پاکستان کی مزہبی جماعتیں
ہمارے ملک کی مزہبی جماعتیں (بظاہر)
ساری کی ساری اسٹیبلشمنٹ کی پالتو ہیں. نہ صرف مزہبی جماعتیں بلکہ بڑی بڑی گدیاں
بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔ ان سب نے نام تو مزہبی جماعتوں والے
رکھے ہوتے ہیں لیکن دراصل یہ اقتدار کے بھوکے گدھ ہیں۔ ان کا مزہب اور سیاست کو
ساتھ ساتھ چلانے کا مقصد یہی ہے کہ دونوں طرف کے فوائد سے مستفید ہوتے رہیں جبکہ
حقیقت یہ ہوتی ہے کہ
خدا ہی ملا نہ وصال صنم
ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
چونکہ ان کے پاس نفری بہت زیادہ ہوتی
ہے، لہزا اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایسی مزہبی جماعتیں بہت قیمتی ہوتی ہیں کیونکہ یہ مزہب
اور مسلک کے نام پہ بڑی سیاسی پارٹیوں کے ووٹ توڑنے کے کام آتی ہیں۔ 2018 کی ہی
مثال لے لیں۔ تمام عالمی اداروں کے سروے کیا پیشگوئیاں کر رہے تھے لیکن چند ایسی
چالیں چل کر ایسا پانسہ پلٹا گیا کہ ملک کا ہی بیڑہ غرق کردیا گیا۔
پہلا واقعہ دیکھ لیں:
ممتاز قادری کو سزا کس نے سنائی، جج نے
پھانسی کے ریڈ وارنٹ پہ دستخط کس نے کیے،
اسی جج نے جس نے اسے سزا سنائی تھی
اگر کوئی اس کی سزا معاف کرسکتا تھا تو
کون، صدر پاکستان
وزیراعظم کا اس تمام عدالتی عمل میں
کتنا کردار ہوتا ہے، صفر
لیکن آپ اس پھانسی کی ٹائمنگ دیکھیں کہ
نوازشریف کا سارا بریلوی ووٹ یہ جھوٹا پراپوگینڈا کرکے توڑا گیا کہ یہ عدالتی فیصلے
پہ اثرانداز کیوں نہیں ہوا۔ اوئے عقل کے اندھے لوگو، کیا ملک کا وزیراعظم ایک فیصد
بھی عدالتی سسٹم پہ اثرانداز ہونے کا اختیار رکھتا ہے؟
دوسرا واقعہ دیکھیں۔ نوازشریف کی حکومت
کا وزیر قانون تھا زاہد حامد۔ کسی نجی محفل میں اس نے کہ دیا کہ ہم ایسا قانون
لانے کی کوشش کررہے ہیں جس کے تحت عدلیہ اور مسلح افواج کے فنڈز کا بھی آڈٹ ہوا
کرے گا یہ بات باہر نکلنے کی دیر تھی کہ خادم رضوی صاحب فیض آباد جا پہنچے اور جو
گالی گلوچ کا بازار گرم ہوا کہ اللہ کی پناہ نام اسے دیا گیا تھا توہین رسالت کے
خلاف جہاد کا جس کے نام پہ یہ تمام ہلڑ بازی مچائی گئی۔ ایک ماہ تک یہ فحش گوئی
اور ہلڑبازی چلتی رہی اور جیسے ہی زاہد حامد استعفیٰ دے کر چلے گئے، دھرنا ختم ہوگیا۔
آج بھی کسی ٹی ایل پی کے ورکر سے یا اس مسلک کے کسی بھی بندے سے پوچھ لیں، جو اس
وقت نواز حکومت کو منہ بھر بھر کے گالیاں دیا کرتے تھے کہ جس ترمیم سے توہین رسالت
ہو رہی تھی، اس کے الفاظ کیا تھے۔ مجھے سو فیصد یقین ہے کہ ایک بھی شخص شاید ہی
بتا سکے گا۔ حافظ حمد اللہ مسلسل کہتے رہے کہ اس ترمیم سے کوئی توہین رسالت کا
پہلو نہیں نکلتا اور اس ترمیم کی تجویز ن لیگ نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے آئی
تھی لیکن جاہل عوام کو کون سمجھائے جو مزہب اور مسلک کے نام پہ اندھی ہوجاتی ہے۔
اپنی عقل استعمال کرنے کی تو انہیں تربیت
ہی نہیں دی گئی۔ فیض آباد دھرنے کے پیچھے کون تھا یہ جاننے کے لیے وہ ویڈیو کافی
ہے جس میں دھرنے کے شرکا کو باقاعدہ وردی میں رہتے ہوئے ایک ایک ہزار روپیہ بانٹا
جا رہا ہے۔
اور پھر جب خادم رضوی صاحب کی زبان سے
نکلا کہ "میں دساں کدے آکھنے تے میں فیض آباد گیا سی"، تو یہ دھمکی وہ
پنجابی گانا ثابت ہوئی
چھپ جاؤ تاریو پادیو ہنیر نی
آساں ایس رات دی نہیں ویکھنی سویر نی
گولڑہ شریف کے گدی نشینوں کا کیا کام
تھا 2018 کے انتخابات سے پہلے ایک ہفتہ مزاکرات کرنا؟
پیر سیالوی نے مرنے سے پہلے اعترافی بیان
دیا تھا کہ مجھ پہ دباؤ تھا لہزا میں نے عمران خان کا ساتھ دیا۔
دباؤ کس کا تھا؟؟؟
پاکستان کی عوام کا تو خیر نصیب ہی برا
ہے لیکن ہماری اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی سوجھ بوجھ اور مردم شناسی بھی ہمیشہ انتہائی
ناقص ہی ثابت ہوئی ہے۔ کراچی سیاسی سرگرمیوں کا ہمیشہ سے مرکز رہا ہے لہزا پہلے
انہوں نے سیاسی پارٹیوں کا ووٹ توڑنے کے لیے ایم کیو ایم بنائی جو بعد میں عوام کے
لیے مستقل قومی مصیبت ثابت ہوئی لیکن خود بنانے والوں کے لیے بھی وہ کسی عفریت سے
کم نہ رہی۔ اب یہی کچھ عمران خان کے معاملے میں ہوا۔ یہ بھی ان کے لیے اب ایک
بےقابو عفریت بن چکا ہے جس نے طاقت کے حصول کے لیے کثیر جہتی تعلقات قائم کررکھے ہیں،
مثلا ایک جانب طالبان ہیں تو دوسری جانب جماعت اسلامی۔ یہ تو ایک مسلک کی سپورٹ
ہوگئی۔ ٹی ایل پی، طاہر القادری اور مختلف گدیوں کی صورت میں دوسرے مسلک کی جانب
سے بھی مدد حاصل ہوگئی۔ اپنے عوامی جلسوں میں جس امریکہ کو گالیاں دیتا پھرتا ہے اور اپنے ٹایگرز کو ایبسولیوٹلی ناٹ کا
جھانسہ دیتا رہا، اسی امریکہ کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی خاطر بھاری معاوضے پہ
لابنگ فرمز ہائر کر رکھی ہیں. فارن فنڈنگ کیس کی تفصیلات اتنی ہوشربا ہیں کہ جس دن
سامنے آگئی، وہ دن پاکستان کے لیے ہیرو شیما سے کم نہیں ہونے لگا۔
ہمیں ضرورت اس امر کی ہے کہ خود اپنے
ذہن میں دو اور دو چار کریں اور معاملات کو پرکھیں پراپوگینڈا کا شکار ہونا کچے
ذہن کی علامت ہے اور ہماری کم از کم اسی فیصد آبادی اسی مرض کا شکار ہے۔ خدارا،
خود سے غیرجانبدارانہ تجزیہ کرکے درست نتائج اخذ کرنے کی عادت ڈالیں۔
No comments:
Post a Comment