Sunday, April 7, 2024

نکاح کی اہمیت

 نکاح کی اہمیت

ہم نے نہ بحیثیت انسان یا بحیثیت مسلمان، نکاح کے رشتے کی اہمیت کو سمجھا ہی نہیں ہے اور نہ کسی نے ہمیں سمجھانے کی کوشش بھی کی ہے۔

مسلمان کی زندگی میں صرف دو کام ایسے ہیں جن کی تکمیل کلمہ طیبہ کے بغیر ممکن نہیں ہے:

نمبر-1: غیر مسلم کا کلمہ طیبہ پڑھ کر، کفر کو چھوڑ کر، ایمان کے دائرے میں داخل ہونا۔

نمبر-2: غیر شادی شدہ کا کلمہ طیبہ پڑھ کر نکاح کے دائرے میں داخل ہونا۔

اب یہاں پہلی والی بات کو اگر دیکھا جائے تو مسلمانوں کی دو اقسام دیکھنے کو ملتی ہیں۔

پہلے وہ جو اس لیے مسلمان ہیں کہ وہ مسلمان کے گھر میں پیدا ہوگئے۔ اگر خدانخواستہ وہ کسی اور مزہب کے خاندان میں پیدا ہوئے ہوتے تو یقیناً ساری زندگی اسی مزہب میں رہ کر گزار دیتے۔

دوسرے وہ جنہوں نے دوسرے مزہب میں رہتے ہوئے اسلام کا مطالعہ کیا، اسے اپنے مزہب سے بہتر پایا، اس سے متاثر ہوئے، پھر اسے قبول کرنے کا فیصلہ کیا اور کلمہ طیبہ پڑھ کر کئی گواہوں کی موجودگی میں ایمان کے دائرے میں داخل ہوئے۔ یہی لوگ اسلام کے شعائر و قوانین کے زیادہ پابند ہونگے اور اس مزہب کے زیادہ قدردان ہوتے ہیں کیونکہ اسلام ان کی اپنی پسند ہے اور انہوں نے اس کو بڑی تحقیقات کے بعد اپنایا ہے۔

بالکل اسی طرح کی صورتحال نکاح کے معاملے میں بھی بنتی ہے۔ انسان کے کچھ رشتے اس لیے ہیں کہ انسان ایک خاندان میں پیدا ہوا، اسے وہ رشتے بنے بنائے مل گئے، کہیں اور پیدا ہوتا تو وہاں کے لوگ اس کے رشتےدار ہوتے۔

لیکن شریک حیات کا رشتہ واحد رشتہ ہے جو انسان خود اپنے لیے پسند کرتا ہے، پرکھتا ہے، منتخب کرتا ہے اور پھر کلمہ طیبہ پڑھ کر گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرکے اس کے ساتھ رشتہ بناتا ہے۔

گویا شریک حیات کا درجہ انسان کے لیے اس کے ایمان کے برابر ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ شیطان کو سب سے بڑی خوشی اس رشتے میں دوری پیدا کرنے سے ملتی ہے۔ جس گناہ سے شیطان کو سب سے بڑی خوشی حاصل ہوتی ہے، وہ گناہ کتنا بڑا ہوگا، اس کا شاید ہمارے معاشرے کے افراد کو اندازہ ہی نہیں ہے۔

جب مرد دن بھر دفتر، مزدوری، کاروبار سے واپس آئے، اور آتے ہی اسے اپنی بیوی کی مخالفت اور برائیاں سننے کو ملیں، تو کیا وہ ماں اپنے بیٹے اور بہو کے درمیان دوری پیدا کرنے کی کوشش نہیں کررہی؟

ہمارا معاشرہ، جو کہ ہندو معاشرے سے بہت متاثر ہے، اسلام کے نام پہ جوائنٹ فیملی سسٹم کو اپنائے ہوئے ہے حالانکہ اسلام میں جوائنٹ فیملی سسٹم کا کوئی تصور ہی نہیں ہے. یہاں ماں ہو، بہن ہو، یہاں تک کہ دیگر رشتےدار خواتین بھی بیٹے کی شادی کے بعد یہ رونا ڈال بیٹھتی ہیں کہ اس کے آنے سے ہمارا بیٹا ہم سے چھن گیا ہے۔ اکثر خاندانوں میں بیٹے کی شادی کے فوراً بعد اسے ملک سے باہر بھیج دیا جاتا ہے جس کے پیچھے ایک ہی مقصد ہوتا ہے یعنی میاں بیوی کو ایک دوسرے سے دور کردیا جائے۔

اب یہاں ایک بہت بڑا سوال پیدا ہوتا ہے۔ ماں، بہن، یا کسی بھی شخص کی مخالفانہ باتوں سے متاثر ہو کر اگر وہ مرد اپنی بیوی کے ساتھ رویہ بگاڑ لیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ میاں بیوی کے درمیان دوری پیدا کرنے کا منصوبہ کامیاب ہوگیا ہے، یعنی شیطان کو سب سے بڑی خوشی دے دی گئی ہے۔

ماں کی ایسی تابعداری کرکے کیا بیٹا خود اپنے ہاتھ سے اپنی ماں کو جہنم میں نہیں پہنچا رہا؟

اسلام نے کب اس بات کی اجازت دی ہوئی ہے کہ وہ والدین کی مزہب کے خلاف باتوں کی اطاعت کرے؟

نیکی اور بدی کا اجر دینے کے معاملے میں اللہ تعالٰی نے انسان کو بہت بڑی سہولت دے رکھی ہے جس کا انسان جتنا بھی شکر ادا کرے، کم ہے۔ برائی انسان کے ذہن میں ہے، ارادہ کیا ہوا ہے، لیکن سرزد نہیں ہوئی، تو وہ برائی یا گناہ انسان کے کھاتے میں نہیں لکھا جائے گا۔ جب اس پہ عمل ہوجائے گا تو تب کھاتے میں لکھا جاتا ہے اور وہ بھی محض ایک بار۔

اس کے برعکس، نیکی کے اجر کا معاملہ بہت مختلف ہے. انسان نے نیکی کا ارادہ کیا تو اس نیکی کا ایک بار کا اجر اس کے کھاتے میں لکھ دیا جاتا ہے. جب وہ نیکی کر لیتا ہے، اس پہ عمل ہوجاتا ہے تو اس نیکی کا دس گنا اجر انسان کے کھاتے میں لکھا جاتا ہے۔ اس نیکی سے جب تک کسی کو بھی کسی بھی قسم کا فائدہ پہنچتا رہے گا، تو اس کا اجر مسلسل انسان کے کھاتے میں آتا ہی رہے گا۔

اب اس کبیرہ گناہ کے معاملے کو بھی اسی نظر سے دیکھیں۔ اگر مرد کے اس کی ماں یا بہن نے کان بھرے لیکن اس نے اپنی بیوی کے ساتھ اپنا رویہ خراب نہیں کیا، تو شیطان کو سب سے بڑی خوشی دینے کا کبیرہ گناہ نہ مرد کے کھاتے میں آیا اور نہ ہی اس کی ماں یا بہن کے کھاتے میں۔

لیکن اگر مرد کا رویہ اپنی بیوی کے ساتھ خراب ہوگیا، تو پھر ماں اور بیٹا، دونوں کے کھاتے میں یہ کبیرہ گناہ لکھ گیا۔

اگر ہمارے معاشرے کا مرد ان باتوں کو سمجھ جائے تو کیا طلاق کی شرح نہ ہونے کے برابر نہیں رہ جائے گی؟ اسلام کی ایسی ٹیکنیکل باتوں کو سمجھنے کے لیے نہ تو ہم خود تیار ہیں اور نہ ہی ہمارے علماء کرام ہمیں بتانے کو تیار ہیں۔ رہی سہی کسر سٹار پلس اور سونی جیسے چینلز کے ڈرامے پوری کردیتے ہیں جنہوں نے جوائنٹ فیملی سسٹم کی اس معاشرے میں خوب پروموشن کررکھی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھے راستے پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Saturday, April 6, 2024

نیشنلائزیشن

 ‏نیشنلائزیشن

آج کی جواں نسل جن باتوں سے بے خبر ہے اور عمران منافق جیسوں کی تقریروں سے متاثر ہو کر یہ کہتی ہے کہ پچتہر سالوں سے ملک لوٹا جارہا ہے، سب چور ہیں، ہم نے کچھ نہیں کیا، ہم غلام ہیں،  ان کی معلومات کے لیے بتانا چاہتا ہوں کہ 1970 تک پاکستان  میں تیس چالیس امبانی، ٹاٹا، برلا، سے بڑے صنعتکار بینکار بزنس جینئس تھے جنہوں نے ملک کی معیشت کو سنبھالا ہوا تھا۔ ملک کوریا جاپان سے بہت آگے تھا مڈل ایسٹ کے ممالک کسی گنتی میں نہیں تھے۔ ان صنعتکاروں بینکاروں کو بائیس خاندان کا نام دے کر ٹارگٹ کیا گیا۔

ان میں سے سہگل گروپ نے کپڑے کی صنعت کو عروج دیا۔ داؤد گروپ ہیوی وہیکل اور زرعی مشینری کے بادشاہ تھے۔ داؤد ہرکولیس ٹریکٹر ان کی پروڈکٹ تھی۔ ہارون خاندان چھوٹی مصنوعات، اصفہانی سلہٹ کے چائے کے باغات کے مالک نے ملک کی پہلی ائیرلائن قائم کی جو آج کی سب ائر لائنوں سے بہتر تھی۔ حبیب گروپ بینکنگ کے کنگ تھے. ساٹھ کی دہائی میں ان کا حبیب پلازہ ایشیأ کی بلند ترین عمارت تھی۔ ایشیأ میں پہلا آئی بی ایم بینکنگ سسٹم اس بلڈنگ کی نویں منزل پر نصب ہوا۔ فینسی کپڑے کی صنعت نشاط گروپ کے پاس تھی اور اس کے علاوہ بھی وہ مختلف مصنوعات کے بانی تھے۔ لاہور بیکو یعنی بٹالہ انجینئرنگ سائیکل موٹرسائیکل اسمبل کرتے تھے۔ ان کی بیکو، ہرکولیس، سہراب، رستم سائیکل پورے ملک میں چلتیں۔ میاں شریف کا اتفاق گروپ ٹیوب ویل اور ویٹ تھریشر کے بانی تھے۔ 1966 میں بیکو کے میاں لطیف اور اتفاق کے میاں شریف نے مغل پورہ ورکشاپ میں ٹینک سازی کی اجازت لی۔ لارنس پور وولن ملز کی سُوٹنگ دنیا میں نمبر ون تھی۔ غرض ایک پوری صنعتی ریاست تھی جن کے مالکان نیشنلائزیشن کے نتیجے میں اپنی مشینری بنگلہ دیش لے گئے۔

بھٹو صاحب (اس وقت کے عمران خان) نے ان بائیس خاندانوں کے خلاف تحریک چلائی کہ ملک کی ساری دولت ان کے پاس ہے، ان کے پیٹ سے نکالوں گا، لہزا ہم عوام ان کے خون کے پیاسے ہو گئے تھے۔ ہم نے اپنے ان مُحسن خاندانوں کے خلاف خُونی تحریک چلائی۔ بھٹو صاحب خود بھی فیوڈل تھے  اور فیوڈلز یعنی بڑے زمین داروں نے پاور میں آکر سب صنعت کاروں کی املاک بلا معاوضہ قومی ملکیت میں لے لیں۔ لاہور کی بیکو اب پیکو بن کر تباہ ہوئی۔ سب جینئس خاندان تباہ و برباد ہوئے۔ بیکو کے میاں لطیف جرمنی چلے گئے، اتفاق کے میاں شریف ملک چھوڑ کر مڈل ایسٹ میں گلف سٹیل ملز لگا کر بیٹھ گئے. اصفہانی کنگال ہو گئے،  ان کے سلہٹ کے چائے کے باغات بنگلہ دیش لے گیا. ائیرلائن پی آئی اے بن کر تباہ ہوگئی. حبیب گروپ سے حبیب بینک چھین لیا گیا، سہگل گروپ نے کوہ نور جیسی بزنس ایمپائرز پلاٹ بنا کر نیلام کر دی۔ کوہ نور جو پوٹھوہار کی ماں کہلاتی تھی، تباہ ہوئی. مشرقی پاکستان میں جنرل ایوب خان کے دور کے میمن سنگھ اور نرائن گنج کے بہت بڑے انڈسٹریل زون بنگلہ دیش کے کام آئے. کراچی سائیٹ انڈسٹریل  ایسٹیٹ جہاں گندھارا والے ہینو ٹرک بناتے، شاہنواز لمیٹڈ  شیورلیٹ اور مرسیڈیز اسمبل کرتے، سب کچھ قومیا کر تباہ کر دیا گیا. ان خاندانوں میں سے اصفہانی کی بیٹی حسین حقانی کی اہلیہ امریکہ چلی گئی۔

بعد میں جنرل ضیاء نے صنعت کاروں کو ڈھونڈنا شروع کیا۔  ہارون خاندان کے محمود اے ہارون کو گورنر سندھ بنایا۔  شریف خاندان کو جنرل ضیاء باہر سے بلا کر لائے اور پھر اسی شریف خاندان کے نواز شریف نے ملک کو ترقی کی اُس راہ پر ڈالا کہ آج کا ملک جو کچھ نظر آتا ہے اسی نواز شریف کے وژن اور کاموں کی بدولت ہے ورنہ بھٹو والے تو شروع میں موٹروے پر تنقید کر کے اسے بھی ختم کرنا چاہتے تھے۔ اسی ارب پتی شریف خاندان کو چور چور کہتے پھرتے ہیں. کبھی اندر کبھی باہر، کبھی جیل کبھی جلاوطنی، کبھی دو فلیٹ کہاں سے آئے، کبھی پاکستان کی دولت واپس لاؤ۔

اصل میں غلامی اور غربت تو بھٹو کی دی ہوئی ہے۔ عوام کو بےروزگار کیا، فیوڈلز، وڈیرے، چوہدری، مخدوم، لغاری، جتوئی، ٹوانے، سب بڑے زمیندار اسمبلیوں میں پہنچ گئے اور ایلیکٹیبلز بن گئے اور صنعتکاروں کو تباہ کرکے لوگوں کو ان وڈیروں کا، اور ملک کو آئی ایم ایف کا غلام  بنا دیا گیا۔

پرائی جنگ میں کودنا

پرائی جنگ میں کودنا

بچپن سے سنا ہوا اپنے سیانے اور تجربہ کار آباؤ اجداد کا قول دہراتا ہوں

جس گھر دانے اس کے کملے بھی سیانے


تو بھائی جو ہماری معاشی حالت ہے، اس میں رہتے ہوئے ہماری کوئی آواز نہیں ہے اور نہ ہماری کوئی اوقات ہے.


دوسری بات یہ کہ ہماری عوام کا سرے سے کوئی نظریہ ہی نہیں ہے. نظریاتی عوام وہ ہوتی ہے جس کے چھوٹی چھوٹی چیزوں سے پاؤں نہیں ڈگمگاتے اور وقتی تکالیف کی بنیادی وجوہات کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں. جبکہ ہمارا حال یہ ہے کہ ایک حکومت کے دور میں مہنگائی ہو تو پہلے والی کو اچھا ماننے لگتے ہیں جس کی مخالفت اس کے دور میں اسی بنیاد پہ کی تھی کہ مہنگائی ہوئی تھی۔


یہ رویہ اس وجہ سے انتہائی خطرناک ہوتا ہے کہ ۔ ۔ ۔


پہلے ہم ایٹمی قوت بننا چاہتے تھے، جب دھماکے کر لیے اور نتیجے میں معاشی پابندیاں لگی تو وہی لوگ کہتے پائے گیے کہ کیا ضرورت تھی یہ پٹاخے چلانے کی۔


بالکل اسی ذہنی سطح کے لوگ آج اچھل اچھل کر بڑھکیں مارتے نظر آتے ہیں کہ ہم اپنی فوج کو غزہ اور فلسطین کی مدد کے لیے کیوں نہیں بھیج رہے۔

لیکن اگر ہم نے یہ کام کرلیا تو ساری غیر مسلم دنیا نے ہم پہ حملہ آور ہونا ہے اور پھر یہی سب لوگ کہتے نظر آئیں گے کہ کیا ضرورت تھی پرائی جنگ میں کودنے کی۔ 


دیکھا نہیں افغان جنگ میں کودنے کا نتیجہ؟ سب اسی بنیاد پہ جنرل ضیا کو گالیاں دیتے ہیں کہ کیا ضرورت تھی پرائی جنگ میں کودنے کی۔ 


تو بھائی، اوپر لکھے  گئے محاورے کی تائید میں علامہ اقبال کے شعر پہ بات ختم کرتا ہوں، اسے سمجھیں اور اپنے مقام (اوقات) کو پہچانیں۔


ہو صداقت کےلیے جس دل میں مرنے کی تڑپ

پہلے  اپنے  پیکر خاکی  میں  جاں پیدا  کرے

مہنگائی

 مہنگائی

اشیاء خورد و نوش کی قیمتیں کیسے بڑھتی ہیں؟

کسان نے فصل اگائی، نگہداشت کی، کھاد ڈالی، راتوں کو جاگ کے رکھوالی کی، فصل تیار ہوئی جو منڈی جانے کو تیار ہے۔

اب آڑھتی درمیان میں کود پڑا۔ اس نے اونے پونے دام پہ فصل خریدی، کسان کو بمشکل ہی کوئی منافع ہوا۔ اکثر اس کی فصل نقصان میں ہی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ فصل ابھی وہیں کھیت میں پڑی ہے۔

کسان سے ڈیل کرنے والے آڑھتی نے منڈی پہنچانے والے آڑھتی کے ساتھ فصل کا سودا کیا۔ مال منڈی پہنچانے والے آڑھتی نے منڈی والے آڑھتی کے ساتھ فصل کا سودا کیا۔ تینوں نے ٹھیک ٹھاک مال بنا لیا۔ تھوک والا آڑھتی وہ مال تھوک فروش (ہول سیلر) کو بیچے گا، جس سے وہ مال پرچون فروش خریدے گا اور وہاں سے عوام خریدے گی۔ تھوک اور پرچون فروش نے بھی منافع کی صورت میں ٹھیک ٹھاک مال بنا لیا۔ عوام نے چونکہ اس فصل کو، یعنی گندم، دال، چنا وغیرہ کو خود استعمال کرنا ہے لہزا وہاں تو کسی منافع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اب غور کیجیے کہ کسان کو تو پورے سیزن کی محنت کے بعد صرف واجبی سی آمدنی ہوئی لیکن اس کے بعد تین آڑھتیوں اور دو دکانداروں نے اپنا پورا منافع وصول کیا اور ٹھیک ٹھاک مال بنا لیا۔ اب کسان نے جس قیمت پہ مال بیچا، عوام کو مال اس سے شاید پچیس گنا یا اس سے بھی زیادہ قیمت پہ ملا۔

حل کیا ہے؟

کھیت سے منڈی تک سڑکوں کا جال بنا دیا جائے اور کسان کو آسان اقساط پہ ٹریکٹر ٹرالی دے دی جائے تاکہ وہ اپنی پیداوار خود منڈی پہنچائے جس کے نتیجے میں عوام کو وہ مال سستا دستیاب ہوسکے۔

لیکن جس نے سڑکیں بنانے کی کوشش کی، اس کے ساتھ ہم نے کیا کیا؟ اور ہم نے ایسا کیوں کیا؟

ہمارے دماغوں میں میڈیا کے ذریعے جھوٹ بول بول کر زہر بھرا گیا، اور ہم نے بغیر سوچے سمجھے اس جھوٹ کو سچ مانا۔

مجرم تو ہم بھی ٹھرے نا، آخر دماغ تو ہمیں بھی دیا تھا اللہ تعالیٰ نے، لیکن استعمال تو ہم نے خود کرنا تھا۔

اللہ تعالٰی ہمیں معاملات کو درست انداز میں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

رکاوٹیں

 رکاوٹیں

اگر ملک میں بےروزگاری کا خاتمہ ہوگیا تو کون جائے گا وڈے گھر کے ریکروٹمنٹ سینٹر میں بھرتی ہونے کے لیے؟ صرف شہادت کے جزبے سے تو شاید ایک فیصد عوام بھی نہ جائے۔

اگر شہر صاف ستھرے ہوگئے اور سہولیات میسر ہوگئیں تو مہنگا ڈی ایچ اے اور بحریہ کون خریدے گا؟

اگر پولیس اور دیگر سول ادارے ٹھیک ہوگئے تو آفات کی صورت میں انہیں کون شہروں میں بلائے گا، جس کا وہ بجٹ کے علاؤہ الگ سے معاوضہ وصول کرتے ہیں۔

لیکن ہم نے بھی قسم کھا رکھی ہے کہ سمجھنا نہیں ہے۔

پیلی ٹیکسی سکیم نے بےروزگاری پہ تگڑی ضرب لگائی تھی لیکن لانے والے کا انجام کیا ہوا؟

سیپیک بےروزگاری کا بڑی حد تک خاتمہ کرسکتا تھا لیکن لانے والے کے خلاف کیا کچھ نہیں ہوا؟

اور جنہوں نے اس کے خلاف یہ سب کیا، بےروزگاری اور غربت سے تنگ یہی عوام ڈٹ کے ان کے اور ان کے لائے ہوئے کے ساتھ کھڑی رہی اور اب تک کھڑی ہے۔

پاکستان کی مزہبی جماعتیں

 پاکستان کی مزہبی جماعتیں

ہمارے ملک کی مزہبی جماعتیں (بظاہر) ساری کی ساری اسٹیبلشمنٹ کی پالتو ہیں. نہ صرف مزہبی جماعتیں بلکہ بڑی بڑی گدیاں بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔ ان سب نے نام تو مزہبی جماعتوں والے رکھے ہوتے ہیں لیکن دراصل یہ اقتدار کے بھوکے گدھ ہیں۔ ان کا مزہب اور سیاست کو ساتھ ساتھ چلانے کا مقصد یہی ہے کہ دونوں طرف کے فوائد سے مستفید ہوتے رہیں جبکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ

خدا ہی ملا نہ وصال صنم

ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے

 

چونکہ ان کے پاس نفری بہت زیادہ ہوتی ہے، لہزا اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایسی مزہبی جماعتیں بہت قیمتی ہوتی ہیں کیونکہ یہ مزہب اور مسلک کے نام پہ بڑی سیاسی پارٹیوں کے ووٹ توڑنے کے کام آتی ہیں۔ 2018 کی ہی مثال لے لیں۔ تمام عالمی اداروں کے سروے کیا پیشگوئیاں کر رہے تھے لیکن چند ایسی چالیں چل کر ایسا پانسہ پلٹا گیا کہ ملک کا ہی بیڑہ غرق کردیا گیا۔

 

پہلا واقعہ دیکھ لیں:

ممتاز قادری کو سزا کس نے سنائی، جج نے

پھانسی کے ریڈ وارنٹ پہ دستخط کس نے کیے، اسی جج نے جس نے اسے سزا سنائی تھی

اگر کوئی اس کی سزا معاف کرسکتا تھا تو کون، صدر پاکستان

وزیراعظم کا اس تمام عدالتی عمل میں کتنا کردار ہوتا ہے، صفر

 

لیکن آپ اس پھانسی کی ٹائمنگ دیکھیں کہ نوازشریف کا سارا بریلوی ووٹ یہ جھوٹا پراپوگینڈا کرکے توڑا گیا کہ یہ عدالتی فیصلے پہ اثرانداز کیوں نہیں ہوا۔ اوئے عقل کے اندھے لوگو، کیا ملک کا وزیراعظم ایک فیصد بھی عدالتی سسٹم پہ اثرانداز ہونے کا اختیار رکھتا ہے؟

 

دوسرا واقعہ دیکھیں۔ نوازشریف کی حکومت کا وزیر قانون تھا زاہد حامد۔ کسی نجی محفل میں اس نے کہ دیا کہ ہم ایسا قانون لانے کی کوشش کررہے ہیں جس کے تحت عدلیہ اور مسلح افواج کے فنڈز کا بھی آڈٹ ہوا کرے گا یہ بات باہر نکلنے کی دیر تھی کہ خادم رضوی صاحب فیض آباد جا پہنچے اور جو گالی گلوچ کا بازار گرم ہوا کہ اللہ کی پناہ نام اسے دیا گیا تھا توہین رسالت کے خلاف جہاد کا جس کے نام پہ یہ تمام ہلڑ بازی مچائی گئی۔ ایک ماہ تک یہ فحش گوئی اور ہلڑبازی چلتی رہی اور جیسے ہی زاہد حامد استعفیٰ دے کر چلے گئے، دھرنا ختم ہوگیا۔ آج بھی کسی ٹی ایل پی کے ورکر سے یا اس مسلک کے کسی بھی بندے سے پوچھ لیں، جو اس وقت نواز حکومت کو منہ بھر بھر کے گالیاں دیا کرتے تھے کہ جس ترمیم سے توہین رسالت ہو رہی تھی، اس کے الفاظ کیا تھے۔ مجھے سو فیصد یقین ہے کہ ایک بھی شخص شاید ہی بتا سکے گا۔ حافظ حمد اللہ مسلسل کہتے رہے کہ اس ترمیم سے کوئی توہین رسالت کا پہلو نہیں نکلتا اور اس ترمیم کی تجویز ن لیگ نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے آئی تھی لیکن جاہل عوام کو کون سمجھائے جو مزہب اور مسلک کے نام پہ اندھی ہوجاتی ہے۔ اپنی عقل استعمال کرنے کی  تو انہیں تربیت ہی نہیں دی گئی۔ فیض آباد دھرنے کے پیچھے کون تھا یہ جاننے کے لیے وہ ویڈیو کافی ہے جس میں دھرنے کے شرکا کو باقاعدہ وردی میں رہتے ہوئے ایک ایک ہزار روپیہ بانٹا جا رہا ہے۔

 

اور پھر جب خادم رضوی صاحب کی زبان سے نکلا کہ "میں دساں کدے آکھنے تے میں فیض آباد گیا سی"، تو یہ دھمکی وہ پنجابی گانا ثابت ہوئی

 

چھپ جاؤ تاریو پادیو ہنیر نی

آساں ایس رات دی نہیں ویکھنی سویر نی

 

گولڑہ شریف کے گدی نشینوں کا کیا کام تھا 2018 کے انتخابات سے پہلے ایک ہفتہ مزاکرات کرنا؟

 

پیر سیالوی نے مرنے سے پہلے اعترافی بیان دیا تھا کہ مجھ پہ دباؤ تھا لہزا میں نے عمران خان کا ساتھ دیا۔

دباؤ کس کا تھا؟؟؟

 

پاکستان کی عوام کا تو خیر نصیب ہی برا ہے لیکن ہماری اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی سوجھ بوجھ اور مردم شناسی بھی ہمیشہ انتہائی ناقص ہی ثابت ہوئی ہے۔ کراچی سیاسی سرگرمیوں کا ہمیشہ سے مرکز رہا ہے لہزا پہلے انہوں نے سیاسی پارٹیوں کا ووٹ توڑنے کے لیے ایم کیو ایم بنائی جو بعد میں عوام کے لیے مستقل قومی مصیبت ثابت ہوئی لیکن خود بنانے والوں کے لیے بھی وہ کسی عفریت سے کم نہ رہی۔ اب یہی کچھ عمران خان کے معاملے میں ہوا۔ یہ بھی ان کے لیے اب ایک بےقابو عفریت بن چکا ہے جس نے طاقت کے حصول کے لیے کثیر جہتی تعلقات قائم کررکھے ہیں، مثلا ایک جانب طالبان ہیں تو دوسری جانب جماعت اسلامی۔ یہ تو ایک مسلک کی سپورٹ ہوگئی۔ ٹی ایل پی، طاہر القادری اور مختلف گدیوں کی صورت میں دوسرے مسلک کی جانب سے بھی مدد حاصل ہوگئی۔ اپنے عوامی جلسوں میں جس امریکہ کو گالیاں دیتا پھرتا  ہے اور اپنے ٹایگرز کو ایبسولیوٹلی ناٹ کا جھانسہ دیتا رہا، اسی امریکہ کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی خاطر بھاری معاوضے پہ لابنگ فرمز ہائر کر رکھی ہیں. فارن فنڈنگ کیس کی تفصیلات اتنی ہوشربا ہیں کہ جس دن سامنے آگئی، وہ دن پاکستان کے لیے ہیرو شیما سے کم نہیں ہونے لگا۔

 

ہمیں ضرورت اس امر کی ہے کہ خود اپنے ذہن میں دو اور دو چار کریں اور معاملات کو پرکھیں پراپوگینڈا کا شکار ہونا کچے ذہن کی علامت ہے اور ہماری کم از کم اسی فیصد آبادی اسی مرض کا شکار ہے۔ خدارا، خود سے غیرجانبدارانہ تجزیہ کرکے درست نتائج اخذ کرنے کی عادت ڈالیں۔

Monday, October 11, 2021

Maryam & Safdar wedding

Real Name Mehrunnisa Safdar
Nickname Mehrunnisa
Profession Self- Employed
Famous For Grand-Daughter of Former Prime Minister of Pakistan Nawaz Sharif
Marriage Date 2015
Caste Muslim
Husband Name Raheel Munir
Husband Caste Muslim
Marital Status Married
Son N/A
Physical Status 
Age 28
Height
In centimeters- 167 cm
In meters- 1.67 m
In Feet Inches-5’6”
Weight
In Kilograms- 55 kg
In Pounds- 121 lbs
Eye Colour Black
Hair Colour Light Brown
Shoe Size 4 US
Personal Information
Date of Birth 23 November 1993
Birth Place Lahore, Pakistan
Zodiac sign Leo
Nationality Pakistani
School Name Private School
College Name N/A
Qualifications –
Family Profile
Father Name Muhammad Safdar Awan
Mother Name Maryam Nawaz
Siblings Sister: Mahnoor Safdar
Brother:- Muhammad Junaid Safdar

Career 
Source Of Income N/A
Appeared In N/A
Net Worth, Salary N/A
Mehrunnisa Safdar

https://arealnews.com/mehrunnisa-safdar/?amp

Sunday, September 12, 2021

قائداعظم ‏کی ‏جائداد

"قائد اعظم اپنی وصیت کی رو سے کھرب پتی تھے"

قائداعظم کے اثاثوں کی مالیت کا جائزہ اگر آج کے دور سے کیا جائے تو ان کی حیثیت دو ارب ڈالر سے زائد بنتی ہے۔

تحریر: سجاد اظہر

نوٹ: (ان لوگوں کے لیے جنہیں آج کل کے سیاست دانوں کے چند لاکھ ڈالرز کے فلیٹس سے کرپشن کی خوشبو آتی ہے۔)

قائداعظم جب اپنی علالت کے دن کوئٹہ میں گزار رہے تھے تو یکم ستمبر 1948 کو انہیں برین ہیمبرج ہوا۔ ان کے ڈاکٹر الہٰی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو کہا کہ انہیں جلد کراچی لے جانا چاہیے کوئٹہ جیسے شہر کی بلندی ان کے لیے موزوں نہیں ہے۔

ان کے خون میں انفیکشن بھی ظاہر ہوا تھا اور انہیں سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔ ڈاکٹرز نے بتایا کہ اب امید کی کوئی کرن باقی نہیں ہے اور کوئی معجزہ ہی انہیں بچا سکتا ہے۔ جب ڈاکٹرز نے انہیں کراچی لے جانے کے لیے اجازت مانگی تو انہو ں نے کہا کہ ’ہاں مجھے کراچی لے چلو میں وہیں پیدا ہوا تھا اور وہیں دفن ہونا چاہتا ہوں۔‘

اس کے ساتھ ہی ان کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ محترمہ فاطمہ جناح اپنی کتاب ’میرا بھائی‘ میں لکھتی ہیں کہ میں ساتھ کھڑی ہو گئی، نیم بے ہوشی میں ان کے ٹوٹتے الفاظ سن سکتی تھی۔ ’کشمیر۔ ۔ ۔ انہیں۔ ۔ ۔ فیصلہ کرنے کا۔ ۔ ۔ حق دو۔ ۔ ۔ آئین۔ ۔ ۔ میں اسے۔ ۔ جلد ہی۔ ۔ مکمل کروں گا۔ ۔ مہاجرین۔ ۔ ۔ ان کی۔ ۔ ہر ممکن۔ ۔ ۔ امداد۔ ۔ دیجیے۔ ۔ ۔ پاکستان۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘

یہ قائد کا آخری پیغام تھا، اس کے بعد کراچی کے ہسپتال میں 11 ستمبر کو ان کی زبان سے کلمہ طیبہ نکلا اور ان کا سر ایک جانب ڈھلک گیا۔ ہسپتال پہنچنے سے پہلے جب ان کی ایمبولینس راستے میں کھڑی ہو گئی تو فاطمہ جناح لکھتی ہیں کہ دوسری ایمبولینس آنے میں سڑک پر ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑا انہوں نے میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو میں نے کہا کہ ’ایمبولینس خراب ہو گئی ہے۔‘

ایمبولینس کیوں خراب ہوئی؟ قائداعظم کے علاج معالجے میں کیا کیا غلطیاں ہوئیں؟ انہیں بیرون ملک کیوں نہیں لے جایا گیا؟ لیاقت علی خان سے ملاقات کے بعد وہ اتنے مایوس کیوں ہو گئے تھے کہ انہوں نے اپنی بہن سے یہ کیوں کہا تھا کہ اب وہ مزید زندہ نہیں رہنا چاہتے؟ اس موضوع پر گذشتہ سالوں میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔

قائداعظم اگر بانیِ پاکستان نہ ہوتے تو بھی مالی لحاظ سے وہ اتنے مستحکم تھے کہ اپنا علاج دنیا میں کہیں بھی کرا سکتے تھے۔ ان کے اثاثوں کی مالیت کا جائزہ اگر آج کے دور سے کیا جائے تو ان کی حیثیت دو ارب ڈالر سے زائد ہو سکتی ہے جو روپوں میں ساڑھے تین کھرب بنتی۔

معروف محقق اور نامور بیوروکریٹ ڈاکٹر سعد خان نے 2020 میں چھپنے والی اپنی کتاب ’محمد علی جناح، دولت، جائیداد، وصیت‘ میں قائداعظم کے اثاثوں کے متعلق بہت تفصیل سے لکھا ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ قائد اعظم نے اپنی وصیت 30 مئی 1939 کو لکھی تھی جو اسماعیلی مروجہ قانون کے تحت تھی۔ یہ قانون انہیں اپنی مرضی سے حصے متعین کرنے کی اجازت دیتا تھا۔

وصیت کے دو حصے تھے پہلا حصہ خاندان کے افراد سے متعلق ہے جبکہ دوسرا پاکستان اور بھارت کے کئی اداروں کے نام اپنی وراثت چھوڑتا ہے۔ اس کے بعد قائداعظم نو سال تک زندہ رہے۔ پاکستان بھی بن گیا مگر انہوں نے اپنے رشتہ داروں اور تعلیمی اداروں کے حصوں میں کوئی کمی بیشی نہیں کی۔

ان میں اسلامیہ کالج پشاور، سندھ مدرستہ الا سلام، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، انجمن ِاسلام سکول بمبئی، عریک کالج نئی دہلی اور یونیورسٹی آف بمبئی شامل تھے۔

محمد علی جناح سے قائد اعظم بننے کا سفر تو تاریخ میں بہت تفصیل سے بیان ہوا ہے مگر ایک عام انسان سے کھرب پتی بننے کی داستان سے کوئی واقف نہیں ہے۔

ڈاکٹر سعد خان اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ 1900 میں بطور پریزیڈنسی مجسٹریٹ ان کی تنخواہ 1500 روپے ماہانہ تھی مگر انہوں نے چھ ماہ کے اندر یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا تھا کہ اتنے پیسے وہ روزانہ کما لیا کریں گے۔

پھر وہ دن آ ہی گیا جب ان کا شمار ہندوستان کے مہنگے ترین وکلا میں کیا جاتا تھا۔ انہوں نے وکالت سے جو پیسے کمائے ان سے سرمایہ کاری کی۔ 1926 میں بمبئی ڈائنگ، ٹاٹا سٹیل اور ٹرام وے کمپنی میں ان کے حصص کی مالیت 14 لاکھ روپے تھی جو آج کی کرنسی کے حساب سے 68 کروڑ روپے بنتی ہے۔
اس عرصے میں قائد اعظم کا شمار ہندوستان کے چوٹی کے 10 سرمایہ کاروں میں ہونے لگا تھا۔ اسی سال جب وہ اپنی بیگم رتی جناح کے ساتھ چھٹیاں منانے سری نگر کی ڈل جھیل گئے تو وہاں بیگم جناح نے ایک ہفتہ گزارنے کے لیے تیرتی کشتی کی تزئین و آرائش پر 50 ہزار روپے خرچ کر دیے۔ اس زمانے میں اس رقم سے کراچی یا لاہور کے پوش ایریا میں چار کنال کا بنگلہ مل جاتا تھا۔

قائداعظم اس زمانے میں کراچی، بمبئی، دہلی اور لاہور میں پرائم لوکیشنز پر انتہائی قیمتی جائیدادوں کے مالک بھی تھے۔ انہوں نے سب سے پہلے جو جائیداد خریدی وہ بمبئی میں لٹل گبز روڈ پر واقع ایک بنگلہ تھا اس کے ساتھ چار منزلہ عمارت مے فیئر فلیٹ نامی تھی جس میں آٹھ فلیٹس تھے۔ یہ عمارت انہوں نے منو چہر رستم جی سے 33 لاکھ آٹھ ہزار میں خرید کر کرائے پر چڑھا دی جسے انہوں نے 1943 میں 10 لاکھ میں فروخت کر کے کراچی اور لاہور میں جائیدادیں خریدیں۔

 بمبئی میں ساحل سمندر پر 15 ہزار 476 مربع گز پر ایک شاندار بنگلہ جو ساؤتھ کورٹ کہلاتا تھا انہوں نے 1916 میں سر آدم جی سے سوا لاکھ روپے میں خریدا تھا۔ جسے انہوں نے 1918 میں اپنی شادی کے موقع پر اپنی اہلیہ رتی جناح کو تحفہ میں دے دیا تھا۔

1936 میں انہوں نے پرانی عمارت کو گرا کر ایک اطالوی کمپنی کے ذریعے عالیشان بنگلہ بنوایا جس پر اس زمانے میں سوا دو لاکھ روپے لاگت آئی تھی اور یہ سوا تین سال میں مکمل ہوا تھا۔ اس گھر میں 22 ملازمین ان کی خدمات پر معمور تھے۔ مئی 1947 میں عراقی قونصل خانہ نے اسے 18 لاکھ میں خریدنے کی پیشکش کی تاہم قائداعظم اس کے 25 لاکھ مانگ رہے تھے۔

یہ جائیداد جو جناح ہاؤس کہلاتی ہے اُس وقت سے مقفل ہے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک سفارتی تنازعے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ تین سال پہلے اس کی قیمت کا تخمینہ 40 کروڑ ڈالرز لگایا گیا تھا۔

 جناح منزل دہلی قائداعظم نے 1938 میں ایک لاکھ میں خریدی تھی جہاں ان کے 19 ملازمین بھی رہا کرتے تھے اس زمانے میں اس گھر کا ماہانہ خرچہ 10 ہزار روپے تھا۔ 1947 میں قائداعظم نے جناح ہاؤس بھارت کے چوٹی کے صنعتکار اور ٹائمز آف انڈیا کے مالک کرشنا ڈالمیا کو تین لاکھ میں فروخت کر دیا تھا۔ اب یہ مکان ہالینڈ کے سفیر کی رہائش گاہ ہے جس کی موجودہ مالیت 12 کروڑ ڈالر ہے۔

اڑھائی ایکڑ پر محیط جناح منزل کراچی انہوں نے 1943 میں ایک لاکھ 80 ہزار روپے میں خریدی تھی۔ جو اب عجائب گھر میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں قائد اعظم کے ذاتی استعمال کی اشیا رکھی ہوئی ہیں۔ جب قائداعظم نے کراچی کا جناح ہاؤس خریدا اسی دوران انہوں نے جناح ہاؤس لاہور بھی خریدا۔ مال روڈ پر پونے پانچ ایکڑ پر محیط 53 نمبر بنگلہ ایک لاکھ 62 ہزار 500 روپے میں خریدا اور یہ سودا قائداعظم کی جانب سے جسٹس فائز عیسی کے والد قاضی محمد عیسی نے کیا تھا۔ اب یہ کور کمانڈر ہاؤس ہے۔

لاہور میں ہی قائداعظم نے 1945 میں نواب افتخار ممدوٹ سے اچھرہ میں 324 کنال اراضی خریدی تھی۔ اس راضی پر آج کل گلبرگ ٹو اور تھری ہے۔

اس کے علاوہ ان کے پاس لبرٹی مارکیٹ میں ڈیڑھ کنال کا کمرشل پلاٹ، انڈسٹریل ایریا میں 10 کنال کا پلاٹ تھا۔ کراچی میں بھی قائداعظم نے ملیر میں 12 ایکٹر کا باغ نواب آف بہاولپور سے خریدا تھا۔ قائداعظم نے کیماڑی میں ساحل سمندر پر 20 ایکڑ خرید کر اس میں ہٹ بنوایا۔ یہ جگہ محترمہ فاطمہ جناح کی وفات کے بعد ایک کروڑ 11 لاکھ میں فروخت کر کے رقم قائداعظم ٹرسٹ میں جمع کرا دی گئی۔

آئی آئی چندریگر روڈ پر تقریباً چار کنال پر ایک کمرشل پلازہ بھی انہوں نے خریدا تھا جسے بعد میں محترمہ فاطمہ جناح نے دادا بھائی کو فروخت کر دیا تھا۔ اپنی وفات سے 15 دن پہلے بھی انہوں نے میکلوڈ روڈ موجودہ آئی آئی چندریگر روڈ پر ایک کمرشل بلڈنگ 10 لاکھ میں خریدی تھی۔ یہ بلڈنگ ایک سال بعد محترمہ فاطمہ جناح نے ایک بینک کو 16 لاکھ میں فروخت کر دی جس میں آج سٹینڈرڈ چارٹرڈ بنک قائم ہے۔ فریئر ٹاؤن کراچی میں 10 کنال کا ایک بنگلہ بھی قائد کی ممکنہ جائیدادوں میں سے ہے جہاں آج کل پارک ٹاور نامی پلازہ ہے۔ اسی فہرست میں سول لائن نمبر ایک میں 9 کنال کا بنگلہ بھی آتا ہے۔

قائداعظم نے 36 برس کی عمر میں ہی مختلف کمپنیز کے حصص خریدنے شروع کر دیے تھے۔ انہوں نے سمپلیکس مل میں ایک لاکھ 25 ہزار کی سرمایہ کاری کی۔ آپ ا س مل کے تیسرے بڑے شیئر ہولڈر تھے۔

1927 تک آپ 11 بڑی کمپنیز کے حصص کے مالک بن چکے تھے۔ جہاں سے آپ کو سالانہ اچھ خاصی رقم بطور منافع مل رہی تھی۔ 1943 سے 1945 کے درمیان آپ نے مختلف صنعتوں میں 8 لاکھ سے زائد کی سرمایہ کاری کی۔

بمبئی میں واقع قائداعظم کے عظیم الشان بنگلہ ساؤتھ کورٹ کو جب بھارتی حکومت پاکستان کے حوالے کرنے پر تیار نہ ہوئی تو حکومت نے محترمہ فاطمہ جناح کو اس کے بدلے میں متروکہ جائیداد مہٹہ پیلس الاٹ کر دیا۔ 1999 سے اسے عجائب گھر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

قائداعظم کے 12 بینک اکاؤنٹ بھی تھے جن میں چار برطانیہ میں تھے۔ تقسیم کے بعد انہوں نے اپنے تمام کھاتے حبیب بینک کراچی میں منتقل کردیے جن کی مالیت اس وقت 62 لاکھ تھی۔

2 فروری 1948 کو آپ نے بینک سے 61 لاکھ قرضہ حاصل کیا جس میں سے 35 لاکھ 35 ہزار مسلم لیگ کے حوالے کر دیے۔

4 اگست کو انہوں نے خرابی صحت کی بنا پر بینک سے قرضے کی منسوخی استدعا کی اور نہ صرف پورے 61 لاکھ واپس کر دیے بلکہ بینک نے ایک لاکھ سات ہزار 658 روپے 12 آنے کا سود بھی وصول کیا۔

قائداعظم کی بطور گورنر جنرل ماہانہ تنخواہ 10 ہزار 476 روپے 10 آنہ مقرر ہوئی تھی جس میں سے چھ ہزار 112 روپے ٹیکس کٹوتی کے بعد آپ کو 4304 روپے 10 آنہ ملتے تھے

Monday, August 9, 2021

لیاقت علی خان کا قاتل کون

لیاقت علی خان کا قاتل کون

گزشتہ دنوں ایبٹ آباد میں ایک تاریخی شخصیت 106 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ آپ کو جان کر حیرت ہو گی کہ وہ کون سی شخصیت تھی جو گمنام رہی۔ تو وہ اس سید اکبر کی بیوی تھی جس نے 1951 میں ہمارے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کا لیاقت باغ میں قتل کیا تھا۔

اس سید اکبر کو تو موقع پر ہی پکڑنے کی بجائے قتل کیا گیا تھا۔ مگر اس کے چار بیٹوں اور بیوہ کو ایبٹ آباد کنج قدیم میں ایک گھر الاٹ کیا گیا اور سخت پہرے میں اس وقت کی جدید ترین سہولیات بھی مہیا  کی گئی تھیں۔ اس کا بڑا بیٹا دلاور خان جو اس وقت 8 سال کا تھا آج بھی 85 سال کی عمر میں زندہ سلامت اپنے ذاتی بہت بڑے گھر میں شملہ ہل بانڈہ املوک میں رہائش پزیر ہے کیونکہ جو گھر ان کو اور اس کی ماں کو الاٹ کیا گیا تھا وہ بیوہ کے نام پہ تھا اور ان کا بچپن وہاں گزرا۔

اسی دوران پہرہ دینے والے سپاہی سے ان کی ماں نے شادی کر لی تھی اور اس کے  ہاں 5 بچے یعنی چار بیٹے اور ایک بیٹی  کی مزید پیدائش ہوئی، 8 بھائی اور ایک بہن والا کنبہ نہایت خوشحال زندگی گزارتا رہا۔

بالآخر دلاور خان کی شادی بھی اس کے دوسرے پاکستانی والد بدل زمان خان نے اپنی رشتہ دار سے کروائی جو سات بچوں یعنی چار بیٹوں اور تین بیٹیوں کی ماں ہے، سید اکبر کے باقی تین بیٹے یکے بعد دیگرے امریکہ میں سیٹل کر دیئے گئے۔

دلاور خان شادی کے کچھ عرصہ بعد کابل گیا، بقول اس کےاپنی آبائی زمینیں دیکھنے اور اپنی بیوی اور ایک ہی بیٹا جو اس وقت تھا اس کو ماں کے پاس چھوڑ رکھا تھا۔ 8 سال بعد واپس آیا اور بیوی بچے کو بھی لے گیا۔ مگر کچھ عرصہ آنا جانا کرتا رہا اور بالآخر  پچھلے 50 سال سے مستقل اپنے ذاتی گھر میں مقیم ہے۔ الاٹ شدہ گھر ماں نے فروخت کر دیا تھا اور دوسرے خاوند کے بچوں کے ساتھ نئے بنگلوں میں رہائش پزیر تھی اور بالآخر دنیا سے رخصت ہوگئی۔

 

امید ہے آپ لوگوں کو اس پی ایم کے قتل کے بارے کچھ تو سمجھ آئی ہوگی۔

(قمر اللہ چودھری)

 

‏تلخ حقیقت

لیاقت علی خان کو جس نے شہید کیا اس قاتل کی بیوہ کو وظیفہ، رہائش اور سہولیات دی جاتی رہی جبکہ وزیر اعظم لیاقت علی خان کی بیوہ رعنا لیاقت علی خان کی پینشن حکومت پاکستان کی جانب سے روک دی گئی تھی۔

ہے نہ مزہ کی بات


-:-:-:-:-:-:-:-:-:-:-:-:-:-:-:-:-:-:-:-:-:-:-


ٹھیکیداروں کا ملک

زیروپوائنٹ از جاوید چوہدری

اتوار 8 اگست 2021


مجھے کل ایک دوست نے کراچی کی ایک خاتون کا وزیراعلیٰ سندھ کے نام خط بھجوایا‘ خاتون نے خط میں لکھا‘ میرے خاوند انتہائی علیل ہیں‘ یہ ہفتے میں تین بار ڈائیلیسز کراتے ہیں‘ ان کے ڈائیلیسز‘ ماہانہ ٹیسٹوں‘ ادویات‘ انجیکشنز اور ڈاکٹروں کی فیسوں پر ایک لاکھ 75 ہزار روپے ماہانہ خرچ ہو جاتے ہیں‘ ہماری دونوں بیٹیاں مل کر یہ اخراجات برداشت کرتی ہیں لیکن اب ان کے بس کی بات بھی نہیں۔ لہٰذا میری آپ سے درخواست ہے آپ مہربانی فرما کر میرے خاوند کے میڈیکل اخراجات کا کوئی مستقل بندوبست کر دیں۔ خاتون نے آخر میں لکھا کہ میرے خاوند میرے گھر میں رہتے ہیں اور یہ گھر مجھے میری والدہ نے دیا تھا‘ یہ ایک عام سا خط تھا۔ ملک میں روز ہزاروں لوگ اس قسم کے خط لکھتے ہیں اور حکومت سے امداد مانگتے ہیں۔ یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں لیکن یہ خط اس کے باوجود غیرمعمولی ہے۔

کیوں؟

کیوں کہ یہ درخواست کسی عام شخص نے نہیں کی‘ یہ خط پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کی بہو دُر لیاقت علی خان نے لکھا تھا اور جس مریض کے لیے امداد مانگی جا رہی ہے اس کا نام اکبر علی خان ہے اور یہ لیاقت علی خان اور بیگم رعنا لیاقت علی کا بیٹا ہے۔

ہمارے ملک میں شاید بہت کم لوگوں کو علم ہو گا کہ لیاقت علی خان کرنال کے بہت بڑے جاگیردار خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی جاگیر میں ریلوے سٹیشن تھا اور ان کے کھیت اور باغ میلوں تک پھیلے تھے۔ وہ 1918ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھنے گئے تھے۔ وکالت شروع کی تو وہ چند برسوں میں ہندوستان کے بڑے وکلاء میں شمار ہونے لگے۔ 1923ء میں سیاست میں آئے اور 1926ء میں انگریز دور میں یوپی اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے۔ مسلم لیگ جوائن کی تو قائداعظم کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کے سب سے بڑے لیڈر بن گئے۔ 1947ء میں پاکستان آئے تو اپنی ساری زمین جائیداد‘ روپیہ پیسہ حتیٰ کہ کپڑے تک بھارت چھوڑ آئے اور کراچی میں جائیداد کا کسی قسم کا کلیم نہ کیا۔ اس سرزمین پر ایک انچ زمین نہ لی۔ وہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے۔ وہ اگر چاہتے تو آدھا کراچی‘ لاہور اور راولپنڈی ان کا ہوتا‘ وہ اگر دہلی اور ممبئی کے گھروں کا کلیم ہی لے لیتے تو ان کا خاندان آج ارب پتی ہوتا لیکن اس درویش صفت انسان نے ملک کو اپنا سب کچھ دے دیا، لیکن بدلے میں لیا کچھ نہیں۔

ان کی بیگم اپنے زمانے کی انتہائی خوب صورت‘ مہذب اور پڑھی لکھی خاتون تھیں۔ وہ برٹش آرمی کے انگریز میجر جنرل ڈینیل پینٹ کی بیٹی تھیں۔ والدہ برہمن تھی‘ لکھنو یونیورسٹی سے گریجوایشن کی اور گوکھلے میموریل سکول کلکتہ میں پڑھانا شروع کر دیا۔ 1931ء میں ایم اے کیا اور دہلی میں پروفیسر بن گئیں۔ ان کا نام شیلا آئرن پینٹ تھا۔ 1932ء میں اسلام قبول کیا‘ خان لیاقت علی خان سے شادی کی اور شیلا سے بیگم رعنا لیاقت علی خان بن گئیں۔ ان کے دو بیٹے تھے‘ اکبر علی خان اور اشرف علی خان۔ یہ دونوں سعادت مند بھی تھے اور عزت دار بھی۔

لیاقت علی خان اور رعنا لیاقت علی خان نے جوانی فراوانی میں گزاری تھی۔ دنیا جہاں کی نعمتیں ہاتھ باندھ کر سامنے کھڑی رہتی تھیں لیکن یہ لوگ جب پاکستان آئے تو یہ خالی ہاتھ تھے۔ کراچی میں خان لیاقت علی خان کے نام پر ہزاروں ایکڑ پر لیاقت آباد کا سیکٹر بنا لیکن اس میں بھی خان لیاقت علی خان نے ایک انچ زمین نہیں لی۔

یہ جب 16 اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی میں سید اکبر کی گولی کا نشانہ بنے اور ان کی اچکن اتاری گئی تو پتا چلا کہ ملک کے پہلے وزیراعظم نے شیروانی کے نیچے کرتہ نہیں پہنا ہوا تھا‘ بنیان تھی اور وہ بھی پھٹی ہوئی تھی۔ گھر میں کپڑوں کے صرف تین جوڑے اور دو جوتے تھے۔ اکائونٹ میں چند سو روپے تھے۔ بیگم اور بچے وزیراعظم ہائوس میں رہتے تھے۔

خواجہ ناظم الدین نئے وزیراعظم بن گئے۔ یہ اس گھر میں آئے تو پتا چلا لیاقت علی خان کی فیملی کے لیے پورے ملک میں کوئی گھر موجود نہیں۔ سوال اٹھا کہ یہ لوگ کہاں جائیں گے؟ لہٰذا خواجہ ناظم الدین نے بیگم رعنا لیاقت علی خان کو ہالینڈ میں سفیر بنا کر بھیج دیا۔ بیگم رعنا ہالینڈ‘ پھر اٹلی اور آخر میں تیونس میں سفیر رہیں۔ یہ واپس آئیں تو ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں گورنر سندھ بنا دیا۔ یہ پاکستان کی پہلی خاتون چانسلر بھی رہیں‘ یہ کراچی یونیورسٹی کی چانسلر تھیں۔ آپ اپوا سے لے کر پاکستان نیشنل وومن گارڈز‘ پاکستان وومن ریزرو‘ پاکستان کاٹیج انڈسٹریز شاپ‘ ماڈل کالونی برائے کرافٹس‘ گل رعنا نصرت انڈسٹریل سنٹر‘ کمیونٹی سنٹر یا پھر فیڈریشن آف یونیورسٹی وومن اور انٹرنیشنل وومن تک ملک میں خواتین کا کوئی ادارہ دیکھ لیں، آپ کو خواتین سے متعلقہ ہر بڑے ادارے کے پیچھے بیگم رعنا لیاقت علی خان ملیں گی۔

یہ جب ہالینڈ میں سفیر تھیں تو ان کے بارے میں ایک واقعہ مشہور ہوا۔ ہالینڈ کی ملکہ جولیانا ان کی دوست بن گئیں۔ یہ دونوں خواتین اس وقت پورے یورپ میں مشہور تھیں۔ بیگم رعنا لیاقت تاش کے کھیل بریج کی بہت بڑی ایکسپرٹ تھیں۔ یہ روزانہ ملکہ کے ساتھ بریج کھیلتی تھیں۔ ایک دن ملکہ جولیانا نے بیگم رعنا کے ساتھ شرط لگائی اگر تم آج کی بازی جیت گئی تو میں تمہیں اپنا ایک محل گفٹ کر دوں گی۔ بازی شروع ہوئی اور بیگم رعنا لیاقت علی جیت گئیں۔ ملکہ نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنا ایک محل رعنا لیاقت علی خان کو دے دیا اور بیگم صاحبہ نے یہ محل حکومت پاکستان کے لیے وقف کر دیا۔ آج بھی ہالینڈ میں پاکستان کا سفارت خانہ اسی محل میں قائم ہے۔

یہ 1990ء میں کراچی میں فوت ہوئیں اور انہیں مزار قائد پر خان لیاقت علی خان کے پہلو میں دفن کر دیا گیا لیکن یہ ہوں یا خان لیاقت علی خان وہ اپنی اولاد کے لیے کوئی زمین یا جائیداد چھوڑ کر نہیں گئے۔ آج ان کے صاحب زادے اکبر علی خان اپنی بیگم دُر لیاقت کے گھرمیں رہتے ہیں اوران کی حالت یہ ہے ان کی بیگم اپنے بیمار خاوند کے علاج کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھنے پر مجبور ہیں۔ ملک کے پہلے وزیراعظم کے صاحب زادے اور بہو ہر ماہ ایک لاکھ 75 ہزار روپے افورڈ نہیں کر سکتے۔ یہ خان لیاقت علی خان کے ملک میں اپنے ڈائیلیسز کا خرچ پورا نہیں کر سکتے۔

یہ ملک ان لوگوں کا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو میلوں پر پھیلی جاگیریں چھوڑ کر اس ملک میں آئے اور پھر پھٹی ہوئی بنیان کے ساتھ دفن ہوئے۔

یہ ملک راجہ صاحب محمود آباد جیسے لوگوں کا ملک تھا۔ وہ محمود آباد کی ریاست کے راجہ تھے۔ پوری زندگی اپنی رقم سے مسلم لیگ چلائی۔ پاکستان بنا  تو کراچی آ گئے اور حکومت سے کوئی گھر، کارخانہ یا زمین نہیں لی۔ ملک میں جب سیاسی افراتفری پھیلی‘ مارشل لاء لگا تو یہ مایوس ہو گئے، چپ چاپ اٹھے‘ بیگ اٹھایا اور لندن جا بسے۔ راجہ صاحب محمود آباد کا 1973ء میں لندن میں انتقال ہوا۔ وہ انتقال سے قبل ہر ملنے والے سے کہتے تھے کہ میں پوری زندگی جن انگریزوں سے لڑتا رہا‘ مجھے آخر میں انہی انگریزوں کے گھر میں پناہ لینا پڑ گئی اور میں آج ان کی مہربانی سے اپنا آخری وقت عزت کے ساتھ گزار رہا ہوں۔

یہ سردار عبدالرب نشتر‘ مولوی فضل حق‘ حسین شہید سہروردی اور خواجہ ناظم الدین کا ملک تھا۔ یہ لوگ ملک بننے سے قبل کروڑ بلکہ ارب پتی تھے لیکن وہ اس ملک میں آئے‘ عسرت میں زندگی گزاری اور پھر ان کی اولادیں اکبر علی خان کی طرح علاج اور چھت کو ترستی ہوئی دنیا سے رخصت ہو گئیں جبکہ ان کے اردگرد1700ایکڑ کا رائے ونڈ بھی بن گیا‘ کراچی کا بلاول ہائوس 64 عمارتیں ہضم کرنے کے باوجود بھی نامکمل رہا‘ لندن کے ایک فلیٹ کی برکت سے تین سو کنال کا بنی گالہ بھی بن گیا اور راولپنڈی کی رنگ روڈ میں چند کلومیٹر کا اضافہ کر کے ذلفی بخاری نے اربوں روپے سمیٹ لیے اور غلام سرور خان کے نام پر نواسٹی کے مالکان نے مارکیٹ میں بیس تیس ہزار فائلیں بھی بیچ دیں۔

آپ المیہ دیکھیے آج اس ملک میں قائداعظم کے رشتے دار چھت‘ علاج اور سواری کو ترس رہے ہیں‘ خان لیاقت علی خان کی بہو وزیراعلیٰ کو لیاقت علی خان کے صاحب زادے کے لیے ایک لاکھ 75 ہزار روپے کی امداد کی درخواست کر رہی ہے۔ راجہ صاحب محمود آباد ان انگریزوں کے قبرستان میں مدفون ہیں جن سے لڑ کر انہوں نے پاکستان حاصل کیا تھا۔ حسین شہید سہروردی بیروت میں لیٹے ہیں، خواجہ ناظم الدین کی آل اولاد تاریخ کے صفحات میں گم ہو گئی۔ مولوی فضل حق عبرت کی نشانی بن کر ڈھاکہ میں دفن ہو گئے اور محمد علی بوگرا ملک چھوڑ کر بوگرا گئے اور چپ چاپ وہاں انتقال کر گئے، جب کہ ملک کے ٹھیکے دار آج بھی چینی‘ آٹے اور ایل این جی سے ایک ایک مہینے میں چار چار سو ارب روپے کما لیتے ہیں۔ آج لیاقت علی خان کی بہو اس ملک میں پوچھ رہی ہے کیا یہ ملک ان ٹھیکے داروں کے لیے بنا تھا‘ کیا لیاقت علی خان جیسے لوگوں نے یہ ملک اس لیے بنایا تھا کہ ان کے نواب ابن نواب بچے علاج کو ترستے رہیں، جب کہ ذلفی بخاری اور غلام سرور خان جیسے لوگ رنگ روڈ سے اربوں روپے کما لیں؟

یہ ہے آج کا پاکستان‘ ٹھیکے داروں کا ملک۔ ٹھیکے دار مفادات کے حمام میں ننگے نہا رہے ہیں۔ یہ ایک ایک رات میں وفاداری بدل کر صاف ستھرے ہو جاتے ہیں جب کہ مالک اور ان کی اولادیں علاج اور عزت کو ترستی ترستی دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں۔ ملک کے مالکوں کے بچے ڈائیلیسزکا خرچ برداشت نہیں کر پا رہے جب کہ وزیرصحت ادویات کی قیمت بڑھا کر تین چار ارب روپے جیب میں ڈالتے ہیں اور پارٹی کے سیکرٹری جنرل بن جاتے ہیں۔ کیا بات ہے؟ ہمیں شاید من حیث القوم انہی احسان فراموشیوں کی سزا مل رہی ہے‘ ہم شاید اسی لیے پوری دنیا سے جوتے کھا رہے ہیں۔

Sunday, July 25, 2021

پاکستان ‏کے ‏لیے ‏قربانیاں ‏دینے ‏والے ‏خاندان

پاکستان کے لیے قربانیاں دینے والےخاندان
محمود شام
 25 جولائی ، 2021


 
آج اتوار ہے۔ بیٹوں بیٹیوں۔ پوتوں پوتیوں۔ نواسوں نواسیوں سے ملنے ملانے کا دن۔ کہئے عید کیسی گزری۔ کووڈ19 میں آنے والی دوسری عیدِ قرباں۔ ﷲ تعالیٰ سے التجا ہے کہ اب اس وبا سے انسانیت کو نجات عطا فرما۔ کتنی جانیں اس کی نذر ہوچکی ہیں۔ ملکوں کی معیشت برباد ہوچکی ۔ ﷲ تعالیٰ کا نائب انسان بہت دل گرفتہ ہے۔ مستقبل کی منصوبہ بندی اطمینان سے نہیں کرپارہا ۔آج اپنے گھر والوں، اولادوں کے ساتھ آنے والے دنوں کی باتیں کریں۔ ہم جس خطّے میں رہتے ہیں یہاں زندگی آسان نہیں ہے۔ بہت مشکلات ہیں۔ ہم بنیادی مسائل بھی حل نہیں کر پائے۔ دنیا والے خلا کا سفر شروع کرچکے ہیں۔ ایک امیر ترین امریکی خلا کو کامیابی سے ہاتھ لگاکر زمین پر واپس آچکے ہیں۔ اب دولت مندوں کی دوڑ لگ جائے گی خلا نوردی کے لئے۔

آپ کو یاد ہے ہم نے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم شہید ملت لیاقت علی خان کے صاحبزادے اکبر لیاقت علی کی علالت کی جانب قوم کی توجہ دلائی تھی۔ ﷲ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ یہ تحریر اس خاندان ، عوام اور حکمرانوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنی۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب ان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور حکومتِ سندھ کی طرف سے مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ بہت سے درد مند پاکستانیوں نے انہیں فون بھی کیے۔ پھول بھی بھجوائے۔ بیگم اکبر لیاقت ان سب خواتین و حضرات کا شکریہ ادا کررہی ہیں۔ صدر مملکت جناب عارف علوی بھی جمعہ کے روز اکبر میاں کی مزاج پرسی کیلئے تشریف لائے۔

14اگست قریب آرہی ہے۔ پاکستان ہماری جان آزادی کے 74سال گزار کر 75ویں سال میں داخل ہوجائے گا۔ہم ان کالموں میں گزارش کرتے آرہے ہیں کہ اپنی تمام مایوسیوں ناکامیوں کے باوجود ہمیں ڈائمنڈ جوبلی منانی چاہئے۔ ہم اپنے 75سال کا تجزیہ کریں۔ یونیورسٹیاں تحقیقی ادارے ان برسوں میں اپنی کامیابیوں۔ ناکامیوں کے اسباب تلاش کریں۔ ہماری محرومیاں، پسماندگی حقیقت ہیں۔ ہم ترقی یافتہ ممالک سے یقیناً کئی سال پیچھے ہیں۔ لیکن اس پسماندگی کو دور بھی ہمیں ہی کرنا ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں اپنے محسنوں کو یاد کرنا چاہئے جنہوں نے ہمیں انگریز سے نجات دلائی اور ایک آزاد خودمختار ملک کا شہری بننے کا شرف دلوایا۔ اس آزاد سر زمین میں ہماری کم از کم 3نسلیں تو ہوچکی ہیں۔ اکبر لیاقت علی خان کی علالت پر تحریر نے پورے ملک میں پاکستان کے اوائل کی یادیں تازہ کردی ہیں۔ بہت سے قارئین کا اصرار ہے کہ ہم بانیان پاکستان کے خاندانوں کو یاد کریں۔ دیکھیں کہ ان پر کیا گزری۔ ان میں سے کتنے معاشی طور پر آسودہ ہیں۔ کتنے نا انصافیوں کا شکار ہیں؟

میں تو اپنی یادداشت کو بنیاد بناکر کچھ شخصیتوں کا حوالہ دوں گا۔ یونیورسٹیاں تو باقاعدہ تحقیق کرسکتی ہیں۔ ابھی کچھ لوگ ہوں گے جو تحریکِ پاکستان میں لڑکپن اور جوانی میں حصّہ لے چکے ہوں گے۔ بانیان پاکستان صرف وہ نہیں ہیں جو ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے۔ مشرقی اور مغربی پاکستان میں پہلے سے رہنے والے کئی خاندان بھی تحریک پاکستان میں بہت سرگرم رہے ہیں۔ جب مہاجرین اپنے خوابوں کی سر زمیں پر پہنچے تو ان گھرانوں نے ان کا استقبال کیا۔ اپنے گھروں اور دلوں کے دروازے ان کے لئے کھول دیے۔ 1947 سے 1951 تک اخبارات میں ان کے نام نمایاں ہوتے تھے۔ ان کی خدمات کو اس 75ویں سال میں خراج تحسین پیش کرنا چاہئے۔ ان کے ورثا کو تلاش کرکے ان کو ایوارڈز دیے جائیں۔

اگست 2021سے اگست 2022کے دوران ان سب کو یاد کرنا۔ نئی نسل کو ان سے ان کی قربانیوں سے متعارف کروانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ سندھ میں مجھے پیر الٰہی بخش یاد آتے ہیں۔ جی ایم سید، قاضی محمد اکبر، قاضی عبدالمجید عابد۔ ہجرت کرکے آنے والوں میں مولانا عبدالحامد بدایونی، حسین امام، چوہدری خلیق الزماں، راجہ صاحب محمود آباد، نواب صدیق علی خان، شہزادی عابدہ سلطان، محمود الحق عثمانی، نورا لصباح بیگم، مرزا ابوالحسن اصفہانی، سیٹھ احمد دائود،حسن اے شیخ۔ سندھ سے ہی آغا غلام نبی پٹھان، ایم اے کھوڑو، عبدالستارپیرزادہ،محمد ہاشم گزدر،مولانا حشام الحق تھانوی، پیر محفوظ، سردار امیر اعظم۔پنجاب میں میاں ممتاز دولتانہ،میاں افتخار الدین،صوفی عبدالحمید ،میجر اسحاق، عبدالحمید دستی، مولانا محمد بخش مسلم، مولانا علائو الدین صدیقی۔ پشاور سے عبدالرب نشتر، خان عبدالقیوم ، پیر صاحب مانکی شریف، یوسف خٹک۔ کوئٹہ سے میر جعفر خان جمالی، قاضی محمد عیسیٰ، امان ﷲ گچکی، نواب محمد اکبر بگٹی، خان آف قلات۔

ماہرین تعلیم اشتیاق حسین قریشی، ڈاکٹر محمود حسین، ڈاکٹر رضی الدین صدیقی، علامہ آئی آئی قاضی، پیر حسام الدین راشدی۔ اے ایم قریشی۔ سینکڑوں بلکہ ہزاروں نام تھے۔ جو آپ اپنے اپنے شہر میں جانتے ہوں گے۔ بہت عظیم ہستیاں تھیں۔ جو ایک نئے ملک کے مسائل اور وسائل سے آگاہ تھیں۔ اس آگہی کی روشنی میں اپنے اپنے علاقے میں انہوں نے قیام پاکستان کے لئے کوششیں کیں۔ جمہوریت کی بحالی اپنے حقوق کے حصول۔ محنت کشوں کے تحفظ کے لئے بشیر احمد بختیار یاد آتے ہیں۔ امیر دادا، مرزا ابراہیم، سی آر اسلم، شمیر واسطی، نبی احمد، ایس پی لودھی، عثمان بلوچ، واحد بشیر، علی امجد، منہاج برنا، حبیب جالب۔ مرکزی قیادتوں کی طاقت مختلف صوبوں اور شہروں کی قیادتیں ہوتی تھیں۔ تحریک نظام مصطفیٰ، تحریک بحالی جمہوریت، پروفیسر غفور احمد، مولانا شاہ احمد نورانی، شاہ فرید الحق، نوابزادہ نصر ﷲ خان، خان عبدالولی خان تو مرکزی قیادتیں تھیں۔ زین العابدین، علائو الدین عباسی، مشیر احمد پیش امام، رسول بخش پلیجو، فاضل راہو۔ کیسے بھول سکتے ہیں عابد زبیری کو۔

یہ سب وہ درد مند انسان تھے۔ عظیم پاکستانی جنہوں نے اس ملک کی بنیادیں مستحکم کیں۔ معاشرے کو تعصبات سے آزاد کرنے کی جدو جہد کی۔ آئیے جاننے کی کوشش کریں کہ ان کے ساتھی کون کون تھے۔ مختلف شہروں میں یہی بے لوث خدمات کون انجام دے رہے تھے۔ تاریخ پاکستان ان کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہے۔

Wednesday, July 21, 2021

فوج ‏کے ‏کارنامے

_____________________

فوج ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔ !!
ﻓﻮﺝنہیں ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﺒﺎﺋﻞ نے ﻟﮍ ﮐﺮ کشمیر ﮐﻮ آزاد ﮐرالیا۔ !!
ﻓﻮﺝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮏ ﭨﻮﭦ ﮔﯿﺎ ‏( 1971 ‏) ۔ !!
ﻓﻮﺝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﺭﮔﻞ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ !!
ﻓﻮﺝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺎﭼﻦ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ !!
فوج تھی اور مودی نے مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرلیا اور جرنیل یہاں سینٹ چیئرمین کا الیکشن مینج کرتے رھے۔!!
ﻓﻮﺝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺮیکی فوجیﮔﮭﺲ ﮐﮯ ﺍﺳﺎﻣﮧ ﺑﻦ ﻻﺩﻥ ﮐﻮ مار ﮐﺮ اٹھا لےگیا اور یہ سوتے رہ گئے۔ !!
ﻓﻮﺝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺭیمنڈ ﮈﯾﻮﺱ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ بھجوا دیا ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻋﻮﺍﻡ ﻗﺘﻞ ﮐﺌﮯ ﺗﮭﮯ !!
ﻓﻮﺝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﻧﻞ ﺟﻮﺯﻑ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ !!
ﻓﻮﺝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻓﯿﮧ ﺻﺪﯾﻘﯽ ﮐﻮ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﺑﯿﭽﺎ ﮔﯿﺎ۔ !!
ﻓﻮﺝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﮨﺸﺘﮕﺮﺩﯼ ﻣﯿﮟ 1 ﻻﮐﮫ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﻮﺍﻡ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﺋﮯ
ﻓﻮﺝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﻭ ﺍﻧﻮﺭ ﻧﮯ 444 ﭘﺨﺘﻮﻧﻮ ﮐﻮ ﺟﻌﻠﯽ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺭ ﺩﺋﮯ
ﻓﻮﺝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﻭﯾﺰ ﻣﺸﺮﻑ ﻧﮯ 4000 ﮨﺰﺍﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯿﻮں ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ کی ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺑﯿﭻ ﺩیا
ﻓﻮﺝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ APS ﺳﮑﻮﻝ ﭘﺮ ان کی سخت سیکورٹی تھی ﻣﮕﺮ 150 ﺑﭽﮯ ﺍﻧﮑﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺭﮮ ﮔﺌﮯ۔
ﻓﻮﺝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ بین الاقوامی حدود کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ﻗﺒﺎﺋﻞ ﭘﺮ ﮈﺭﻭﻥ ﺳﮯ میزائل ﺑﺮﺳﺎتا رھا۔!
ﻓﻮﺝ ﻧﮯ ﮈﺍﻟﺮﻭں ﮐﮯ ﻋﻮﺽ غیرت مند ﻗﺒﺎﺋﻞ ﮐﻮ ﺩﺭﺑﺪﺭ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻭں ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺭﮐﯿﭩﻮں ﮐﻮ ملیاﻣﯿﭧ ﮐﺮ ﺩیا
ﻓﻮﺝ نے ﺩھﺸﺖ ﮔﺮﺩ بنائے اور ان کی ملک دشمن ﭘﺎﻟﺴﯿﻮں ﮐﯽ ﻭﺟﮧ سے ﭘﺎﮐﺴﺘﺎنی ﻣﻌﯿﺸﺖ کو ناقابل تلافی نقصان ہوا لیکن جرنیل اربوں پتی ھوگئے اور تاحال ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی طرف سے صرف گزشتہ دھائی میں دی گئی 33ارب ڈالرز یا قریبا ساٹھ کھرب روپے کی فوجی امداد کا حساب مانگ رھا ھے۔
ﻓﻮﺝ ﮐﯽ ﺩھﺸﺖ ﮔﺮﺩ نواز ﭘﺎﻟﺴﯿﻮں ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺳﺎﺭﮮ ھﻤﺴﺎﯾﮧ ﻣﻤﺎﻟﮏ کے ﺴﺎﺗﮫ ھمارے ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﺧﺮﺍﺏ ھیں
ﻓﻮﺝ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺎﺗﺤﺖ ﺍﺩﺍﺭﻭں ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﺍﻭﺭ KPK FATA ﮐﮯ ﮨﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﻻشیں ملیں ﯾﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻨﺪﮦ ﻻ ﭘﺘﮧ ھﮯ
ﻓﻮﺝ ﮐﯽ ﻣﺪﺍﺧﻠﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﻠﮏ ﮐی ﻋﺪﻟﯿﮧ، ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﻨﭧ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺍﺩﺍﺭﮮ ﺻﺮﻑ ﻧﺎﻡ ﮐﮯ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ھیں ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻭﻏﯿﺮﮦ

ﺍﺏ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﺎ ھﮯ ﮐﮧ ﻓﻮﺝ نہ ﺭﮨﯽ ﺗﻮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭھے ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﭼﮭﺘﺮﻭﻝ ﺯﯾﺘﻮﻥ ﮐﮯ ﺗﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﻟﺘﺮ ﺑﮭﮕﻮ ﮐﺮ ﮐﯿﺠﯿﺌﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﺳﮯ ﺑﻮﭦ ﭘﺎﻟﺸﯽ ﮐﺎ ﮐﯿﮍﺍ ﺑﺎﮨﺮ آجائے

نوٹ: اس وقت ملک کے وزیراعظم کی تنخواہ 2لاکھ
اور اس کے اسسٹنٹ عاصم باجوہ کی تنخواہ 45لاکھ
جبکہ عاصم باجوہ کے مشیر کی تنخواہ 15لاکھ ھے
جرنیلوں کو نوازنے کے لیے نئے نئے عہدے تخلیق کئے جا رھے ہیں۔ آپ نے آج تک ڈی جی ریلوے کا عہدہ نہیں دیکھا ہوگا لیکن آج وہ بھی بنا دیا گیا اور ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر کو تعینات بھی کردیا گیا یقینا اسکی تنخواہ شیخ رشید سے زیادہ ہو گی۔ آج تقریباً ھر بڑی اور اتھارٹی والی سول پوسٹ پر کوئی فوجی افسر براجمان ھے۔ یہ جرنیل سارا بجٹ ھڑپ کرکے آڈٹ کروانا بھی مناسب نہیں سمجھتے۔ کیوں؟

لیکن یہاں 70سال سے قوم کو جھوٹ یہ پڑھایا گیا کہ سیاستدان ملک کھا گئے۔۔۔ مرحومہ عاصمہ جہانگیر نے درست کہا تھا کہ جس دن جرنیلوں کی کرپشن بے نقاب ہو گئی یہ بےاختیار سیاستدان بیچارے آپ کو فرشتے لگیں گے😜😜😜 ویسے کوئی ان جرنیلوں سے پوچھے بھلا یہ تغمےکشمیر آزاد کرانےکےھیں یا پاکستان کو فتح کرنےکے؟⁦🇵🇰⁩⁦🇵🇰⁩⁦🇵🇰⁩🤔
(منقول)

اس کا آپکو پتہ تو ہوگا پھر بھی یاداشت تازہ کرنے کے لیئے ۔۔۔۔
پڑھتا جا شرماتا جا😢😷🤔

1955ءمیں کوٹری بیراج کی تکمیل کےبعدگورنرجنرل غلام محمدنےآبپاشی سکیم شروع کی۔4 لاکھ مقامی افراد میں تقسیم کی بجائے یہ افراد زمین کے حقدار پائے:
1:جنرل ایوب خان۔۔500ایکڑ
2:کرنل ضیااللّہ۔۔500ایکڑ
3:کرنل نورالہی۔۔500ایکڑ
4:کرنل اخترحفیظ۔۔500ایکڑ
5:کیپٹن فیروزخان۔۔243ایکڑ
6:میجرعامر۔۔243ایکڑ
7:میجرایوب احمد۔۔500ایکڑ
8:صبح صادق۔۔400ایکڑ
صبح صادق چیف سیکرٹری بھی رھے۔

1962ءمیں دریائےسندھ پرکشمورکےقریب گدوبیراج کی تعمیرمکمل ہوئی۔
اس سےسیراب ہونےوالی زمینیں جن کاریٹ اسوقت5000-10000روپے
ایکڑ تھا۔عسکری حکام نےصرف500روپےایکڑکےحساب سےخریدا۔
گدوبیراج کی زمین اس طرح بٹی:
1:جنرل ایوب خان۔۔247ایکڑ
2:جنرل موسی خان۔۔250ایکڑ
3:جنرل امراؤ خان۔۔246ایکڑ
4:بریگیڈئر سید انور۔۔246ایکڑ
دیگر کئ افسران کو بھی نوازا گیا۔
ایوب خان کےعہدمیں ہی مختلف شخصیات کومختلف بیراجوں پرزمین الاٹ کی گئی۔انکی تفصیل یوں ہے:
1:ملک خدا بخش بچہ 
وزیر زراعت۔۔158ایکڑ
2:خان غلام سرور خان،
وزیرمال۔۔240ایکڑ
3:جنرل حبیب اللّہ
وزیرداخلہ۔۔240ایکڑ
4:این-ایم-عقیلی 
وزیرخزانہ۔۔249ایکڑ
5:بیگم عقیلی۔۔251ایکڑ
6:اخترحسین
گورنر مغربی پاکستان۔۔150ایکڑ
7:ایم-ایم-احمد مشیراقتصادیات۔۔150ایکڑ
8:سیدحسن 
ڈپٹی چیرمین پلاننگ۔۔150ایکڑ
9:نوراللّہ ریلوے انجیئر۔۔150ایکڑ
10:این-اے-قریشی 
چیرمین ریلوے بورڈ۔۔150ایکڑ
11:امیرمحمد خان
سیکرٹری صحت۔۔238ایکڑ
12:ایس-ایم-شریف سیکرٹری تعلیم۔۔239ایکڑ

جن جنرلوں کوزمین الاٹ ہوئی۔انکی تفصیل یوں ہے:
1:جنرل کے-ایم-شیخ۔۔150ایکڑ
2:میجر جنرل اکبرخان۔۔240ایکڑ
3:برئگیڈیر ایف-آر-کلو۔۔240ایکڑ
4:جنرل گل حسن خان۔۔150ایکڑ

گوھر ایوب کےسسرجنرل حبیب اللّہ کوہربیراج پروسیع قطعۂ اراضی الاٹ ہوا۔
جنرل حبیب اللّہ گندھاراکرپشن سکینڈل کےاہم کردارتھے۔

جنرل ایوب نےجن ججزکوزمین الاٹ کی گئ:
1:جسٹس ایس-اے-رحمان 150ایکڑ
2:جسٹس انعام اللّہ خان۔۔240ایکڑ
3:جسٹس محمد داؤد۔۔240ایکڑ
4:جسٹس فیض اللّہ خان۔۔240ایکڑ
5:جسٹس محمد منیر۔۔150ایکڑ
جسٹس منیرکواٹھارہ ہزاری بیراج پربھی زمین الاٹ کی گئی۔اسکےعلاوہ ان پرنوازشات رھیں۔

ایوب خان نےجن پولیس افسران میں زمینیں تقسیم کیں:
1:ملک عطامحمدخان ڈی-آئی-جی 150ایکڑ
2:نجف خان ڈی-آئی-جی۔۔240ایکڑ
3:اللّہ نوازترین۔۔240ایکڑ
نجف خان لیاقت علی قتل کیس کےکردارتھے۔قاتل سیداکبرکوگولی انہوں نےماری تھی۔
اللّہ نوازفاطمہ جناح قتل کیس کی تفتیش کرتےرھے۔

1982میں حکومت پاکستان نےکیٹل فارمنگ سکیم شروع کی۔اسکا مقصد چھوٹے کاشتکاروں کو بھیڑبکریاں پالنےکیلئےزمین الاٹ کرنی تھی۔مگراس سکیم میں گورنرسندھ جنرل صادق عباسی نےسندھ کےجنگلات کی قیمتی زمین240روپےایکڑکےحساب سےمفت بانٹی۔
اس عرصےمیں فوج نےکوٹری،سیھون،ٹھٹھہ،مکلی میں25لاکھ ایکڑزمین خریدی۔

1993میں حکومت نےبہاولپور میں 33866ایکڑزمین فوج کےحوالےکی۔

جون2015میں حکومت سندھ نےجنگلات کی9600ایکڑ قیمتی زمین فوج کےحوالےکی۔24جون2009کوریونیوبورڈ پنجاب کی رپورٹ کےمطابق 62% لیزکی زمین صرف 56 اعلی عسکری افسران میں بانٹی گئی۔ جبکہ انکاحصہ صرف10% تھا۔شایدیہ خبرکہیں شائع نہیں ہوئی۔

2003میں تحصیل صادق آباد کےعلاقےنوازآباد کی2500ایکڑ زمین فوج کےحوالےکی گئی۔یہ زمین مقامی مالکان کی مرضی کےبغیردی گئی۔جس پرسپریم کورٹ میں مقدمہ بھی ہوا۔

اسی طرح پاک نیوی نےکیماڑی ٹاؤن میں واقع مبارک گاؤں کی زمین پرٹریننگ کیمپ کےنام پرحاصل کی۔اس کاکیس چلتارہا۔اب یہ نیول کینٹ کاحصہ ہے۔
2003میں اوکاڑہ فارم کیس شروع ہوا۔
اوکاڑہ فارم کی16627ایکڑ زمین حکومت پنجاب کی ملکیت تھی۔یہ لیزکی جگہ تھی۔1947میں لیزختم ہوئی۔حکومت پنجاب نےاسےکاشتکاروں میں زرعی مقاصدسےتقسیم کیا۔ 2003میں اس پرفوج نےاپناحق ظاھرکیا۔
اسوقت کےڈی۔جیISPRشوکت سلطان کےبقول فوج اپنی ضروریات کیلئےجگہ لےسکتی ہے۔

2003میں سینیٹ میں رپورٹ پیش کی گئی۔جسکےمطابق فوج ملک27ہاؤسنگ سکیمزچلارہی ہے۔ 
اسی عرصےمیں16ایکڑکے 130پلاٹ افسران میں تقسیم کئےگئے۔

فوج کےپاس موجود زمین کی تفصیل:
لاھور۔۔12ہزارایکڑ
کراچی۔۔12ہزارایکڑ
اٹک۔۔3000ایکڑ
ٹیکسلا۔۔2500ایکڑ
پشاور۔۔4000ایکڑ
کوئٹہ۔۔2500ایکڑ
اسکی قیمت 300بلین روپےہے۔
2009میں قومی اسمبلی میں یہ انکشاف ہوا۔

بہاولپورمیں سرحدی علاقےکی زمین380روپےایکڑکےحساب سےجنرلزمیں تقسیم کی گئی۔جنرل سےلیکرکرنل صاحبان تک کل100افسران تھے۔
چندنام یہ ہیں:
پرویزمشرف،جنرل زبیر،جنرل ارشادحسین،جنرل ضرار،جنرل زوالفقارعلی،جنرل سلیم حیدر،جنرل خالدمقبول،ایڈمرل منصورالحق۔

مختلف اعدادوشمارکےمطابق فوج کےپاس ایک کروڑبیس لاکھ ایکڑزمین ہے۔جوملک کےکل رقبےکا12%ہے۔

سترلاکھ ایکڑکی قیمت700ارب روپےہے۔

ایک لاکھ ایکڑکمرشل مقاصدکیلئےاستعمال ہورہی ہے۔جسکو کئی ادارےجن میں فوجی فاؤنڈیشن،بحریہ فاؤنڈیشن،آرمی ویلفیئرٹرسٹ استعمال کررھےہیں۔

نیز بےنظیر بھٹو نے بیک جنبشِ قلم جنرل وحید کاکڑ کو انعام کے طور پر 100مربع زمین الاٹ کی تھی۔

اس کے علاوہ بریگیڈیئر و جرنیل سمیت سبھی آرمی آفیسرز ریٹائرمنٹ کے قریب کچھ زمینیں اور پلاٹ اپنا حق سمجھ کر الاٹ کرا لیتے ھیں۔ مثال کے طور پر ماضی قریب میں ریٹائر ھونے والے جنرل راحیل شریف نے آرمی چیف بننے کے بعد لاھور کینٹ میں868کنال کا نہایت قیمتی قطعہ زمین الاٹ کرانے کے علاؤہ بیدیاں روڈ لاھور پر بارڈر کے ساتھ90ایکڑ اراضی اور چند دیگر پلاٹ بھی (شاید کشمیر آزاد کرانے کے صلہ میں یا پھر دھرنے کرانے کے عوض) الاٹ کروائے جن کی مالیت اربوں میں بنتی ھے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں عام آدمی چند مرلے کے پلاٹ کےلئے ساری زندگی ترستا رھتا ھے کیا یہ نوازشات و مراعات یا قانونی اور حلال کرپشن ھے یا اس جرنیلی مافیا کی بےپناہ لالچ و حرص وحوس؟ کیاعوام کو اس کے خلاف آواز اٹھاکر اس حلال کرپشن کو روکنے کی کوشش نہیں کرنا چاھیئے؟🤔⁦🇵🇰

Sunday, July 18, 2021

نئی نسل کی توجہ درکار ہے

*"نئی نسل کی توجہ درکار ہے"*
*تاریخ کے کچھ حصّے بار بار پڑھئیے* 
اور پھر کچھ یوں ہوا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
پاکستان میں پہلی دھاندلی عسکری، بیوروکریٹ اور پیروں ، وڈیروں  کے گٹھ جوڑ سے ہوئی 

‏تاریخ نے  کئی  چہروں پر ایسا غلاف چڑھا رکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کو بے نقاب کرنا ضروری ہو گیا ہے 
کیسے کیسے لوگ تھے جو آج اپنے اپنے علاقوں کے خدا بنے بیٹھے ہیں ، ان کا کردار نئی نسل کے سامنے لانا ضروری ہے ، اگر نئی نسل کو دلچسپی ہو تو
اور کتنے ہی لوگ تھے جنہوں نے پاکستان کے لیے سب کچھ قربان کر دیا لیکن غدار کہلائے 
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صدارتی الیکشن۔۔1965 کے دن ہیں۔۔جن پر اب کوئی بات بھی نہیں کرتا۔۔اور نہ انکے بارے میں کچھ لکھا جاتا ہے۔۔
یہ پہلا الیکشن تھا۔۔جس میں بیورکریسی اور۔۔فوج نے ملکر دھاندلی کی تھی ۔
‏1965 کے صدارتی الیکشن میں پہلی دھاندلی خود فیلڈ مارشل  ایوب خان  نے کی۔۔
پہلےالیکشن۔۔بالغ رائے دہی کی بنیاد پر کروانے کا اعلان کیا گیا 

یہ اعلان۔۔۔۔۔۔9 اکتوبر 1964 کو ہوا۔ مگر مادر ملت فاطمہ جناح کے امیدوار بننے کے  بعد۔۔۔۔۔۔۔یہ اعلان۔۔۔۔۔۔  ایوب خان کا انفرادی اعلان  ٹھہرا۔۔۔۔۔۔۔اور سازش کے تحت یہ ذمہ داری حبیب اللّہ خان پرڈالی گئی ۔یہ پہلی پری پول دھاندلی تھی۔۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
‏1964میں کابینہ اجلاس میں
وزراء نے۔۔خوشامد کی انتہا کردی۔ حبیب خان نے۔۔۔۔۔۔۔فاطمہ جناح کو ایبڈو کرنے کی تجویز دی۔۔
وحید خان نے  ۔۔۔۔۔۔جو وزیر اطلاعات۔۔اور۔۔کنویشن لیگ کے جنرل سیکرٹری تھے۔۔۔۔۔۔۔تجویز دی کہ ۔۔۔۔۔ایوب کو تاحیات صدر قرار دینے کیلئے ترمیم کی جائے۔۔۔۔۔ ایوب کے منہ بولے بیٹے ذوالفقار علی بھٹو نے۔۔۔۔۔۔۔مس جناح کو بُڑھیا۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔ضدّی کہا۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف جماعت اسلامی کے مولانا سید ابوالاعلی مودودی نے سندھ سے جی ایم سید،  اور صوبہ سرحد سے خان عبدالغفار خان نے جبکہ مشرقی پاکستان سے شیخ مجیب الرحمن نے کھل کر محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی 
پنجاب کے تمام سجادہ نشینوں نے سوائے پیر مکھڈ صفی الدین  کے فاطمہ جناح کے خلاف فتویٰ دیا
---
‏ایوب خان کی دھاندلی مشینری نے الیکشن تین طریقوں سے لڑنے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔
*پہلا مذھبی سطح پر۔۔۔۔۔۔ جس کے انچارج۔۔۔۔۔۔*
پیر آف دیول شریف تھے۔۔جنہوں نے مس جناح کے خلاف فتوے نکلوائے۔۔

*دوسرا انتظامی سطح پر۔۔۔۔۔۔۔* کیونکہ 62 کے آئین کے مطابق ایوب خان کو یہ سہولت میسر تھی کہ وہ تب تک صدر رہ سکتے تھے جب تک ان کا جانشین نہ منتخب ہو لہذا پوری سرکاری مشینری استعمال کی گئی 
 جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج بھی الیکشن سرکاری ملازمین کے دباؤ سے جیتے جاتے ہیں 

*تیسری سطح پر۔۔۔۔۔۔۔*مس جناح کے حامیوں پر۔۔۔۔۔جھوٹے مقدمات درج کئے گئے* ۔۔۔۔۔۔۔عدالتوں سے انکے خلاف فیصلے لئے گئے۔۔۔ ۔۔۔ اور یہی عدلیہ کے تابوت میں پہلی اور آخری کیل ثابت ہوئی جو آج تک ٹھکی ھوئی ہے 

آخر کار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

‏سندھ کے تمام جاگیردار گھرانے ایوب خان کے ساتھ ھوگئے تھے۔۔۔۔۔۔بھٹو فیملی ۔۔جتوئی فیملی ۔۔۔۔۔محمدخان جونیجو فیملی ۔۔  ۔۔۔۔ٹھٹھہ کے شیرازی۔۔۔۔۔۔۔۔خان گڑھ کے مہر۔۔۔۔۔۔۔۔۔نواب شاہ کے سادات ۔۔۔۔۔۔۔۔بھرچونڈی۔۔۔۔۔۔۔۔رانی پور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے اکثر پیران کرام، ایوب خان کےساتھی تھے۔۔۔۔۔۔۔ 

سوائے کراچی میں گہری جڑیں رکھنے والی جماعت اسلامی، اندرون سندھ کے جی ایم  سید ۔۔۔۔۔۔۔حیدرآباد کےتالپور برادران۔۔۔۔۔۔۔۔بدین کے فاضل راہو۔۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔ رسول بخش پلیجو ۔۔۔۔مس جناح کےحامی تھے۔۔۔۔۔۔۔یہی لوگ بعد میں پاکستان کے  غدار بھی ٹہرا دئیے گئے 

*پھر کچھ یوں ہوا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

*‏پنجاب کے تمام گدّی نشین اور صاحبزادگان و سجادہ نشین۔۔۔۔۔۔۔۔۔*   

۔سوائے پیر مکھڈ۔۔۔۔۔۔۔صفی الدین کو چھوڑ کر۔۔
باقی سب ایوب خان کے ساتھی ھوگئےتھے۔۔۔۔۔۔۔۔سیال شریف کے پیروں نے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فاطمہ جناح کےخلاف فتوی بھی دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیر آف دیول نے۔۔۔۔۔۔۔۔داتادربار  پر ۔۔۔۔۔مراقبہ کیا۔۔۔۔۔۔اور کہا کہ۔۔۔۔۔۔داتا صاحب نےحکم دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔کہ ایوب کو کامیاب کیا جائے۔۔۔۔۔۔۔ورنہ خدا۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان سےخفا ہوجائے گا۔۔
‏آلو مہارشریف کے۔۔۔۔۔۔ ۔۔صاحبزادہ فیض الحسن نے۔۔۔۔۔۔۔۔عورت کےحاکم ہونے کے خلاف فتوی جاری کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مولانا عبدالحامد بدایونی صدر جمعیت علماء پاکستان نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔فاطمہ جناح کی نامزدگی کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شریعت سے مذاق۔۔۔۔۔۔۔۔اورناجائز قرار دیا۔۔ 
مولانا حامدسعیدکاظمی کے والد۔۔۔۔۔۔۔علامہ احمد سعید کاظمی نے۔۔۔۔۔ایوب کو۔۔۔۔۔۔۔ملت اسلامیہ کی آبرو قرار دیا  ۔   ۔۔یہ لوگ ہیں جو دین کےخادم ہیں۔

‏لاھور کے میاں معراج الدین نے۔۔۔۔۔۔فاطمہ جناح کےخلاف جلسہ منعقد کیا۔۔۔۔۔۔۔۔جس سے مرکزی خطاب عبدالغفار پاشا۔۔۔۔۔۔۔اور وزیر بنیادی جمہوریت نےخطاب کیا۔۔۔۔۔۔۔معراج الدین نے۔۔۔۔۔۔فاطمہ جناح پر۔۔۔۔۔۔۔اخلاقی بددیانتی کا الزام لگایا۔۔۔۔۔۔موصوف موجودہ بیمار وزیر صحت یاسمین راشد کے سسر تھے۔۔۔۔۔۔۔ گجرانوالہ کے غلام دستگیر نے مس جناح کی تصویریں کتیا کے گلے میں ڈال کر پورے گجرانوالہ میں سرکس نکالے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میانوالی۔۔۔۔۔۔کی ضلع کونسل نے۔۔۔۔۔۔فاطمہ جناح کےخلاف قرار داد منظور کی۔۔
‏مولانا غلام غوث ہزاروی سابق ناظم اعلیٰ مجلس احرار اور مرکزی رہنماء جمعیت علمائے اسلام ۔۔۔۔۔۔۔صاحب نے کھل کر ایوب خان کی حمایت کا اعلان کیا۔۔۔۔۔۔اور دعا بھی کی ۔ ۔۔۔۔پیر آف زکوڑی  نے۔۔۔۔۔۔۔فاطمہ جناح کی نامزدگی کو۔۔۔۔۔۔اسلام سے۔۔۔۔۔۔مذاق قرار دیکر۔۔۔۔۔۔۔عوامی لیگ سے استعفی دیا۔۔۔۔۔۔اور ایوب کی حمایت کا اعلان کیا۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف جماعت اسلامی کے امیر ۔۔۔۔۔۔۔ مولانا سید ابوالاعلی مودودی  کا ایک جملہ زبان زد عام ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایوب خان میں اس کے سوا کوئی خوبی نہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ مرد ہیں اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فاطمہ جناح میں اس کے سوا کوئی کمی نہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ عورت ہیں

پھر ہوا یہ کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‏بلوچستان میں۔۔۔۔مری سرداروں۔۔۔۔۔۔اور جعفر جمالی ۔۔۔۔
۔ظفر اللہ  جمالی کے والد صاحب کوچھوڑ کر۔۔۔۔۔
سب فاطمہ جناح کےخلاف تھے۔۔۔۔۔۔۔قاضی محمد عیسی۔۔۔۔۔۔۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے والد ۔۔۔ ۔مسلم لیگ کا بڑا نام۔۔۔۔۔بھی فاطمہ جناح کے مخالف تھے ۔۔۔۔۔۔۔اور ایوب کےحامی تھے۔۔۔۔۔۔انہوں نے۔۔۔۔۔۔کوئٹہ میں ایوب کی مہم چلائی۔۔۔۔۔۔حسن محمود نے۔۔۔۔۔۔پنجاب۔۔۔۔۔۔سندھ کے۔۔۔۔۔۔ روحانی خانوادوں کو۔۔۔۔۔۔ایوب کی حمایت پرراضی کیا۔۔۔۔۔۔۔
پورا مشرقی پاکستان غدار تھا وہ سب مس جناح کے ساتھ تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‏خطۂ پوٹھوہار کے۔۔۔۔۔۔۔تمام بڑے گھرانے۔۔۔۔۔۔۔اور سیاسی لوگ ایوب خان کےساتھ تھے۔۔۔۔۔۔۔برئگیڈئر سلطان۔۔۔۔۔والد۔۔۔۔۔۔چودھری نثار۔۔۔۔۔۔۔ملک اکرم۔۔۔۔۔۔۔دادا۔۔۔۔۔۔۔امین اسلم۔۔۔۔۔۔ملکان کھنڈا۔۔۔۔۔۔کوٹ فتح خان۔۔۔۔۔۔پنڈی گھیب۔۔۔۔۔۔تلہ گنگ۔۔۔۔۔۔ایوب  کے ساتھ تھےاس کی وجہ یہاں کے سب لوگ فوج سے وابستہ تھے  ۔۔۔۔۔۔سوائے۔۔۔۔۔۔۔چودھری امیر۔۔۔۔۔۔اور ملک نواب خان کے۔۔۔۔۔۔۔اور جن کو الیکشن کے دو دن بعد قتل کر دیا گیا ۔۔۔۔۔۔
‏شیخ مسعود صادق نے۔۔۔۔۔۔۔۔ایوب خان کی لئے وکلاء کی حمایت کا سلسلہ شروع کیا۔۔۔۔۔۔کئی لوگوں نے۔۔۔۔۔۔انکی۔۔۔۔۔حمایت کی۔۔۔۔۔۔پنڈی سے راجہ ظفرالحق بھی ان میں شامل تھے۔۔۔۔۔۔۔۔اسکے علاوہ میاں اشرف گلزار۔۔۔۔۔۔بھی فاطمہ جناح کے۔۔۔۔ مخالفین میں شامل تھے۔۔
‏صدارتی الیکشن۔۔1965 کے دوران گورنر امیر محمد خان صرف چند لوگوں سےپریشان تھے۔۔۔۔ان میں سرفہرست ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سید ابوالاعلی مودودی ---  شوکت حیات۔۔۔۔۔۔خواجہ صفدر۔۔۔۔۔والد۔۔خواجہ آصف۔۔۔۔۔۔چودھری احسن۔۔۔۔۔والد اعتزاز احسن۔۔۔۔۔۔خواجہ رفیق۔۔۔۔والد سعدرفیق۔۔۔۔۔۔کرنل عابد امام۔۔۔۔۔۔والد ۔۔۔عابدہ حسین۔۔۔۔۔علی احمد تالپور شامل تھے۔۔یہ لوگ آخری وقت تک۔۔۔۔۔فاطمہ جناح کے ساتھ رہے۔۔۔۔۔۔
‏صدارتی الکشن کے دوران فاصمہ جناح پر۔۔۔۔۔پاکسان توڑنےکا الزام  بھی لگا۔۔۔۔۔یہ الزام زیڈ-اے-سلہری نے۔۔۔۔۔اپنی ایک رپورٹ میں لگایا۔۔۔۔۔جس میں مس جناح کی بھارتی سفیر سے ملاقات۔۔۔۔۔۔کا حوالہ ديا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔اور یہ بیان کہ۔۔۔۔۔۔قائد اعظم تقسیم کےخلاف تھے  یہ وہی تقسیم تھی جس کا پھل کھانے کیلئے آج  سب اکٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔یہ اخبار۔۔۔۔۔۔۔ہر جلسے میں لہرایا گیا۔۔۔۔۔۔ایوب اسکو لہرا لہرا کر۔۔مس جناح کو غدار کہتے رہے ۔۔۔۔۔۔
‏پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔۔۔۔۔۔
لاالہ الااللّہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیسی نظم لکھنے والے۔۔۔۔۔۔۔اصغرسودائی۔۔۔۔۔۔ ایوب خان کے ترانے لکھتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔اوکاڑہ کے ایک شاعر۔۔۔۔۔۔۔ظفراقبال نے۔۔۔۔۔۔چاپلوسی کے ریکارڈ  توڑ ڈالے۔۔۔۔۔۔یہ وہی ظفراقبال ہیں۔۔۔۔۔جو آجکل اپنےکالموں میں سیاسی راہنماؤں کا مذاق اڑاتے ہیں۔۔۔۔۔۔سرورانبالوی۔۔۔۔۔اور دیگر کئی  شعراء  اسی کام میں مصروف تھے۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‏حبیب جالب۔۔۔۔۔۔۔ابراھیم جلیس۔۔۔۔۔۔۔۔میاں بشیر ۔۔۔۔۔۔۔۔فاطمہ جناح  کے جلسوں کے۔۔۔۔۔شاعرتھے۔۔۔۔۔۔۔جالب نے اس کام میں شہرت حاصل کی۔۔۔۔۔۔۔میانوالی جلسے کے دوران  جب۔۔۔۔۔۔۔گورنر امیر خان کے۔۔۔۔غنڈوں نے۔۔۔۔۔فائرنگ کی۔۔۔۔۔توفاطمہ جناح ڈٹ کر کھڑی ہوگئیں۔۔۔۔۔اسی حملے
کی یادگار۔۔۔۔۔۔
*بچوں پہ چلی گولی۔۔۔۔۔۔* *ماں دیکھ کے یہ بولی۔۔۔۔۔۔* نظم ہے۔۔۔۔۔فیض صاحب خاموش حمائتی تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
‏چاغی ،لورالائی ،سبی ،ژوب، مالاکنڈ ،باجوڑ، دیر، سوات، سیدو، خیرپور، نوشکی، دالبندین، ڈیرہ بگٹی، ہرنائی، مستونگ، چمن،  سبزباغ، سے فاطمہ جناح کو۔۔کوئی ووٹ نہیں ملا۔۔۔۔۔
سارا اردو اسپیکنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو جماعت اسلامی کا گڑھ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فاطمہ جناح کی حمایت کرتا رہا ان کو کراچی سے 1046 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایوب خان کو 837 ووٹ ملے  ،مشرقی پاکستان مس جناح کے ساتھ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ جناح کو ڈھاکہ سے 353 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ایوب خان کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ 199 ووٹ ملے جس کی سزا اسٹیبلشمنٹ نے یہ دی کہ انہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان سے الگ ہونے پر مجبور کر دیا گیا 
ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایوب، فاطمہ کے ووٹ برابر تھے۔۔۔۔۔۔۔مس جناح کےایجنٹ ایم خمزہ تھے۔۔۔۔۔ اور اے-سی جاویدقریشی۔۔۔۔۔ جو بعد میں۔۔چیف سیکرٹری بنے۔۔۔۔۔۔
‏مس جناح کو۔۔۔۔۔کم ووٹوں سے شکست۔۔۔۔ اکیلی عورت فوج ، بیوروکریٹ، پیروں ، وڈیروں، جاگیر داروں سے مقابلہ کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ایوب کے 82۔۔۔۔۔۔مس جناح کے 67 ووٹ تھے۔۔۔۔۔اس الیکشن میں جہلم کے چودھری الطاف فاطمہ جناح کے حمائتی تھے۔۔۔۔۔۔۔مگر نواب کالاباغ کے ڈرانے کے بعد۔۔۔۔۔پیچھے ہٹ گئے۔۔۔۔۔۔یہاں تک کہ۔۔جہلم  کے نتیجے پر دستخط کیلئے۔۔۔۔۔۔مس جناح  کے پولنگ ایجنٹ گجرات سے آئے۔۔۔۔۔اسطرح کی دھونس اور دھاندلی عام رہی 

*پھر کچھ یوں ہوا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*   
*جمہوریت ہار گئی اور ہمیشہ کیلئے غلام بنالی گئی جو ہنوز اسٹیبلشمنٹ کی داسی ہے* 

اس سارے قصے میں ایک بات کافی اہمیت کی حامل ہے اور وہ یہ ہے کہ آج بھی اسمبلیوں میں انہی سیاسی لیڈروں کی اولادیں موجود ہیں ، پاکستان کی عوام نے کوئی نیا لیڈر پیدا نہیں کیا ۔

*‏حوالے کیلئے دیکھئے*
ڈکٹیٹرکون۔۔ایس-ایم-ظفر۔۔
میرا سیاسی سفر۔۔حسن محمود۔۔
فاطمہ جناح۔۔۔۔۔ابراھیم جلیس  ۔۔مادرملت۔۔۔۔۔ظفرانصاری۔۔
فاطمہ جناح۔۔حیات وخدمات۔۔۔۔۔۔وکیل انجم
.اور کئی پرانی اخبارات۔۔