسند نوکریاں بیچنا ہے۔

اب ترقیاتی کاموں کی طرف آئیے۔ جہاں %30 تک کمیشن خیبر PK کے وزیروں اور مشیروں کی جیب میں جارہا ہے۔ عمران نیازی کا سب سے بڑا کام بلین ٹری سونامی کیا ہے؟ آئیے اس کی حقیقت بھی جان لیجئے۔۔۔

معدنیات کی طرح لکڑی جسے ٹمبر بھی کہا جاتا ہے۔ اس سے KPK مالا مال ہے ٹمبرمافیا KPK میں بہت مضبوط مافیا ہے جو درخت کاٹتا ہے اور فروخت کرتا۔ یہ درخت جن کی لکڑی عمارتوں میں استعمال ہوتی ہے کم وبیش 70 سے لے کر 80سال کا درخت قابل استعمال ہوتا ہے۔ جبکہ بلین ٹری سونامی 4سال بعد سوشل میڈیا پر KPK کو امیر بنانے کے خواب دکھاتا ہے جس کا حقیقت کے ساتھ دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ صرف عوام کی نظروں میں دھول جھونک کر ٹمبر مافیا پر پردہ ڈالنے کی ایک تشہیری مہم ہے۔ KPK میں قیمتی ٹمبر چوری کرنے کو قانونی حفاظت دی گئی ہے۔ ذرا غور فرمائیے۔۔۔۔

آپ 100 روپے کی لکڑی چوری کریں اگر یہ چوری پکڑی جاتی ہے تو 40 روپے کی لکڑی KPK حکومت کو دیں۔ باقی 60 روپے کی لکڑی پر ٹیکس جمع کروائیں اور دھڑلے سے یہ لکڑی بیچیں آپ کو کوئی لکڑی چور نہ کہے گا۔ جی ہاں یہ KPK میں قانون ہے جسے انڈس پالیسی کہا جاتا ہے۔ ہو کچھ یوں رہا ہے کہ 100 کی چوری ظاہر کی جاتی ہے اور اس کی رسید پر 100 بار لکڑی بیچی جاتی ہے۔ جس کی مالیت اربوں روپے ماہانہ بنتی ہے۔ کوئی الیکٹرانک میڈیا آپ کو یہ نہیں بتائے گا۔ اور اس پر بلین ٹری سونامی کا شوشہ پردہ داری کا بہترین انتظام ہے۔

کرک کی طرف آئیے جہاں آئل فیلڈ سے کروڈ آئل نکالا جاتا ہے۔ جس کی رائلٹی وہاں کی مقامی آبادی کو دی جاتی ہے۔ مگر کرک کی مقامی آبادی کی بدحالی اس رائیلٹی کو طاقتوروں کے ہڑپ کرنے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کرک میں پانی کا ایک ٹیوب ویل 17 سے اٹھارہ لاکھ میں لگتا ہے۔ جبکہ کاغذوں میں اس کی لاگت پچاس 50لاکھ لکھ کر باقی ہڑپ کیا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں کرک کے MPA گل صاحب کے نوعمر بھائی کی فوٹو سوشل میڈیا کی زینت بنی تھی۔ جس میں وہ بیڈ پر نوٹ بچھا کر بیٹھا ہے۔ کرک PK40 کے ایم پی اے حاجی گل صاحب کی الیکشن کمپین جس شخص نے چلائی تھی اس کو ایک قیمتی گاڑی دے کر غیرسیاسی پولیس کا SHO لگایا ہوا ہے۔ کرک میں مول کمپنی کے ساتھ مل کر اربوں روپے کا کروڈ آئل چوری کا معاملہ سامنے آیا مگر اس پر کچھ بھی نہ ہوا۔ کیونکہ قانون FIR پر ہی آگے بڑھتا ہے۔ ذرا لطف اندوز ہوں کہ ان کا یہ SHO اربوں روپے کے کروڈ آئل کے معاملے کو دبا سکتا ہے جبکہ ان کے سرپرست وزیراعظم پاکستان کو 10 ہزار درھم تنخواہ نہ لینے پر ہٹا سکتے ہیں۔

دوستو۔۔۔
سرکاری ٹھیکوں سے کمیشن کی چوری پر انتہائی احمقانہ طریقے سے KPK حکومت کا اقرار اس وقت سامنے آیا جب عائشہ گلالئی پر خود انھوں نے کمشن لینے کا الزام لگایا۔ خیبرPK کے احتساب کمیشن کے سربراہ کی حقیقت آپ کو اگلی قسط میں بتائی جائے گی۔ فی الحال آپ کو اس سربراہ جنرل حامد کا بیان یاد کروایا جا رہا ہے۔
"خیبرپختونخوا میں 100 روپے ترقیاتی فنڈ سے 60 روپے کرپشن ہو رہی ہے۔ جنرل ریٹائرڈ حامد خان"

اب سنئیے کہ اس جنرل ریٹائرڈ حامد خان نے کیا کیا اور اس کے ساتھ کیا ہوا۔ تبدیلی کے نام پر عمران نیازی نے سب سے خوبصورت نعرہ جو لگایا تھا وہ تھا "میں نوے دن میں کرپشن کا خاتمہ کروں گا"۔ طالبان کی مہربانی سے عمران نیازی کی پارٹی کو خیبرPK میں اکثریت مل گئی تو اس نعرے کو عملی جامہ پہنانے کا معاملہ درپیش آیا۔ 90 دن کی بجائے کافی وقت کے بعد کرپشن کے خاتمے کے لئے عمران نیازی نے خیبرPK میں احتساب کمیشن کے نام سے ایک ادارہ بنا دیا۔ جیسا کہ سب کو پتہ ہے کہ عمران نیازی اپنے پرائیویٹ اداروں اور پارٹی تک میں اعلیٰ عہدوں پر صرف اپنے دوست ہی رکھتا ہے۔ اسی طرح "خٰیبرPKاحتساب کمیشن" کے سربراہ کے لئے بھی عمران نیازی نے اپنے دیرینہ دوست ریٹائرڈ جنرل حامد خان کا انتخاب کیا۔ عمران نیازی کی بدقسمتی یہ ہوئی کہ عمران نیازی کا یہ دوست جنرل حامد خاں اسکے باقی دوستوں جیسا بےایمان نہ نکلا۔

جنرل حامد خان نے جب "احتساب کمیشن"کا انتظام سنبھالا تو وہ ششدر رہ گیا۔ اور اس کا پہلا شہرہ آفاق بیان آیا کہ خیبر پختونخوا میں تو کرپشن کی انتہا ہی نہیں ہے یہاں تو 100 روپے کے کام میں 60 روپے کمیشن لیا جا رہا ہے۔ اور بہت بڑے پیمانے پر ہرکوئی کرپشن کی گنگا میں نہا رہا ہے۔
جنرل حامد خان نے دن رات ایک کرکے تفتیش شروع کر دئیے اس کی تفتیش نے اسے ظاہر کر دیا کہ KPK میں وزیراعلیٰ اسکی کابینہ حتیٰ کہ صوبائی اسپیکر اور اعلیٰ بیورکریسی اس میں ملوث ہے۔ جنرل حامد خان نے تقریباً پرویزخٹک کی پوری کی پوری کابینہ اور بیوروکریسی جو اسدعمر اور جہانگیر کی نگرانی میں کرپشن کر رہی ہے کے خلاف ثبوت اکٹھے کر لئے جب ابھی ایک ہی مچھلی پر ہاتھ ڈالا تو جہانگیر ترین پرویزخٹک اور اس کی پوری کابینہ بمعہ ٹاپ بیوروکریسی کے عمران نیازی کے پاس بنی گالا آگئی۔ اور اسے کہا کہ تم نے یہ کیا مصیبت ہم پر نازل کی ہے۔ سب کی بپتا سن کر عمران نیازی نے جنرل حامدخان کو سمجھانے اور ہتھ ہولا رکھنے کا کہا مگر جنرل حامد نے جنٹلمین سوری کہہ کر جواب دے دیا اور اپنے فرض پر قائم رہنے کا فیصلہ سنا دیا جس کے بعد ان کے قانونی مشیروں نے مشورہ دیا کہ آئینی ترمیم کرکے جنرل حامد خان کے اختیار کم کئے جائیں۔ ان کے پاس آئنی ترمیم کے لئے مطلوبہ تعداد نہ تھی۔ جس کو پورا کرنے کے لئے شیرپاو گروپ سے رابطہ کیا گیا۔ مگر شیرپاو نے عمران خان کے سب سے بڑا چور کہنے کے الفاظ یاد کروائے۔ عمران خان نے اپنے کنٹینر پر کہے الفاظ کی معافی مانگ لی جسے شیرپاو نے تسلیم نہ کیا اور کہا کہ جرگہ بنا کر معافی مانگی جائے تاکہ سب کو پتہ چلا کہ نیازی نے معافی مانگی ہے۔ تھوک کر چاٹنے کے عادی عمران نیازی نے جرگے کے سامنے معافی مانگی تب جاکر یہ KPK اسمبلی میں ترمیم کرنے کے قابل ہوئے۔ اس ترمیم کے بعد ""خیبرPKاحتساب کمیشن"" غیرموثر ہو کر رہ گیا بلکہ کرپشن کو KPK میں قانونی شیلٹر میسر آگیا۔ 90 دن کے لئے KPK میں کرپشن چھپا لو۔ اس کے بعد سرعام پھرو کیونکہ 90 دن کے بعد اس کرپشن پر احتساب کمیشن کو کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔ یاد رکھیں اگر نیازی کا یہی فارمولہ سارے ملک پر اپلائی کیاجائے تو پھر ملک میں کرپشن کا ایک بھی کیس نہ رہے۔

مزید نئی کرپشن پر کارروائی پر لگام ڈالنے کے لئے احتساب کمیشن کو پابند کردیا کہ وہ کسی بھی حکومتی عہدیدار یا بیوروکریسی کے افسر کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے وزیراعلیٰ KPK یا اسپیکر اسدقیصر سے اجازت لیں۔ یہ دیکھ کر جنرل حامد خان نے گورنر KPK کو اپنا استعفیٰ دے دیا اور ایک کاپی عمران نیازی کی سنڈ کردی۔ احتساب کمیشن پر تالے لگے ہیں اور یوں پھر سے دھڑلے کے ساتھ KPK میں کرپشن کا کاروبار بغیرخوف و خطر جاری ہے۔

میڈیا تو ان کے ساتھ ہے ہی لہزا جب کوئی ان کی کرپشن پر آواز اٹھائے تو اس پر الزام اور گالی گلوچ کا سلسلہ شروع کردیا جاتا ہے۔

Thursday, May 31, 2018

پانی کا بحران

پاکستان میں پانی کے موجودہ بحران کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں ایک تجویز آتی ہے کہ پاکستان کے پاس پانی کا عظیم ذخیرہ سمندر کی صورت میں موجود ہے جس سے ہم فائدہ نہیں اٹھا رہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے سمندر کے پانی کو پینے کے قابل بنانے کے کارخانے لگا رکھے ہیں اور پانی کے بحران کا مسئلہ حل کیا ہوا ہے۔

مگر اس کے ساتھ ہی میرے ذہن نے یہ بھی سوچا کہ ایسے کارخانے پاکستان میں لگائے گا کون؟ پاکستانی قوم کا تو یہ حال ہے کہ جنہوں نے خالصتان پروجیکٹ کو سبوتاژ کرکے پاکستان کو بجلی اور پانی کے بحران میں مبتلا کیا، انہیں پسند کرتی ہے اور دوبارہ ان کے اقتدار میں آنے کی خواہش کرتی ہے۔ اس کے برعکس جنہوں نے بجلی کی پیداوار کے متبادل منصوبوں پہ کام کرکے پاکستان کو اس بحران سے نکالنے کی کوشش کی اور اس کے لئے کارخانے لگائے، انہیں غدار قرار دیتے یہ قوم نہیں تھکتی۔

اگر پاکستان میں سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کے کارخانے کوئی لگا سکتا ہے تو صرف اور صرف میاں محمد نوازشریف اور میاں محمد شہبازشریف ہیں کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ ان کے علاوہ کسی حکمران نے پاکستان میں کارخانے، انڈسٹری اور معیشت کے فروغ کے لئے کام نہیں کیا۔ لیکن اس کام کے لئے ان کا اقتدار میں ہونا اور "بااختیار اقتدار" میں ہونا بہت ضروری ہے۔

اگر ہم اسی طرح اپنے محسنوں کو کرپٹ اور غدار قرار دیتے رہے تو ہم اپنی نسلوں کو اس انجام سے ہرگز نہیں بچا سکیں گے جو آج ایتھوپیا کے بچوں کا نظر آتا ہے۔ ذرا تصور تو کیجئے کہ آپ کا بچہ بھوکا پیاسا ننگ دھڑنگ سوکھی روٹی کے ایک لقمے کی تلاش میں زمین پہ گھسٹ رہا ہو اور کوئی گدھ چند فیٹ کے فاصلے پہ بیٹھا اس کے مرنے کا انتظار کررہا ہو۔ کیا یہ تصویر قابل برداشت ہے؟ سنا ہے کہ جس شخص نے یہ تصویر بنائی تھی اس نے بعد میں خودکشی کرلی تھی۔ کیا ہمارا ضمیر بھی اس فوٹوگرافر کے ساتھ ہی مرگیا تھا؟

(پاکستانی شیر)

Wednesday, May 30, 2018

بجلی اور پانی کی کمی

مشرف کے دور میں انڈس واٹر کمیشن میں خلائی مخلوق کا ایک بندہ بیٹھا تھا جس نے مشرف کی رضامندی سے انڈیا کو 52 ڈیموں کا این او سی جاری کر دیا، اپنا بریف کیس لیا اپنے بیوی بچوں کو ساتھ لیا اور آج امریکہ میں بیٹھا کروڑوں ڈالروں میں کھیل رہا ہے عیش کر رہا ہے بیوقوف پاکستانی قوم کا منھ چڑا رہا ہے۔ انڈیا جب بھی نیا ڈیم شروع کرتا ہے پاکستان انڈس واٹر ٹریٹی کے گارنٹر ورلڈ بینک کے پاس جاتا ہے تب انڈیا پاکستان کا جاری کیا گیا NOC دکھاتا ہے, بس پھر پاکستان اپنا سا منھ لے کر واپس آجاتا ہے۔

آج دنیا کی ہر خرابی کی طرح پاکستان میں پانی کی کمی کا ذمہ دار بھی نواز شریف کو ہی ٹھرا کر لمبی لمبی تحریریں گھڑی جارہی ہیں مگر معاملے کی بنیاد کی طرف کوئی بھی نہیں جانا چاہتا۔ سب کو پتہ ہے کہ جب اصل حقائق سامنے ائیں گے تو بےنظیر بھٹو، اعتزاز احسن اور مشرف ذمہ دار بنتے ہیں۔ کہاں تھے وہ محب وطن افراد جب بےنظیر اور اعتزاز احسن پشاور میں خالصتان تحریک سے متعلق دستاویزات راجیو گاندھی کے حوالے کررہے تھے؟ کیا انہیں اس وقت یہ غداری نظر نہیں آئی؟ ان کی حب الوطنی اس وقت کہاں مرگئی تھی؟ کہاں تھی ان کی حب الوطنی جب ایک چھوٹے محب وطن نے بڑے محب وطن کی منظوری سے بھارت کو این او سی جاری کیا تھا۔ اب نوازشریف کیا کرے۔ وہ جب بھی پاکستان کا مقدمہ عالمی عدالت میں لےجاتا ہے تو اسے ایک عظیم محب وطن کا جاری کیا ہوا این او سی دکھا دیا جاتا ہے۔

جب آپ کے دریاوں میں پانی نہیں آئے گا تو بجلی کیسے بنے گی۔ بجلی بنانے کے متبادل ذرائع پہ نوازشریف سے پہلے کس نے کام کیا؟ کوئی ایک نام تو بتائیں میرا منہ بند کرنے کے لئے۔ نوازشریف پہلا حکمران ہے جس نے بجلی کی پیداوار کے متبادل منصوبوں پہ کام کا آغاز کیا اور لوڈشیڈنگ کو 20 گھنٹے سے گھٹا کن 4/5 گھنٹے پہ لایا مگر یہ ناشکری قوم پھر بھی گھنٹے گن گن کر اسے گالیاں دینے کو جواز ڈھونڈ رہی ہے۔ شاید ایسے لوگوں کی نظر میں اس کام کا ثواب روزے سے بھی زیادہ ہوگا۔