Saturday, June 26, 2021

نوازشریف ‏کے ‏35 ‏سال

‏نواز شریف کی 35 سال کی حکمرانی کی ایک جھلک اہل یوتھ شرمندہ نہ ہوں 
۔۔۔اسکندر مرزا 
چوتھے گورنر جنرل پاکستان
مدت منصب 
6 اکتوبر 1955 سے 27 اکتوبر 1958 تک 
اقتدار کی مدت معیاد 3 سال 21 دن 
جنرل ایوب خان 
دوسرے صدر پاکستان
مدت منصب
27 اکتوبر 1958 سے 25 مارچ 1969 تک 
مدت اقتدار 10‏سال 4 ماہ اور 28 دن 

یحیی خان
تیسرے صدر پاکستان
مدت منصب
25 مارچ 1969 سے 20 دسمبر 1971 تک 
مدت اقتدار 
2 سال 9 ماہ اور 25 دن 

ضیاالحق 
چھٹے صدر پاکستان
مدت منصب
16 ستمبر 1978 سے 17 اگست 1988 تک
مدت اقتدار 
9 سال 11 ماہ 1 دن 

جنرل پرویز مشرف

12 اکتوبر 1999 سے 18 اگست 2008 تک‏ مدت اقتدار 
9 سال 10 ماہ 6 دن 
یہ تمام کے تمام جمعوریت کے چمپیئن تھے
72 سالوں میں 
جن سب کا ملا کر 
مدت اقتدار
36 سال 6 ماہ اور 7 دن 
بنتا ہے 
اب پیچھے باقی بچے 34 سال 5 ماہ اور 23 دن 
جس میں قائد اعظم کی حکومت بھی نواز شریف نے کی 
لیاقت علی خان کا دور حکومت بھی نواز شریف کا‏المختصر 1947 سے 1955 تک نواز شریف صاحب اقتدار تھا 
1972 سے 5 جولائی 1977 کو بھی نواز شریف کی حکومت تھی
1988 سے 1990 میں بے نظیر کی جگہ بھی نواز شریف کی حکومت تھی 
نگران حکومت کا وزیر اعظم معین قریشی ہو مصطفی جتوئی ہو یا کوئی بھی وہ بھی نوازشریف ہی کی حکومت تھی‏2008 سے 2013 تک زرداری نہیں بلکہ نواز کی حکومت تھی 25 جولائی 2018 سے اب تک نواز ہی کی حکومت ہے 
۔۔۔۔
سچ تو یہ ہے کہ 
نواز شریف کا دور اقتدار 
6 نومبر 1990 سے 18 اپریل 1993 تک
2 سال 6 ماہ اور 12 دن 
دوسرا دور اقتدار 
17 فروری 1997 سے 12 اکتوبر 1999 تک 
2 سال 7 ماہ 29 دن 
اور‏تیسرا دور اقتدار
5 جون 2013 سے 
28 جولائی 2017 تک 
جو کہ 4 سال 1 ماہ اور 23 دن بنتا ہے 
جو کہ سبھی دور اقتدار کو ملا کر 
 9 سال 3 ماہ اور 12 دن بنتے ہیں 
ان 9 سال 3 ماہ اور 12 دن میں ملک بھر میں موٹرویز کا جال۔۔۔ایٹمی دھماکے۔۔۔
جے ایف 17۔۔۔۔ میٹروز ۔۔۔ اورنج ٹرین۔۔
ہاسپٹلز۔۔‏کالجز ۔۔۔یونیورسٹیز۔۔۔ نیو ائیرپورٹس۔۔ چشمہ ایٹمی بجلی گھر۔۔۔ تھر کول پاور پلانٹ 
قائد اعظم سولر پراجیکٹ۔۔۔ نیلم جہلم ہائڈرل پاور پروجیکٹ۔۔معیشت کی بحالی۔۔۔ امن و امان کی بحالئ اور دھشت گردگی کے خلاف جنگ۔۔روشن پاکستان
نجانے کیا کیا پرانے پاکستان کو دے گئے. 

Tuesday, June 15, 2021

سیاستدانوں ‏کے ‏اخراجات

میں اس تحریر سے بالکل بھی متفق نہیں ہوں کیونکہ ایسی پوسٹیں *پاپوشنگر* سے گھڑ گھڑ کر پھیلائی جاتی ہیں تاکہ عوام میں جمہوریت کو بدنام کیا جائے اور آمریت کے حق میں رائے عامہ ہموار کی جاسکے.

ایک طرف تو آپ یہ بھی برداشت نہیں کرتے کہ سیاسی لوگوں کا (خواہ وہ کسی بھی سطح کے ہوں) کوئی ذاتی کاروبار ہو. اگر وہ ملازمت میں ہوں تو وہ سیاست میں نہیں رہ سکتے. اور پھر آپ انہیں اسمبلی میں خدمات انجام دینے کے معاوضے کے بھی مخالف ہیں. پھر ان کا ذریعہ آمدن ہونا کیا چاہیے؟

اگر اینٹائٹلمنٹ (entitlements) بند کرنی ہیں تو ہر بلا تخصیص ہر سطح پہ بند ہونگی، خواہ وہ سیاستدان ہوں، یا *کسی بھی* محکمے کے سرکاری افسران و ملازمین ہوں. 

یاد رکھیں، ہمارے نمائندے یہی سیاستدان ہیں. انہوں نے ہی ہمارے مفادات کا تحفظ کرنا ہے اور انہوں نے ووٹ مانگنے ہمارے پاس ہی آنا ہے. جو لوگ بزور اسلحہ ہم پہ مسلط ہوجائیں، وہ ہمارے نمائندے نہیں بلکہ آقا بن کر آتے ہیں. بزور اسلحہ تو ہمارے گھروں میں ڈاکو بھی گھس جاتے ہیں، ایسے لوگ کسی صورت میں ہمیں قابل قبول نہیں ہیں.

عوامی نمائندوں کے حوالے سے ہمارے پاس یہ آپشن موجود رہتا ہے کہ اگر انہوں نے ایک مدت کے دوران خراب کارگردگی دکھائی ہو، تو اگلی بار انہیں ووٹ نہ دیا جائے (بشرطیکہ کہ انہیں مدت پوری کرنے کا موقع ملے). لیکن بزور اسلحہ آنے والوں کے سامنے عوام مکمل طور پہ بےبس ہوتے ہیں.

ایک بات پتھر پہ لکیر ہے کہ بیرونی ممالک کے بنکوں میں پڑے جس 200 ارب کا ڈھندورا عمران خان کنٹینر پہ کھڑا ہو کر پانچ سال پیٹتا رہا ہے، اگر وہ سیاستدانوں کے ہوتے تو عمران خان کبھی بھی اس کیس کو بند نہ کرتا.