Sunday, July 25, 2021

پاکستان ‏کے ‏لیے ‏قربانیاں ‏دینے ‏والے ‏خاندان

پاکستان کے لیے قربانیاں دینے والےخاندان
محمود شام
 25 جولائی ، 2021


 
آج اتوار ہے۔ بیٹوں بیٹیوں۔ پوتوں پوتیوں۔ نواسوں نواسیوں سے ملنے ملانے کا دن۔ کہئے عید کیسی گزری۔ کووڈ19 میں آنے والی دوسری عیدِ قرباں۔ ﷲ تعالیٰ سے التجا ہے کہ اب اس وبا سے انسانیت کو نجات عطا فرما۔ کتنی جانیں اس کی نذر ہوچکی ہیں۔ ملکوں کی معیشت برباد ہوچکی ۔ ﷲ تعالیٰ کا نائب انسان بہت دل گرفتہ ہے۔ مستقبل کی منصوبہ بندی اطمینان سے نہیں کرپارہا ۔آج اپنے گھر والوں، اولادوں کے ساتھ آنے والے دنوں کی باتیں کریں۔ ہم جس خطّے میں رہتے ہیں یہاں زندگی آسان نہیں ہے۔ بہت مشکلات ہیں۔ ہم بنیادی مسائل بھی حل نہیں کر پائے۔ دنیا والے خلا کا سفر شروع کرچکے ہیں۔ ایک امیر ترین امریکی خلا کو کامیابی سے ہاتھ لگاکر زمین پر واپس آچکے ہیں۔ اب دولت مندوں کی دوڑ لگ جائے گی خلا نوردی کے لئے۔

آپ کو یاد ہے ہم نے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم شہید ملت لیاقت علی خان کے صاحبزادے اکبر لیاقت علی کی علالت کی جانب قوم کی توجہ دلائی تھی۔ ﷲ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ یہ تحریر اس خاندان ، عوام اور حکمرانوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنی۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب ان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور حکومتِ سندھ کی طرف سے مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ بہت سے درد مند پاکستانیوں نے انہیں فون بھی کیے۔ پھول بھی بھجوائے۔ بیگم اکبر لیاقت ان سب خواتین و حضرات کا شکریہ ادا کررہی ہیں۔ صدر مملکت جناب عارف علوی بھی جمعہ کے روز اکبر میاں کی مزاج پرسی کیلئے تشریف لائے۔

14اگست قریب آرہی ہے۔ پاکستان ہماری جان آزادی کے 74سال گزار کر 75ویں سال میں داخل ہوجائے گا۔ہم ان کالموں میں گزارش کرتے آرہے ہیں کہ اپنی تمام مایوسیوں ناکامیوں کے باوجود ہمیں ڈائمنڈ جوبلی منانی چاہئے۔ ہم اپنے 75سال کا تجزیہ کریں۔ یونیورسٹیاں تحقیقی ادارے ان برسوں میں اپنی کامیابیوں۔ ناکامیوں کے اسباب تلاش کریں۔ ہماری محرومیاں، پسماندگی حقیقت ہیں۔ ہم ترقی یافتہ ممالک سے یقیناً کئی سال پیچھے ہیں۔ لیکن اس پسماندگی کو دور بھی ہمیں ہی کرنا ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں اپنے محسنوں کو یاد کرنا چاہئے جنہوں نے ہمیں انگریز سے نجات دلائی اور ایک آزاد خودمختار ملک کا شہری بننے کا شرف دلوایا۔ اس آزاد سر زمین میں ہماری کم از کم 3نسلیں تو ہوچکی ہیں۔ اکبر لیاقت علی خان کی علالت پر تحریر نے پورے ملک میں پاکستان کے اوائل کی یادیں تازہ کردی ہیں۔ بہت سے قارئین کا اصرار ہے کہ ہم بانیان پاکستان کے خاندانوں کو یاد کریں۔ دیکھیں کہ ان پر کیا گزری۔ ان میں سے کتنے معاشی طور پر آسودہ ہیں۔ کتنے نا انصافیوں کا شکار ہیں؟

میں تو اپنی یادداشت کو بنیاد بناکر کچھ شخصیتوں کا حوالہ دوں گا۔ یونیورسٹیاں تو باقاعدہ تحقیق کرسکتی ہیں۔ ابھی کچھ لوگ ہوں گے جو تحریکِ پاکستان میں لڑکپن اور جوانی میں حصّہ لے چکے ہوں گے۔ بانیان پاکستان صرف وہ نہیں ہیں جو ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے۔ مشرقی اور مغربی پاکستان میں پہلے سے رہنے والے کئی خاندان بھی تحریک پاکستان میں بہت سرگرم رہے ہیں۔ جب مہاجرین اپنے خوابوں کی سر زمیں پر پہنچے تو ان گھرانوں نے ان کا استقبال کیا۔ اپنے گھروں اور دلوں کے دروازے ان کے لئے کھول دیے۔ 1947 سے 1951 تک اخبارات میں ان کے نام نمایاں ہوتے تھے۔ ان کی خدمات کو اس 75ویں سال میں خراج تحسین پیش کرنا چاہئے۔ ان کے ورثا کو تلاش کرکے ان کو ایوارڈز دیے جائیں۔

اگست 2021سے اگست 2022کے دوران ان سب کو یاد کرنا۔ نئی نسل کو ان سے ان کی قربانیوں سے متعارف کروانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ سندھ میں مجھے پیر الٰہی بخش یاد آتے ہیں۔ جی ایم سید، قاضی محمد اکبر، قاضی عبدالمجید عابد۔ ہجرت کرکے آنے والوں میں مولانا عبدالحامد بدایونی، حسین امام، چوہدری خلیق الزماں، راجہ صاحب محمود آباد، نواب صدیق علی خان، شہزادی عابدہ سلطان، محمود الحق عثمانی، نورا لصباح بیگم، مرزا ابوالحسن اصفہانی، سیٹھ احمد دائود،حسن اے شیخ۔ سندھ سے ہی آغا غلام نبی پٹھان، ایم اے کھوڑو، عبدالستارپیرزادہ،محمد ہاشم گزدر،مولانا حشام الحق تھانوی، پیر محفوظ، سردار امیر اعظم۔پنجاب میں میاں ممتاز دولتانہ،میاں افتخار الدین،صوفی عبدالحمید ،میجر اسحاق، عبدالحمید دستی، مولانا محمد بخش مسلم، مولانا علائو الدین صدیقی۔ پشاور سے عبدالرب نشتر، خان عبدالقیوم ، پیر صاحب مانکی شریف، یوسف خٹک۔ کوئٹہ سے میر جعفر خان جمالی، قاضی محمد عیسیٰ، امان ﷲ گچکی، نواب محمد اکبر بگٹی، خان آف قلات۔

ماہرین تعلیم اشتیاق حسین قریشی، ڈاکٹر محمود حسین، ڈاکٹر رضی الدین صدیقی، علامہ آئی آئی قاضی، پیر حسام الدین راشدی۔ اے ایم قریشی۔ سینکڑوں بلکہ ہزاروں نام تھے۔ جو آپ اپنے اپنے شہر میں جانتے ہوں گے۔ بہت عظیم ہستیاں تھیں۔ جو ایک نئے ملک کے مسائل اور وسائل سے آگاہ تھیں۔ اس آگہی کی روشنی میں اپنے اپنے علاقے میں انہوں نے قیام پاکستان کے لئے کوششیں کیں۔ جمہوریت کی بحالی اپنے حقوق کے حصول۔ محنت کشوں کے تحفظ کے لئے بشیر احمد بختیار یاد آتے ہیں۔ امیر دادا، مرزا ابراہیم، سی آر اسلم، شمیر واسطی، نبی احمد، ایس پی لودھی، عثمان بلوچ، واحد بشیر، علی امجد، منہاج برنا، حبیب جالب۔ مرکزی قیادتوں کی طاقت مختلف صوبوں اور شہروں کی قیادتیں ہوتی تھیں۔ تحریک نظام مصطفیٰ، تحریک بحالی جمہوریت، پروفیسر غفور احمد، مولانا شاہ احمد نورانی، شاہ فرید الحق، نوابزادہ نصر ﷲ خان، خان عبدالولی خان تو مرکزی قیادتیں تھیں۔ زین العابدین، علائو الدین عباسی، مشیر احمد پیش امام، رسول بخش پلیجو، فاضل راہو۔ کیسے بھول سکتے ہیں عابد زبیری کو۔

یہ سب وہ درد مند انسان تھے۔ عظیم پاکستانی جنہوں نے اس ملک کی بنیادیں مستحکم کیں۔ معاشرے کو تعصبات سے آزاد کرنے کی جدو جہد کی۔ آئیے جاننے کی کوشش کریں کہ ان کے ساتھی کون کون تھے۔ مختلف شہروں میں یہی بے لوث خدمات کون انجام دے رہے تھے۔ تاریخ پاکستان ان کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہے۔

Wednesday, July 21, 2021

فوج ‏کے ‏کارنامے

_____________________

فوج ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔ !!
ﻓﻮﺝنہیں ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﺒﺎﺋﻞ نے ﻟﮍ ﮐﺮ کشمیر ﮐﻮ آزاد ﮐرالیا۔ !!
ﻓﻮﺝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮏ ﭨﻮﭦ ﮔﯿﺎ ‏( 1971 ‏) ۔ !!
ﻓﻮﺝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﺭﮔﻞ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ !!
ﻓﻮﺝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺎﭼﻦ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ !!
فوج تھی اور مودی نے مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرلیا اور جرنیل یہاں سینٹ چیئرمین کا الیکشن مینج کرتے رھے۔!!
ﻓﻮﺝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺮیکی فوجیﮔﮭﺲ ﮐﮯ ﺍﺳﺎﻣﮧ ﺑﻦ ﻻﺩﻥ ﮐﻮ مار ﮐﺮ اٹھا لےگیا اور یہ سوتے رہ گئے۔ !!
ﻓﻮﺝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺭیمنڈ ﮈﯾﻮﺱ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ بھجوا دیا ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻋﻮﺍﻡ ﻗﺘﻞ ﮐﺌﮯ ﺗﮭﮯ !!
ﻓﻮﺝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﻧﻞ ﺟﻮﺯﻑ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ !!
ﻓﻮﺝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻓﯿﮧ ﺻﺪﯾﻘﯽ ﮐﻮ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﺑﯿﭽﺎ ﮔﯿﺎ۔ !!
ﻓﻮﺝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﮨﺸﺘﮕﺮﺩﯼ ﻣﯿﮟ 1 ﻻﮐﮫ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﻮﺍﻡ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﺋﮯ
ﻓﻮﺝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﻭ ﺍﻧﻮﺭ ﻧﮯ 444 ﭘﺨﺘﻮﻧﻮ ﮐﻮ ﺟﻌﻠﯽ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺭ ﺩﺋﮯ
ﻓﻮﺝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﻭﯾﺰ ﻣﺸﺮﻑ ﻧﮯ 4000 ﮨﺰﺍﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯿﻮں ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ کی ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺑﯿﭻ ﺩیا
ﻓﻮﺝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ APS ﺳﮑﻮﻝ ﭘﺮ ان کی سخت سیکورٹی تھی ﻣﮕﺮ 150 ﺑﭽﮯ ﺍﻧﮑﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺭﮮ ﮔﺌﮯ۔
ﻓﻮﺝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ بین الاقوامی حدود کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ﻗﺒﺎﺋﻞ ﭘﺮ ﮈﺭﻭﻥ ﺳﮯ میزائل ﺑﺮﺳﺎتا رھا۔!
ﻓﻮﺝ ﻧﮯ ﮈﺍﻟﺮﻭں ﮐﮯ ﻋﻮﺽ غیرت مند ﻗﺒﺎﺋﻞ ﮐﻮ ﺩﺭﺑﺪﺭ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻭں ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺭﮐﯿﭩﻮں ﮐﻮ ملیاﻣﯿﭧ ﮐﺮ ﺩیا
ﻓﻮﺝ نے ﺩھﺸﺖ ﮔﺮﺩ بنائے اور ان کی ملک دشمن ﭘﺎﻟﺴﯿﻮں ﮐﯽ ﻭﺟﮧ سے ﭘﺎﮐﺴﺘﺎنی ﻣﻌﯿﺸﺖ کو ناقابل تلافی نقصان ہوا لیکن جرنیل اربوں پتی ھوگئے اور تاحال ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی طرف سے صرف گزشتہ دھائی میں دی گئی 33ارب ڈالرز یا قریبا ساٹھ کھرب روپے کی فوجی امداد کا حساب مانگ رھا ھے۔
ﻓﻮﺝ ﮐﯽ ﺩھﺸﺖ ﮔﺮﺩ نواز ﭘﺎﻟﺴﯿﻮں ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺳﺎﺭﮮ ھﻤﺴﺎﯾﮧ ﻣﻤﺎﻟﮏ کے ﺴﺎﺗﮫ ھمارے ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﺧﺮﺍﺏ ھیں
ﻓﻮﺝ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺎﺗﺤﺖ ﺍﺩﺍﺭﻭں ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﺍﻭﺭ KPK FATA ﮐﮯ ﮨﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﻻشیں ملیں ﯾﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻨﺪﮦ ﻻ ﭘﺘﮧ ھﮯ
ﻓﻮﺝ ﮐﯽ ﻣﺪﺍﺧﻠﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﻠﮏ ﮐی ﻋﺪﻟﯿﮧ، ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﻨﭧ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺍﺩﺍﺭﮮ ﺻﺮﻑ ﻧﺎﻡ ﮐﮯ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ھیں ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻭﻏﯿﺮﮦ

ﺍﺏ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﺎ ھﮯ ﮐﮧ ﻓﻮﺝ نہ ﺭﮨﯽ ﺗﻮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭھے ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﭼﮭﺘﺮﻭﻝ ﺯﯾﺘﻮﻥ ﮐﮯ ﺗﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﻟﺘﺮ ﺑﮭﮕﻮ ﮐﺮ ﮐﯿﺠﯿﺌﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﺳﮯ ﺑﻮﭦ ﭘﺎﻟﺸﯽ ﮐﺎ ﮐﯿﮍﺍ ﺑﺎﮨﺮ آجائے

نوٹ: اس وقت ملک کے وزیراعظم کی تنخواہ 2لاکھ
اور اس کے اسسٹنٹ عاصم باجوہ کی تنخواہ 45لاکھ
جبکہ عاصم باجوہ کے مشیر کی تنخواہ 15لاکھ ھے
جرنیلوں کو نوازنے کے لیے نئے نئے عہدے تخلیق کئے جا رھے ہیں۔ آپ نے آج تک ڈی جی ریلوے کا عہدہ نہیں دیکھا ہوگا لیکن آج وہ بھی بنا دیا گیا اور ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر کو تعینات بھی کردیا گیا یقینا اسکی تنخواہ شیخ رشید سے زیادہ ہو گی۔ آج تقریباً ھر بڑی اور اتھارٹی والی سول پوسٹ پر کوئی فوجی افسر براجمان ھے۔ یہ جرنیل سارا بجٹ ھڑپ کرکے آڈٹ کروانا بھی مناسب نہیں سمجھتے۔ کیوں؟

لیکن یہاں 70سال سے قوم کو جھوٹ یہ پڑھایا گیا کہ سیاستدان ملک کھا گئے۔۔۔ مرحومہ عاصمہ جہانگیر نے درست کہا تھا کہ جس دن جرنیلوں کی کرپشن بے نقاب ہو گئی یہ بےاختیار سیاستدان بیچارے آپ کو فرشتے لگیں گے😜😜😜 ویسے کوئی ان جرنیلوں سے پوچھے بھلا یہ تغمےکشمیر آزاد کرانےکےھیں یا پاکستان کو فتح کرنےکے؟⁦🇵🇰⁩⁦🇵🇰⁩⁦🇵🇰⁩🤔
(منقول)

اس کا آپکو پتہ تو ہوگا پھر بھی یاداشت تازہ کرنے کے لیئے ۔۔۔۔
پڑھتا جا شرماتا جا😢😷🤔

1955ءمیں کوٹری بیراج کی تکمیل کےبعدگورنرجنرل غلام محمدنےآبپاشی سکیم شروع کی۔4 لاکھ مقامی افراد میں تقسیم کی بجائے یہ افراد زمین کے حقدار پائے:
1:جنرل ایوب خان۔۔500ایکڑ
2:کرنل ضیااللّہ۔۔500ایکڑ
3:کرنل نورالہی۔۔500ایکڑ
4:کرنل اخترحفیظ۔۔500ایکڑ
5:کیپٹن فیروزخان۔۔243ایکڑ
6:میجرعامر۔۔243ایکڑ
7:میجرایوب احمد۔۔500ایکڑ
8:صبح صادق۔۔400ایکڑ
صبح صادق چیف سیکرٹری بھی رھے۔

1962ءمیں دریائےسندھ پرکشمورکےقریب گدوبیراج کی تعمیرمکمل ہوئی۔
اس سےسیراب ہونےوالی زمینیں جن کاریٹ اسوقت5000-10000روپے
ایکڑ تھا۔عسکری حکام نےصرف500روپےایکڑکےحساب سےخریدا۔
گدوبیراج کی زمین اس طرح بٹی:
1:جنرل ایوب خان۔۔247ایکڑ
2:جنرل موسی خان۔۔250ایکڑ
3:جنرل امراؤ خان۔۔246ایکڑ
4:بریگیڈئر سید انور۔۔246ایکڑ
دیگر کئ افسران کو بھی نوازا گیا۔
ایوب خان کےعہدمیں ہی مختلف شخصیات کومختلف بیراجوں پرزمین الاٹ کی گئی۔انکی تفصیل یوں ہے:
1:ملک خدا بخش بچہ 
وزیر زراعت۔۔158ایکڑ
2:خان غلام سرور خان،
وزیرمال۔۔240ایکڑ
3:جنرل حبیب اللّہ
وزیرداخلہ۔۔240ایکڑ
4:این-ایم-عقیلی 
وزیرخزانہ۔۔249ایکڑ
5:بیگم عقیلی۔۔251ایکڑ
6:اخترحسین
گورنر مغربی پاکستان۔۔150ایکڑ
7:ایم-ایم-احمد مشیراقتصادیات۔۔150ایکڑ
8:سیدحسن 
ڈپٹی چیرمین پلاننگ۔۔150ایکڑ
9:نوراللّہ ریلوے انجیئر۔۔150ایکڑ
10:این-اے-قریشی 
چیرمین ریلوے بورڈ۔۔150ایکڑ
11:امیرمحمد خان
سیکرٹری صحت۔۔238ایکڑ
12:ایس-ایم-شریف سیکرٹری تعلیم۔۔239ایکڑ

جن جنرلوں کوزمین الاٹ ہوئی۔انکی تفصیل یوں ہے:
1:جنرل کے-ایم-شیخ۔۔150ایکڑ
2:میجر جنرل اکبرخان۔۔240ایکڑ
3:برئگیڈیر ایف-آر-کلو۔۔240ایکڑ
4:جنرل گل حسن خان۔۔150ایکڑ

گوھر ایوب کےسسرجنرل حبیب اللّہ کوہربیراج پروسیع قطعۂ اراضی الاٹ ہوا۔
جنرل حبیب اللّہ گندھاراکرپشن سکینڈل کےاہم کردارتھے۔

جنرل ایوب نےجن ججزکوزمین الاٹ کی گئ:
1:جسٹس ایس-اے-رحمان 150ایکڑ
2:جسٹس انعام اللّہ خان۔۔240ایکڑ
3:جسٹس محمد داؤد۔۔240ایکڑ
4:جسٹس فیض اللّہ خان۔۔240ایکڑ
5:جسٹس محمد منیر۔۔150ایکڑ
جسٹس منیرکواٹھارہ ہزاری بیراج پربھی زمین الاٹ کی گئی۔اسکےعلاوہ ان پرنوازشات رھیں۔

ایوب خان نےجن پولیس افسران میں زمینیں تقسیم کیں:
1:ملک عطامحمدخان ڈی-آئی-جی 150ایکڑ
2:نجف خان ڈی-آئی-جی۔۔240ایکڑ
3:اللّہ نوازترین۔۔240ایکڑ
نجف خان لیاقت علی قتل کیس کےکردارتھے۔قاتل سیداکبرکوگولی انہوں نےماری تھی۔
اللّہ نوازفاطمہ جناح قتل کیس کی تفتیش کرتےرھے۔

1982میں حکومت پاکستان نےکیٹل فارمنگ سکیم شروع کی۔اسکا مقصد چھوٹے کاشتکاروں کو بھیڑبکریاں پالنےکیلئےزمین الاٹ کرنی تھی۔مگراس سکیم میں گورنرسندھ جنرل صادق عباسی نےسندھ کےجنگلات کی قیمتی زمین240روپےایکڑکےحساب سےمفت بانٹی۔
اس عرصےمیں فوج نےکوٹری،سیھون،ٹھٹھہ،مکلی میں25لاکھ ایکڑزمین خریدی۔

1993میں حکومت نےبہاولپور میں 33866ایکڑزمین فوج کےحوالےکی۔

جون2015میں حکومت سندھ نےجنگلات کی9600ایکڑ قیمتی زمین فوج کےحوالےکی۔24جون2009کوریونیوبورڈ پنجاب کی رپورٹ کےمطابق 62% لیزکی زمین صرف 56 اعلی عسکری افسران میں بانٹی گئی۔ جبکہ انکاحصہ صرف10% تھا۔شایدیہ خبرکہیں شائع نہیں ہوئی۔

2003میں تحصیل صادق آباد کےعلاقےنوازآباد کی2500ایکڑ زمین فوج کےحوالےکی گئی۔یہ زمین مقامی مالکان کی مرضی کےبغیردی گئی۔جس پرسپریم کورٹ میں مقدمہ بھی ہوا۔

اسی طرح پاک نیوی نےکیماڑی ٹاؤن میں واقع مبارک گاؤں کی زمین پرٹریننگ کیمپ کےنام پرحاصل کی۔اس کاکیس چلتارہا۔اب یہ نیول کینٹ کاحصہ ہے۔
2003میں اوکاڑہ فارم کیس شروع ہوا۔
اوکاڑہ فارم کی16627ایکڑ زمین حکومت پنجاب کی ملکیت تھی۔یہ لیزکی جگہ تھی۔1947میں لیزختم ہوئی۔حکومت پنجاب نےاسےکاشتکاروں میں زرعی مقاصدسےتقسیم کیا۔ 2003میں اس پرفوج نےاپناحق ظاھرکیا۔
اسوقت کےڈی۔جیISPRشوکت سلطان کےبقول فوج اپنی ضروریات کیلئےجگہ لےسکتی ہے۔

2003میں سینیٹ میں رپورٹ پیش کی گئی۔جسکےمطابق فوج ملک27ہاؤسنگ سکیمزچلارہی ہے۔ 
اسی عرصےمیں16ایکڑکے 130پلاٹ افسران میں تقسیم کئےگئے۔

فوج کےپاس موجود زمین کی تفصیل:
لاھور۔۔12ہزارایکڑ
کراچی۔۔12ہزارایکڑ
اٹک۔۔3000ایکڑ
ٹیکسلا۔۔2500ایکڑ
پشاور۔۔4000ایکڑ
کوئٹہ۔۔2500ایکڑ
اسکی قیمت 300بلین روپےہے۔
2009میں قومی اسمبلی میں یہ انکشاف ہوا۔

بہاولپورمیں سرحدی علاقےکی زمین380روپےایکڑکےحساب سےجنرلزمیں تقسیم کی گئی۔جنرل سےلیکرکرنل صاحبان تک کل100افسران تھے۔
چندنام یہ ہیں:
پرویزمشرف،جنرل زبیر،جنرل ارشادحسین،جنرل ضرار،جنرل زوالفقارعلی،جنرل سلیم حیدر،جنرل خالدمقبول،ایڈمرل منصورالحق۔

مختلف اعدادوشمارکےمطابق فوج کےپاس ایک کروڑبیس لاکھ ایکڑزمین ہے۔جوملک کےکل رقبےکا12%ہے۔

سترلاکھ ایکڑکی قیمت700ارب روپےہے۔

ایک لاکھ ایکڑکمرشل مقاصدکیلئےاستعمال ہورہی ہے۔جسکو کئی ادارےجن میں فوجی فاؤنڈیشن،بحریہ فاؤنڈیشن،آرمی ویلفیئرٹرسٹ استعمال کررھےہیں۔

نیز بےنظیر بھٹو نے بیک جنبشِ قلم جنرل وحید کاکڑ کو انعام کے طور پر 100مربع زمین الاٹ کی تھی۔

اس کے علاوہ بریگیڈیئر و جرنیل سمیت سبھی آرمی آفیسرز ریٹائرمنٹ کے قریب کچھ زمینیں اور پلاٹ اپنا حق سمجھ کر الاٹ کرا لیتے ھیں۔ مثال کے طور پر ماضی قریب میں ریٹائر ھونے والے جنرل راحیل شریف نے آرمی چیف بننے کے بعد لاھور کینٹ میں868کنال کا نہایت قیمتی قطعہ زمین الاٹ کرانے کے علاؤہ بیدیاں روڈ لاھور پر بارڈر کے ساتھ90ایکڑ اراضی اور چند دیگر پلاٹ بھی (شاید کشمیر آزاد کرانے کے صلہ میں یا پھر دھرنے کرانے کے عوض) الاٹ کروائے جن کی مالیت اربوں میں بنتی ھے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں عام آدمی چند مرلے کے پلاٹ کےلئے ساری زندگی ترستا رھتا ھے کیا یہ نوازشات و مراعات یا قانونی اور حلال کرپشن ھے یا اس جرنیلی مافیا کی بےپناہ لالچ و حرص وحوس؟ کیاعوام کو اس کے خلاف آواز اٹھاکر اس حلال کرپشن کو روکنے کی کوشش نہیں کرنا چاھیئے؟🤔⁦🇵🇰

Sunday, July 18, 2021

نئی نسل کی توجہ درکار ہے

*"نئی نسل کی توجہ درکار ہے"*
*تاریخ کے کچھ حصّے بار بار پڑھئیے* 
اور پھر کچھ یوں ہوا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
پاکستان میں پہلی دھاندلی عسکری، بیوروکریٹ اور پیروں ، وڈیروں  کے گٹھ جوڑ سے ہوئی 

‏تاریخ نے  کئی  چہروں پر ایسا غلاف چڑھا رکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کو بے نقاب کرنا ضروری ہو گیا ہے 
کیسے کیسے لوگ تھے جو آج اپنے اپنے علاقوں کے خدا بنے بیٹھے ہیں ، ان کا کردار نئی نسل کے سامنے لانا ضروری ہے ، اگر نئی نسل کو دلچسپی ہو تو
اور کتنے ہی لوگ تھے جنہوں نے پاکستان کے لیے سب کچھ قربان کر دیا لیکن غدار کہلائے 
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صدارتی الیکشن۔۔1965 کے دن ہیں۔۔جن پر اب کوئی بات بھی نہیں کرتا۔۔اور نہ انکے بارے میں کچھ لکھا جاتا ہے۔۔
یہ پہلا الیکشن تھا۔۔جس میں بیورکریسی اور۔۔فوج نے ملکر دھاندلی کی تھی ۔
‏1965 کے صدارتی الیکشن میں پہلی دھاندلی خود فیلڈ مارشل  ایوب خان  نے کی۔۔
پہلےالیکشن۔۔بالغ رائے دہی کی بنیاد پر کروانے کا اعلان کیا گیا 

یہ اعلان۔۔۔۔۔۔9 اکتوبر 1964 کو ہوا۔ مگر مادر ملت فاطمہ جناح کے امیدوار بننے کے  بعد۔۔۔۔۔۔۔یہ اعلان۔۔۔۔۔۔  ایوب خان کا انفرادی اعلان  ٹھہرا۔۔۔۔۔۔۔اور سازش کے تحت یہ ذمہ داری حبیب اللّہ خان پرڈالی گئی ۔یہ پہلی پری پول دھاندلی تھی۔۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
‏1964میں کابینہ اجلاس میں
وزراء نے۔۔خوشامد کی انتہا کردی۔ حبیب خان نے۔۔۔۔۔۔۔فاطمہ جناح کو ایبڈو کرنے کی تجویز دی۔۔
وحید خان نے  ۔۔۔۔۔۔جو وزیر اطلاعات۔۔اور۔۔کنویشن لیگ کے جنرل سیکرٹری تھے۔۔۔۔۔۔۔تجویز دی کہ ۔۔۔۔۔ایوب کو تاحیات صدر قرار دینے کیلئے ترمیم کی جائے۔۔۔۔۔ ایوب کے منہ بولے بیٹے ذوالفقار علی بھٹو نے۔۔۔۔۔۔۔مس جناح کو بُڑھیا۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔ضدّی کہا۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف جماعت اسلامی کے مولانا سید ابوالاعلی مودودی نے سندھ سے جی ایم سید،  اور صوبہ سرحد سے خان عبدالغفار خان نے جبکہ مشرقی پاکستان سے شیخ مجیب الرحمن نے کھل کر محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی 
پنجاب کے تمام سجادہ نشینوں نے سوائے پیر مکھڈ صفی الدین  کے فاطمہ جناح کے خلاف فتویٰ دیا
---
‏ایوب خان کی دھاندلی مشینری نے الیکشن تین طریقوں سے لڑنے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔
*پہلا مذھبی سطح پر۔۔۔۔۔۔ جس کے انچارج۔۔۔۔۔۔*
پیر آف دیول شریف تھے۔۔جنہوں نے مس جناح کے خلاف فتوے نکلوائے۔۔

*دوسرا انتظامی سطح پر۔۔۔۔۔۔۔* کیونکہ 62 کے آئین کے مطابق ایوب خان کو یہ سہولت میسر تھی کہ وہ تب تک صدر رہ سکتے تھے جب تک ان کا جانشین نہ منتخب ہو لہذا پوری سرکاری مشینری استعمال کی گئی 
 جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج بھی الیکشن سرکاری ملازمین کے دباؤ سے جیتے جاتے ہیں 

*تیسری سطح پر۔۔۔۔۔۔۔*مس جناح کے حامیوں پر۔۔۔۔۔جھوٹے مقدمات درج کئے گئے* ۔۔۔۔۔۔۔عدالتوں سے انکے خلاف فیصلے لئے گئے۔۔۔ ۔۔۔ اور یہی عدلیہ کے تابوت میں پہلی اور آخری کیل ثابت ہوئی جو آج تک ٹھکی ھوئی ہے 

آخر کار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

‏سندھ کے تمام جاگیردار گھرانے ایوب خان کے ساتھ ھوگئے تھے۔۔۔۔۔۔بھٹو فیملی ۔۔جتوئی فیملی ۔۔۔۔۔محمدخان جونیجو فیملی ۔۔  ۔۔۔۔ٹھٹھہ کے شیرازی۔۔۔۔۔۔۔۔خان گڑھ کے مہر۔۔۔۔۔۔۔۔۔نواب شاہ کے سادات ۔۔۔۔۔۔۔۔بھرچونڈی۔۔۔۔۔۔۔۔رانی پور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے اکثر پیران کرام، ایوب خان کےساتھی تھے۔۔۔۔۔۔۔ 

سوائے کراچی میں گہری جڑیں رکھنے والی جماعت اسلامی، اندرون سندھ کے جی ایم  سید ۔۔۔۔۔۔۔حیدرآباد کےتالپور برادران۔۔۔۔۔۔۔۔بدین کے فاضل راہو۔۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔ رسول بخش پلیجو ۔۔۔۔مس جناح کےحامی تھے۔۔۔۔۔۔۔یہی لوگ بعد میں پاکستان کے  غدار بھی ٹہرا دئیے گئے 

*پھر کچھ یوں ہوا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

*‏پنجاب کے تمام گدّی نشین اور صاحبزادگان و سجادہ نشین۔۔۔۔۔۔۔۔۔*   

۔سوائے پیر مکھڈ۔۔۔۔۔۔۔صفی الدین کو چھوڑ کر۔۔
باقی سب ایوب خان کے ساتھی ھوگئےتھے۔۔۔۔۔۔۔۔سیال شریف کے پیروں نے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فاطمہ جناح کےخلاف فتوی بھی دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیر آف دیول نے۔۔۔۔۔۔۔۔داتادربار  پر ۔۔۔۔۔مراقبہ کیا۔۔۔۔۔۔اور کہا کہ۔۔۔۔۔۔داتا صاحب نےحکم دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔کہ ایوب کو کامیاب کیا جائے۔۔۔۔۔۔۔ورنہ خدا۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان سےخفا ہوجائے گا۔۔
‏آلو مہارشریف کے۔۔۔۔۔۔ ۔۔صاحبزادہ فیض الحسن نے۔۔۔۔۔۔۔۔عورت کےحاکم ہونے کے خلاف فتوی جاری کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مولانا عبدالحامد بدایونی صدر جمعیت علماء پاکستان نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔فاطمہ جناح کی نامزدگی کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شریعت سے مذاق۔۔۔۔۔۔۔۔اورناجائز قرار دیا۔۔ 
مولانا حامدسعیدکاظمی کے والد۔۔۔۔۔۔۔علامہ احمد سعید کاظمی نے۔۔۔۔۔ایوب کو۔۔۔۔۔۔۔ملت اسلامیہ کی آبرو قرار دیا  ۔   ۔۔یہ لوگ ہیں جو دین کےخادم ہیں۔

‏لاھور کے میاں معراج الدین نے۔۔۔۔۔۔فاطمہ جناح کےخلاف جلسہ منعقد کیا۔۔۔۔۔۔۔۔جس سے مرکزی خطاب عبدالغفار پاشا۔۔۔۔۔۔۔اور وزیر بنیادی جمہوریت نےخطاب کیا۔۔۔۔۔۔۔معراج الدین نے۔۔۔۔۔۔فاطمہ جناح پر۔۔۔۔۔۔۔اخلاقی بددیانتی کا الزام لگایا۔۔۔۔۔۔موصوف موجودہ بیمار وزیر صحت یاسمین راشد کے سسر تھے۔۔۔۔۔۔۔ گجرانوالہ کے غلام دستگیر نے مس جناح کی تصویریں کتیا کے گلے میں ڈال کر پورے گجرانوالہ میں سرکس نکالے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میانوالی۔۔۔۔۔۔کی ضلع کونسل نے۔۔۔۔۔۔فاطمہ جناح کےخلاف قرار داد منظور کی۔۔
‏مولانا غلام غوث ہزاروی سابق ناظم اعلیٰ مجلس احرار اور مرکزی رہنماء جمعیت علمائے اسلام ۔۔۔۔۔۔۔صاحب نے کھل کر ایوب خان کی حمایت کا اعلان کیا۔۔۔۔۔۔اور دعا بھی کی ۔ ۔۔۔۔پیر آف زکوڑی  نے۔۔۔۔۔۔۔فاطمہ جناح کی نامزدگی کو۔۔۔۔۔۔اسلام سے۔۔۔۔۔۔مذاق قرار دیکر۔۔۔۔۔۔۔عوامی لیگ سے استعفی دیا۔۔۔۔۔۔اور ایوب کی حمایت کا اعلان کیا۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف جماعت اسلامی کے امیر ۔۔۔۔۔۔۔ مولانا سید ابوالاعلی مودودی  کا ایک جملہ زبان زد عام ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایوب خان میں اس کے سوا کوئی خوبی نہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ مرد ہیں اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فاطمہ جناح میں اس کے سوا کوئی کمی نہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ عورت ہیں

پھر ہوا یہ کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‏بلوچستان میں۔۔۔۔مری سرداروں۔۔۔۔۔۔اور جعفر جمالی ۔۔۔۔
۔ظفر اللہ  جمالی کے والد صاحب کوچھوڑ کر۔۔۔۔۔
سب فاطمہ جناح کےخلاف تھے۔۔۔۔۔۔۔قاضی محمد عیسی۔۔۔۔۔۔۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے والد ۔۔۔ ۔مسلم لیگ کا بڑا نام۔۔۔۔۔بھی فاطمہ جناح کے مخالف تھے ۔۔۔۔۔۔۔اور ایوب کےحامی تھے۔۔۔۔۔۔انہوں نے۔۔۔۔۔۔کوئٹہ میں ایوب کی مہم چلائی۔۔۔۔۔۔حسن محمود نے۔۔۔۔۔۔پنجاب۔۔۔۔۔۔سندھ کے۔۔۔۔۔۔ روحانی خانوادوں کو۔۔۔۔۔۔ایوب کی حمایت پرراضی کیا۔۔۔۔۔۔۔
پورا مشرقی پاکستان غدار تھا وہ سب مس جناح کے ساتھ تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‏خطۂ پوٹھوہار کے۔۔۔۔۔۔۔تمام بڑے گھرانے۔۔۔۔۔۔۔اور سیاسی لوگ ایوب خان کےساتھ تھے۔۔۔۔۔۔۔برئگیڈئر سلطان۔۔۔۔۔والد۔۔۔۔۔۔چودھری نثار۔۔۔۔۔۔۔ملک اکرم۔۔۔۔۔۔۔دادا۔۔۔۔۔۔۔امین اسلم۔۔۔۔۔۔ملکان کھنڈا۔۔۔۔۔۔کوٹ فتح خان۔۔۔۔۔۔پنڈی گھیب۔۔۔۔۔۔تلہ گنگ۔۔۔۔۔۔ایوب  کے ساتھ تھےاس کی وجہ یہاں کے سب لوگ فوج سے وابستہ تھے  ۔۔۔۔۔۔سوائے۔۔۔۔۔۔۔چودھری امیر۔۔۔۔۔۔اور ملک نواب خان کے۔۔۔۔۔۔۔اور جن کو الیکشن کے دو دن بعد قتل کر دیا گیا ۔۔۔۔۔۔
‏شیخ مسعود صادق نے۔۔۔۔۔۔۔۔ایوب خان کی لئے وکلاء کی حمایت کا سلسلہ شروع کیا۔۔۔۔۔۔کئی لوگوں نے۔۔۔۔۔۔انکی۔۔۔۔۔حمایت کی۔۔۔۔۔۔پنڈی سے راجہ ظفرالحق بھی ان میں شامل تھے۔۔۔۔۔۔۔۔اسکے علاوہ میاں اشرف گلزار۔۔۔۔۔۔بھی فاطمہ جناح کے۔۔۔۔ مخالفین میں شامل تھے۔۔
‏صدارتی الیکشن۔۔1965 کے دوران گورنر امیر محمد خان صرف چند لوگوں سےپریشان تھے۔۔۔۔ان میں سرفہرست ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سید ابوالاعلی مودودی ---  شوکت حیات۔۔۔۔۔۔خواجہ صفدر۔۔۔۔۔والد۔۔خواجہ آصف۔۔۔۔۔۔چودھری احسن۔۔۔۔۔والد اعتزاز احسن۔۔۔۔۔۔خواجہ رفیق۔۔۔۔والد سعدرفیق۔۔۔۔۔۔کرنل عابد امام۔۔۔۔۔۔والد ۔۔۔عابدہ حسین۔۔۔۔۔علی احمد تالپور شامل تھے۔۔یہ لوگ آخری وقت تک۔۔۔۔۔فاطمہ جناح کے ساتھ رہے۔۔۔۔۔۔
‏صدارتی الکشن کے دوران فاصمہ جناح پر۔۔۔۔۔پاکسان توڑنےکا الزام  بھی لگا۔۔۔۔۔یہ الزام زیڈ-اے-سلہری نے۔۔۔۔۔اپنی ایک رپورٹ میں لگایا۔۔۔۔۔جس میں مس جناح کی بھارتی سفیر سے ملاقات۔۔۔۔۔۔کا حوالہ ديا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔اور یہ بیان کہ۔۔۔۔۔۔قائد اعظم تقسیم کےخلاف تھے  یہ وہی تقسیم تھی جس کا پھل کھانے کیلئے آج  سب اکٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔یہ اخبار۔۔۔۔۔۔۔ہر جلسے میں لہرایا گیا۔۔۔۔۔۔ایوب اسکو لہرا لہرا کر۔۔مس جناح کو غدار کہتے رہے ۔۔۔۔۔۔
‏پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔۔۔۔۔۔
لاالہ الااللّہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیسی نظم لکھنے والے۔۔۔۔۔۔۔اصغرسودائی۔۔۔۔۔۔ ایوب خان کے ترانے لکھتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔اوکاڑہ کے ایک شاعر۔۔۔۔۔۔۔ظفراقبال نے۔۔۔۔۔۔چاپلوسی کے ریکارڈ  توڑ ڈالے۔۔۔۔۔۔یہ وہی ظفراقبال ہیں۔۔۔۔۔جو آجکل اپنےکالموں میں سیاسی راہنماؤں کا مذاق اڑاتے ہیں۔۔۔۔۔۔سرورانبالوی۔۔۔۔۔اور دیگر کئی  شعراء  اسی کام میں مصروف تھے۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‏حبیب جالب۔۔۔۔۔۔۔ابراھیم جلیس۔۔۔۔۔۔۔۔میاں بشیر ۔۔۔۔۔۔۔۔فاطمہ جناح  کے جلسوں کے۔۔۔۔۔شاعرتھے۔۔۔۔۔۔۔جالب نے اس کام میں شہرت حاصل کی۔۔۔۔۔۔۔میانوالی جلسے کے دوران  جب۔۔۔۔۔۔۔گورنر امیر خان کے۔۔۔۔غنڈوں نے۔۔۔۔۔فائرنگ کی۔۔۔۔۔توفاطمہ جناح ڈٹ کر کھڑی ہوگئیں۔۔۔۔۔اسی حملے
کی یادگار۔۔۔۔۔۔
*بچوں پہ چلی گولی۔۔۔۔۔۔* *ماں دیکھ کے یہ بولی۔۔۔۔۔۔* نظم ہے۔۔۔۔۔فیض صاحب خاموش حمائتی تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
‏چاغی ،لورالائی ،سبی ،ژوب، مالاکنڈ ،باجوڑ، دیر، سوات، سیدو، خیرپور، نوشکی، دالبندین، ڈیرہ بگٹی، ہرنائی، مستونگ، چمن،  سبزباغ، سے فاطمہ جناح کو۔۔کوئی ووٹ نہیں ملا۔۔۔۔۔
سارا اردو اسپیکنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو جماعت اسلامی کا گڑھ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فاطمہ جناح کی حمایت کرتا رہا ان کو کراچی سے 1046 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایوب خان کو 837 ووٹ ملے  ،مشرقی پاکستان مس جناح کے ساتھ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ جناح کو ڈھاکہ سے 353 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ایوب خان کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ 199 ووٹ ملے جس کی سزا اسٹیبلشمنٹ نے یہ دی کہ انہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان سے الگ ہونے پر مجبور کر دیا گیا 
ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایوب، فاطمہ کے ووٹ برابر تھے۔۔۔۔۔۔۔مس جناح کےایجنٹ ایم خمزہ تھے۔۔۔۔۔ اور اے-سی جاویدقریشی۔۔۔۔۔ جو بعد میں۔۔چیف سیکرٹری بنے۔۔۔۔۔۔
‏مس جناح کو۔۔۔۔۔کم ووٹوں سے شکست۔۔۔۔ اکیلی عورت فوج ، بیوروکریٹ، پیروں ، وڈیروں، جاگیر داروں سے مقابلہ کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ایوب کے 82۔۔۔۔۔۔مس جناح کے 67 ووٹ تھے۔۔۔۔۔اس الیکشن میں جہلم کے چودھری الطاف فاطمہ جناح کے حمائتی تھے۔۔۔۔۔۔۔مگر نواب کالاباغ کے ڈرانے کے بعد۔۔۔۔۔پیچھے ہٹ گئے۔۔۔۔۔۔یہاں تک کہ۔۔جہلم  کے نتیجے پر دستخط کیلئے۔۔۔۔۔۔مس جناح  کے پولنگ ایجنٹ گجرات سے آئے۔۔۔۔۔اسطرح کی دھونس اور دھاندلی عام رہی 

*پھر کچھ یوں ہوا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*   
*جمہوریت ہار گئی اور ہمیشہ کیلئے غلام بنالی گئی جو ہنوز اسٹیبلشمنٹ کی داسی ہے* 

اس سارے قصے میں ایک بات کافی اہمیت کی حامل ہے اور وہ یہ ہے کہ آج بھی اسمبلیوں میں انہی سیاسی لیڈروں کی اولادیں موجود ہیں ، پاکستان کی عوام نے کوئی نیا لیڈر پیدا نہیں کیا ۔

*‏حوالے کیلئے دیکھئے*
ڈکٹیٹرکون۔۔ایس-ایم-ظفر۔۔
میرا سیاسی سفر۔۔حسن محمود۔۔
فاطمہ جناح۔۔۔۔۔ابراھیم جلیس  ۔۔مادرملت۔۔۔۔۔ظفرانصاری۔۔
فاطمہ جناح۔۔حیات وخدمات۔۔۔۔۔۔وکیل انجم
.اور کئی پرانی اخبارات۔۔