Saturday, May 8, 2021

پاکستان کے وڈیروں اور جاگیردار خاندانوں کی اصل تاریخ

 

پاکستان کے وڈیروں اور جاگیردار خاندانوں کی اصل تاریخ

 

غلام مرتضیٰ بھٹو۔ شاہ نواز بھٹو (1888 – 1957)۔ ذوالفقار علی بھٹو (1928 – 1979)۔ نصرت اصفہانی بھٹو، شیعہ ایرانی لڑکی جس سے بھٹو نے شادی کی (1929 – 2011)۔ نصرت بھٹو کی شہرت ذولفقار علی بھٹو کی دوسری بیوی کے بطور ہے۔ اس کی اولاد بینظیر بھٹو، مرتضی بھٹو، شاہنواز بھٹو، اور صنم بھٹو ہیں۔ نصرت بھٹو نسلاً ایرانی صوبہ کردستان سے تعلق رکھتی تھی اور 2010ء میں فوت ہوئی۔ 

 میں چارلس نیپیئر کی قیادت میں انگریزوں نے سندھ پہ قبضہ کر لیا اور یہاں سے 1843ء دولت کی لوٹ مار کے لیے ایک خاص طبقہ پیدا کیا جس کے ذمے عوام سے ظالمانہ لگان یعنی ٹیکس کی وصولی اور زمینوں پہ قبضہ تھا۔ اس سے برصغیر اور سندھ میں وہ طبقہ پیدا ہوا جسے آج وڈیرا، سردار اور جاگیردار کہا جاتا ہے۔ انگریزوں کی انہی مہربانیوں سے بھٹو خاندان آج بھی برصغیر کے امیر ترین خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ برصغیر کے انہی غدار خاندانوں کی مدد سے انگریز اگلے نوے سال میں برصغیر کی ایک ہزار ملین سٹرلنگ پاؤنڈ دولت اور بے پناہ وسائل لوٹ کر برطانیہ منتقل کرنے میں کامیاب ہوئے جس سے اس خطے یعنی پاکستان اور ہندوستان میں غربت اور ثقافتی محرومی کی وہ فضا پیدا ہوئی جو آج بھی قائم ہے۔ خدا بخش خان اور اس کے بیٹے میر مرتضی خان بھٹو نے انگریزوں اور ان کے حامی سندھی وڈیروں کا راستہ روکنے کی کوشش کی لیکن سب باری باری وفات پاگئے۔ اس کے بعد میر مرتضی خان کے بیٹے شاہنواز بھٹو نے انگریزوں سے مفاہمت کی اور سیاسیات میں حصہ لینا شروع کیا جس سے بھٹو خاندان کی سیاسی زندگی کا آغاز ہوا ۔انگریزوں نے اسے بہت نوازا اور وہ کئی اعلی عہدوں پہ فائز رہا۔

 

شاہنواز بھٹو (1888–1957) برطانوی راج میں لاڑکانہ، سندھ، موجودہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک سیاست دان تھے۔ سر شاہ نواز بھٹو مشیر اعلی حکومت بمبئی اور جوناگڑھ کی مسلم ریاست میں دیوان تھے۔ وہ انگریزوں کی بمبئی پریزیڈنسی کا وزیر بھی رہا۔ ان کو برطانیہ سے وفاداری اور ملک و قوم سے غداری کی وجہ سے پہلے سی آئی ای اور بعد ازاں برطانیہ کی طرف سے سر کا خطاب دیا گیا۔ بھٹو خاندان سندھ میں برطانوی غاصبانہ قبضے کو مستحکم رکھنے میں ایک اہم غدار خاندان تھا۔ بھٹو خاندان نے سندھ پہ انگریزوں کا قبضہ مستحکم رکھنے کے لیے اور عوام پہ اپنا اثرو رسوخ قائم رکھنے کے لیے سندھ کے پیروں کا استعمال کیا۔ یہ خاندان سندھ کا ایک جاگیردار خاندان تھا جو راجپوت نسل سے تعلق رکھتا تھا۔ اس خاندان کے ابتدائی افراد جیسا کہ محمد بخش بھٹو نے انگریزوں کے خلاف مزاحمت کی لیکن بعد کی ساری نسلیں غدار ثابت ہوئیں اور اس پہ اس خاندان کے کئی افراد کو برطانیہ کی طرف سے سر، نواب اور بہادر کے خطاب دیے گئے۔ اس خاندان کو ملک و قوم سے غداری کے سلسلے میں بیشمار زمینیں دی گئیں جو سندھ کے غریب مزدوروں سے لوٹی گئی تھیں۔ ایک وقت تھا کہ یہ خاندان اڑھائی لاکھ ایکڑ رقبے کا مالک تھا جو انگریز دور اور اس کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت کی صورت میں ملک و قوم کا استحصال کرتا رہا اور آج تک اس خاندان کا شمار پاکستان کے امیر ترین خاندانوں میں ہوتا ہے جس کی دولت کا اندازہ کئی ملین ڈالرز میں ہے اور سکھر جیکب آباد عملا ان کی ریاست شمار ہوتے ہیں۔ ان کے بڑے ملک و قوم سے غداری کرکے برطانیہ سے انعامات نہ پاتے تو آج اس خاندان کو کوئی نہ جانتا ہوتا۔ یہاں تک کہ یہ خاندان جو حقیقی طور پہ انگریز دور میں تالپوروں کی جگہ برطانیہ کی طرف سے وفاداری کے صلے میں آگے لایا گیا برطانیہ کی مہربانیوں سے اب بھی نہ صرف سندھ بلکہ پاکستان کے امیر ترین خاندانوں میں شمار ہوتا ہے اور یہ دولت وہ تھی جو انگریزوں نے برصغیر کے غریب طبقے کو لوٹ کر اپنے ان غداروں میں تقسیم کی۔

 

حال یہ تھا کہ خود ایک انگریز مصنف ڈیوڈ چیزمین کی کتاب

Landlord power in rural indebtedness in colonial Sindh(1865_1901)

کے مطابق سندھ میں وڈیرے سیاہ و سفید کے مالک تھے اور ان کو برطانیہ کی طرف سے اپنے علاقوں میں بینچ مجسٹریٹ کی حیثیت حاصل تھی کہ وہ جیسے چاہیں غریب عوام کو ظلم کی چکی میں پیس کے رکھیں لیکن برطانیہ کے وفادار رہیں اور اس بدلے میں انہیں برطانیہ سے سر، نواب، خان بہادر کے خطاب اور غریب طبقے سے لوٹی گئی زمینیں ملتی تھیں جس سے نسل در نسل ان کی مالی و سیاسی طاقت میں اضافہ ہوتا گیا اور یہ چند خاندان آج تک برصغیر میں اعلی عہدوں پہ قابض ہیں اور غریب عوام پہ ظلم جو انگریز نے شروع کیا آج تک جاری ہے۔ انگریز کے ان وفاداروں اور ملک و مذہب کے ان غداروں میں وڈیرو غلام قدیر درکھان، میر عبدالحسین خان تالپور (موجودہ سندھ کی سیاستدان فریال تالپور کے اجداد)، غلام رسول جتوئی (جو انگریز کی مہربانی سے آج بھی سندھ میں اعلی حیثیت رکھتا ہے)، بھٹو خاندان کے اللہ بخش بھٹو شامل تھے اور یہ عوامی میٹنگ میں انگریز افسروں کے ساتھ کرسی نشین ہوتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد اس سیاست کے میدان میں بہت سے ایسے افراد بھی آ نکلے جو ان انگریز کے بنائے ہوئے گھرانوں سے تعلق نہیں رکھتے تھے لیکن انھوں نے سیاست کے گر اور چالبازیاں ایسی سیکھیں کہ بڑے بڑے پرانے جغادری سیاسی گھرانوں کو شکست دے کر اس ملک کی سیاست کے مختار بن گئے۔

 

حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی کا خاندان خود کو ”مخدوم“ کہلواتا ہے یعنی وہ خاندان کہ جس کا ہر فرد خدمت کیے جانے کے لائق ہو۔ مگر تاریخ گواہی دیتی ہے کہ یہ خاندان ماضی میں غاصبین ملک کی والہانہ خدمت کیلئے کوشاں و گامزن رہا ہے۔ یہ لوگ ایک طرف اولیاء اکرام کے مزارات مقدسہ کے گدی نشین اور مخدوم بن کر لوگوں کی خدمات و عطیات سمیٹتے رہے اور دوسری طرف گوروں کو اپنا مخدوم بنا کر قتال ملت میں ان کے حلیف بن کر صلے میں جاگیریں لیتے رہے ہیں۔ سیاسی خاندانوں کے بارے حقائق سے پردہ اٹھانے والی مشہور تصنیف سیاست کے فرعون کے مصنف جناب وکیل انجم لکھتے ہیں۔۔۔۔ ”سکھوں کے ابتدائی دور میں موجودہ شاہ محمود قریشی کے ہم نام لکڑ دادا مخدوم شاہ محمود اس خاندان کے سربراہ اور درگاہ کا گدی نشین تھے۔ سکھوں کے نامور حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ کے باقاعدہ برسر اقتدار آنے سے پہلے ہی یہ مخدوم کافی زمینوں کے مالک بن چکے تھے اوران کا شمار ملک کے امیرترین خاندانوں میں ہوتا تھا۔ مابعد 1819ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ملتان شہر کو فتح کیا تو انہوں نے مخدوموں کی عزت وتکریم کے پیش نظر انہیں ساڑھے تین ہزار روپے مالیت کی جاگیر عطا کی۔

 

جناب وکیل انجم لکھتے ہیں کہ جب 1847 میں سکھوں کی قوت لڑکھڑانے لگی اور تاجدار برطانیہ کے انگریزوں نے مطلع سیاست پر یونین جیک کا جھنڈا گاڑ دیا تو مخدوم شاہ محمود نے اس زمانے میں انگریز سرکار عالیہ کو جو خفیہ خبریں دیں، وہ ان مخدوموں کے نئے آقا گوروں کیلئے انتہائی مفید و مددگار ثابت ہوئیں۔ جب انگریز نے پنجاب پر پوری طرح قبضہ کر لیا تو انہوں نے مخدوم شاہ محمود کو اعلی خدمات کے معاوضے میں ایک ہزار مالیت کی مستقل جاگیر اور تا زندگی سترہ سو روپے پنشن مقرر کرنے کے علاوہ ایک پورا گاؤں ان کے حوالے کر دیا گیا “۔ وکیل انجم صاحب مذید لکھتے ہیں کہ ” 1857 کی جنگ آزادی کے خونی ہنگاموں میں جب ہندوستان کے کچلے ہوئے عوام نے برطانوی استعمار کے خلاف زندگی اور موت کی حدود کو توڑتے ہوئے آخری جدوجہد کی تو اس نازک مرحلے پر مخدوم شاہ محمود نے انگریز سرکار دولت مدار کی مستحسن خدمت انجام دی – وہ انگریز کمشنر کو ہر ایک قابل ذکر واقعہ کی اطلاع بڑی مستعدی سے دیتے رہے۔ اپنی وفاداری کا مزید ثبوت دینے کیلئے انہوں نے سرکاری فوج میں بیس ہزار سوار اور کافی پیادے بھینٹ چڑھائے۔

 

سرکار کے اس یار وفادار نے اس امداد کے علاوہ پچیس سواروں کی ایک پلٹن بنا کر کرنل ہملٹن کے ہمراہ باغیوں یعنی مجاہدین کی سرکوبی کے لئے روانہ کی اور انگریز آقاؤں کے ساتھ مل کر مجاہدین کے ساتھ خود لڑائیاں لڑیں ۔ مخدوم شاہ محمود کی اس عملی امداد نے انگریزوں کی قوت بڑھانے میں اتنا کام نہیں کیا جتنا کہ ایک مذہبی راہنما کی حیثیت سے ان کے ساتھ تعاون نے اثر کیا- جب مسلمانوں نے دیکھا کہ ایک بڑا مذہبی راہنما انگریزوں کی امداد کررہا ہے تو ان کے جذبات ٹھنڈے پڑ گئے، جس کا جدوجہد آزادی پربہت برا اثر پڑا – ان خدمات جلیلہ کے معاوضے میں تیس ہزار روپے نقد کے علاوہ اٹھارہ سوروپے مالیت کی جاگیر اور آٹھ کنوں پر مشتمل زمین بھی سرکار برطانیہ کی طرف سے عطا گئی ۔ موجودہ شاہ محمود قریشی کے ہمنام ان کے بزرگ لکڑ دادا شاہ محمود قریشی 1869ء میں وفات پا گئے تو ان کے بعد ان کا بیٹا بہاول بخش حضرت شاہ رکن عالم رح اور حضرت بہاء الدین رح کے مزارات کا سجادہ نشین بنا۔

 

دلچسب بات ہے کہ جید اولیا اللہ کے اس گدی نشین بہاول بخش کی دستار بندی ایک انگریز ڈپٹی کمشنر کے ہاتھوں بڑی شان وشوکت سے ہوئی۔ احباب یاد رہے کہ جب انگریزوں اور افغانوں کے مابین جنگ ہوئی تو اس جنگ میں انگریزو ں کوعبرتناک شکست ہوئی۔ اس جنگ میں بھی جہاں ایک طرف مجاہدین اسلام آج پاکستان کے علاقے میں واقع پہاڑوں میں افغانوں کے ہمراہ انگریزوں کیخلاف لڑ رہے تھے۔ تو دوسری طرف جید اولیاءکرام کے گدی نشین انگریزوں کا ساتھ دے کر امت مسلمہ سے وہ غداری کے عوض وہ انگریز سے اپنی خدمات رذیلہ کا صلہ وصول کر رہے تھے۔ اس جنگ میں نقل وحمل کے لئے حضرت بہاول بخش نے اونٹوں کا ایک دستہ بھی افغان جنگ میں انگریز سرکار کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ مابعد انہی خدمات کے صلہ میں 1877ء میں بہاول بخش کو آنریری مجسٹر یٹ مقرر کیا گیا اور کچھ عرصہ بعد وہ ملتان میونسپل کمیٹی کے ممبر بنا دیے گئے اور انہیں صوبائی درباری کی نشست بھی الا ٹ ہوگئی۔ بہاول بخش کی افغان جنگ میں انگریزوں کیلئے پیش کی گئی خدمات کو سراہنے کیلئے 1880 ء میں لاہور میں ایک شاندار شاہی دربار لگایا گیا تھا۔۔

 

احباب قابل غور ہے کہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے آبا و اجداد اور مرزا غلام قادیانی کے خاندان کا انگریزوں کی ایجنٹی کا کردار کم و بیش ایک جیسا رہا ہے۔ دونوں نے برصغیر میں انگریزوں کیخلاف مسلم مذاحمت کو کچلنے اور گوروں کا تسلط مضبوط کرنے میں ہر مدد فراہم کر کے، گوروں کے کارندوں کا ایک جیسا کردار بخوبی نبھایا۔ اس مخدوم خاندان کی طرف سے انگریزوں کا ساتھ دینے اور قوم سے غداری کا زمانہ بھی وہی ہے جس دور میں انگریزوں کا ایک اور خود کاشتہ پودا مرزا غلام قادیانی انگریزوں کیخلاف آزادی و اسلامی جہاد کی مخالفت میں مغرب برانڈ دجالی نظریات کی تشہیر کر کے اپنے گورے آقاؤں کی نمک حلالی کا حق ادا کر رہا تھا-

 

درگاہ شاہ رکن الدین عالم رح کے آج کے سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی صاحب بھی گوروں کے دست راست اپنے آبا و اجداد کے نقش قدم پر گامزن ہیں۔ کچھ تعجب نہیں کہ موصوف کبھی شرم و حیا کے پیکر پیر صاحب بن کر اپنی مردنیوں کے سر پر دست شفقت دراز فرماتے نظر آتے ہیں۔ اور کبھی سر سے شرم و حیا اتار کر اسلام اور پاکستان کی دشمن ، شراب کے نشے میں بدمست ھنری کلنٹن کے ساتھ سر سے سر جوڑے عاشقانہ مزاج دکھا کر امت مسلمہ کے سر شرم سے جھکا دیتے ہیں۔ صرف پاکستانی پریس ہی میں نہیں بلکہ مغربی پریس میں بھی بیش شمار ایسی تصاویر شائع ہو چکی ہیں کہ موصوف کو یورپی دوروں میں اکثر شراب کی محفلوں میں جام لہراتے دیکھا جاتا رہا ہے۔ عوام کیسے بھول سکتے ہیں کہ یہی شاہ محمود قریشی کبھی پیپلز پارٹی چھوڑ کر نون لیگ میں بھی شامل ہوئے تھے مگر پنجاب کی وزارت اعلی نہ ملنے پر فوری طور پر پیپلز پارٹی میں واپس لوٹ گئے تھے اور حسب دستورِ سیاہ ست ایک بار پھر ہوسِ اقتدار میں عمران خان صاحب کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے، ایک محفوظ و مقبول پلیٹ فارم کی تلاش میں ایک چڑھتے سورج کے پجاری بنے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ان کے آبا و اجداد اپنے سابقہ آقا و حلیف سکھوں کی طاقت کے دم توڑتے ہی ان کا ساتھ چھوڑ کر انگریزوں کے ساتھ جا ملے تھے۔

 

قوم کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ 1857ء کی جنگ میں غداری کرنے والے بابا شاہ محمود قریشی ہوں یا اکیسویں صدی میں پرویز مشرف اور زرداری مافیہ کا حصہ اور امریکہ کا خادم بن کر ملک و ملت کے سودے کرنے والا موجودہ شاہ محمود قریشی، یہ لوگ نسل در نسل انگریز کے غلام ابن غلام اور غدارین قوم و ملت ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ایسے ناعاقبت اندیش اور ضمیر فروش افراد ملک کی ہر ایک سیاسی جماعت میں بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔۔۔۔

بہاول پور میں آباد عربی نزاد قبیلے عباسی کے نواب‘ نواب آف بہاول پور نے انگریز کے ساتھ  وفاداری نبھائی- لہذا انگریز سرکار نے پاکستان کے قیام تک بہاول پور کی ریاست کا والی عربی نزاد قبیلے عباسی کو بنائے رکھا۔

ملتان میں آباد عربی نزاد قبیلے قریشی کے سربراہ اور گدی نشین مخدوم شاہ محمود نے رائے احمد کھرل کی انگریزوں کے خلاف پنجاب کی آزادی کی تحریک میں انگریز کمشنر کومقامی آبادی کی بے چینی کے متعلق معلومات اور اطلاعات پہنچائیں اور سرکاری فوج کی مدد کے لیے پچیس سو سواروں کی ایک ملتانی پلٹن تیار کر کے دی- لہذا انگریزوں نے اس خدمت کے عوض اسے قیمتی جاگیر’ نقد انعام اور آٹھ کنویں زمین عطاء کی-

ملتان میں آباد عربی نزاد قبیلے گیلانی کے سربراہ اور گدی نشین مخدوم سید نور شاہ نے انگریز سرکار کا ساتھ دیا۔ لہذا انگریز سرکار نے اس خدمت کے عوض خلعت اور سند سے نوازا اور بعد میں کاسہ لیسی کے صلے گیلانی خاندان کو جاگیریں بھی ملیں-

ملتان میں آباد پٹھان قبیلے کے گردیزی خاندان نے انگریز سرکار کا بھرپور ساتھ دیا۔ لہذا انگریز سرکار نے انگریز کی مدد کر نے کے صلے میں جاگیریں عطاء کیں-

خان گڑھ میں آباد پٹھان قبیلے کے نوابزادگان کے جد امجد اللہ داد خان نے انگریزوں کے خلاف تحریک چلانے والوں کو کچلنے میں انگریزوں کا بھرپور ساتھ دیا- لہذا نگریز سرکار نے اس “ خدمت “ کے عوض اسے دو بار خصوصی خلعت دی اور انعام میں جاگیریں عطاء کیں- نوابزادہ نصر اللہ ان کی اولاد سے تھے۔

قصور میں آباد پٹھان قبیلے ممدوٹ نے انگریز کا بھرپور ساتھ دیا چنانچہ اس خاندان کو قیمتی جاگیر، عہدے اور منصب دیئے گئے-

عیسیٰ خیل میں آباد پٹھان قبیلے کے نیازیوں نے انگریز کا بھرپور ساتھ دیا چنانچہ اس خاندان کو قیمتی جاگیر، عہدے اور منصب دیئے گئے-

راجن پور میں آباد بلوچ قبیلے مزاری کے سردار امام بخش مزاری نے کھل کر انگریزوں کا ساتھ دیا- لہذا انگریز سرکار نے انگریز کی مدد کرنے کے صلے میں اسے سر کا خطاب دیا اور جاگیریں عطا کیں-

راجن پور میں آباد بلوچ قبیلے دریشک کے سردار بجاران خان دریشک نے انگریزوں کے خلاف تحریک چلانے والوں کے خلاف لڑنے کے لیے دریشکوں کا ایک خصوصی دستہ انگریزوں کے پاس بھیجا- لہذا انگریز سرکار نے انگریز کی مدد کرنے کے صلے میں دریشکوں کو جاگیریں عطا کیں-

مکھڈ شریف کے عربی نزاد پیروں نے انگریز کا بھرپور ساتھ دیا چنانچہ اس خاندان کو قیمتی جاگیر، عہدے اور منصب دیئے گئے-

لاھور میں آباد اہل تشیع ایرانی نسل قزلباش سردار علی رضا نے ایک گھوڑ سوار دستہ تیار کر کے جنگ آزادی میں لڑنے والے مسلمان اور ھندو سپاھیوں کے خلاف انگریز کو بھیجا۔ اسی دستے کے ساتھ علی رضا کا بھائی محمد تقی خان تھا جو مجاھدوں کے ساتھ لڑائی میں مارا گیا- قزلباشوں کو جنگ کے بعد خطاب ‘ سند ‘ وظیفے اور 147 دیہات کی تعلقہ داری سونپ دی گئی-

لاھور کے کلاًں شیخ خاندان کے سربراہ شیخ امام دین نے جنگ آزادی میں دو دستے خصوصی طور پر دھلی بھجوائے جنھوں نے حریت پسندوں کا خون بہایا۔ انہی خدمات کی بدلے انگریز نے ان کو بہت بڑی جاگیر بخشی-

گجرانوالہ کے چٹھہ خاندان کے جان محمد نے1857 میں انگریز کا بھرپور ساتھ دیا چنانچہ اس خاندان کو قیمتی جاگیر، عہدے اور منصب دیئے گئے-

سرگودھا کے ٹوانوں کے گھڑ سواروں نے دھلی کی تسخیر میں بہادری کے خوب جوھر دکھائے چنانچہ انہیں خطاب، پنشن اور لمبی چوڑی جاگیریں ملیں-

خانیوال کے ڈاھوں نے انگریز کا بھرپور ساتھ دیا چنانچہ اس خاندان کو قیمتی جاگیر، عہدے اور منصب دیئے گئے-

کالاباغ کے نوابوں نے انگریز کا بھرپور ساتھ دیا چنانچہ اس خاندان کو قیمتی جاگیر، عہدے اور منصب دیئے گئے-

ملتان کے مشہور معروف قریشی خاندان کے مخدوم شاہ محمود نے 1857 نے انگریز کمشنر کومقامی آبادی کی بے چینی کے متعلق معلومات اور اطلاعات پہنچایئں اور سرکاری فوج کی مدد کے لیے پچیس سواروں کی ایک ملتانی پلٹن تیار کر کے دہلی پہنچائی- اس کی خدمت کے عوض اسے قیمتی تحفے دیے گئے۔

کھرلوں کا وڈیرا احمد خان انگریز کا جاسوس بنا رہا اور جنگ کے بعد اسے خان بہادر کا خطاب خلعت اور وظیفہ کے علاوہ جاگیر بھی دی گئی-

جھنگ کے سیًال سردار بھی کسی سے پیچھے نہ رہے انہوں نے بھی انگریز فوج کی مدد کے لیے ایک فوج بھیجی جس پر انہیں جاگیریں اور خلعتیں ملیں-

سرگودھا کے ٹوانوں کے گھڑ سواروں نے دہلی کی تسخیر میں بہادری کے خوب جوہر دکھائے چنانچہ انہیں خطاب، پنشن اور لمبی چوڑی جاگیریں ملیں-

اسی قسم کی غدًارانہ خدمات کے لیے انگریز نے نونوں، پند دادن خان کے کھوکھروں، جودھروں، گھیبوں، خانوں، مکھڈ شریف کے پیروں، اعوانوں، کالاباغ کے نوابوں، عیسیٰ خیل کے نیازیوں اور کئی دوسرے سرکردہ خاندانوں کو عزت، خطاب، وظیفے اور وسیع جاگیریں عطا ہویئں- پاکستانیوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ شہیدوں کے ساتھ غداری کی وجہ سے انگریز دور میں سر بلند ہونے والوں کی اولاد آج بھی ممتاز اورمعزز ہے۔

 

برصغیر میں قدم جمانے کےلئے انگریزوں نے یہاں کے وڈیروں‘ جاگیرداروں‘ نوابوں‘ شہزادوں‘ سول‘ پولیس اور آرمی سروس کے ممبران پر مسلسل نوازشات کے ذریعے وفاداری یقینی بنائی۔ نتیجتاً یہ مراعات یافتہ لوگ انگریزوں سے بھی زیادہ انگریزوں کے وفادار ثابت ہوئے۔ پھر ان کے ذریعہ سے انگریزوں نے بقیہ عوام کو قابو میں رکھا۔ اب انگریزوں نے ان لوگوں کو ترغیب دی کہ وہ اپنے بچوں کو پڑھائیں۔ یہ کلاسز طویل عرصہ سے انگریزوں کی سروس میں تھیں اور ان کی مراعات یافتہ بھی تھے لہٰذا وفاداری کے لحاظ سے بھی قابل اعتماد تھے۔ انگریزوں کی سرپرستی انہیں خوب راس آئی اور خوب ترقی کی۔ ان لوگوں کی اولادوں کو فوج میں لانے کا مقصد ان کلاسز کی مسلسل وفاداری یقینی بنانی تھی اس لئے انگریزوں نے انکے بچوں کےلئے خصوصی تعلیم کا بندوبست کیا۔ ان کےلئے چیفس کالج جیسے کئی ایلیٹ تعلیمی ادارے کھولے۔

 

ملٹری اور کیڈٹ کالجز اسی دور میں متعارف کرا ئے گئے تھے۔ ان ایلیٹ تعلیمی اداروں میں سرداروں‘ جاگیرداروں اور نوابوں وغیرہ کے بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی تھی بلکہ انہیں چھوٹی عمر میں ہی ان اداروں کی نرسری برانچز میں داخل کیا جاتا تھا جہاں انگریز آیائیں انکی تربیت کرتیں۔ بلوچ سرداروں میں مری‘ بگٹی‘ مزاری اور دیگر اہم قبائل کے بچوں کو بچپن میں ہی داخل کیا جاتا تھا۔ شیرمحمدمری‘ محمد اکبر خان بگٹی‘ میر بلخ شیرمزاری اورمیر شیر بار خان مزاری وغیرہ کو اسی پالیسی کے تحت تعلیم دی گئی بلکہ اعلیٰ تعلیم کےلئے انہیں انگلینڈ بھی بھیجا گیا۔

ایسے لوگوں کو تعلیم دینے سے انگریزوں کودو اہم فائدے ہوتے۔ ایک تو ان لوگوں نے انگریزی علم اپنے اپنے علاقوں میں بلند رکھا جس سے انگریزوں کو کسی قسم کی بغاوت کا خطرہ نہ رہا۔ دوسرا اس دور میں تحریک آزادی زور پکڑ رہی تھی اور یہ لوگ تحریک آزادی کے سخت مخالف تھے۔ ان انگریزی سکولوں کے تعلیم یافتہ نوابزدگان کی وجہ سے انگریز سامراج کو سہارا ملا۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے انگریزوں سے بھی پہلے اپنے دیس کے قوم پرستوں کا مقابلہ کیا۔ اگر ان لوگوں کا بس چلتا تو یہ برصغیر کو کبھی آزاد نہ ہونے دیتے۔.

 

برصغیر میں برطانوی اقتدار کی توسیع کے دوران، بلوچ سرداروں کو نواب کے خطاب کی پیشکش کرتے ہوئے انکی حمایت حاصل کی اور یوں برطانوی اپنی نئی ریاست کی مغربی سرحد میں نوآبادیاتی طاقت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ برِصغیر کی تقسیم کے بعد یہی طرزِ عمل پاکستان کے وڈیروں اور جاگیرداروں کو ورثہ میں ملا۔ سادہ الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں حکمرانی چھلانگ لگا کران روایتی جاگیرداروں اور وڈیروں کے ہاتھ آئی۔ اسی صورتحال میں ملٹری اور سول بیوروکریسی جس کی تربیت برطانوی سامراج نے خود کی تھی، کے ساتھ ان جاگیرداروں اور وڈیروں کا تضاد بننا عین فطری تھا۔ یہ وڈیرے اور جاگیردار جو یونینسٹ پارٹی کے پلیٹ فارم سے پاکستان کی تخلیق سے چند سال ہی قبل مسلم لیگ میں شامل ہوئے تھے، اپنی جاگیروں اور زمینوں کے تحفظ کے لئے اور اپنے استحصال کو قائم رکھنے کے لئے ملک کی سیاست میں گھس آئے۔ ایسا کرنا اُنکی مجبوری بھی تھا اور ضرورت بھی۔

 

نہری نظام انگریز نے ریونیو حاصل کرنے کے لیے بنایا۔ ریلوے افغانستان تک فوجی ساز و سامان پہنچانے کے لیے اور اسکول و اسپتال براؤن صاحبوں (جو گورے صاحبوں کے حاشیہ بردار تھے) کے لیے۔ ان میں سے کوئی بھی چیز ایسی نہیں تھی جس سے برصغیر کا غریب طبقہ خوشحال ہوا بلکہ یہ طبقہ ہمیشہ انگریزوں اور ان کے دلال وڈیروں سرداروں کے ظلم کی چکی میں پستا رہا اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ برطانیہ نے برعظیم پر اپنی فتوحات کا خاتمہ 1849ء میں پنجاب پر قبضہ کرنے کے بعد مکمل کیا اور شاہی قلعہ لاہور پر برطانیہ نے اپنا جھنڈا لہرایا۔ اس پورے خطے کے انسانوں کو سیاسی طور پر غلام بنانے کی مہم کا یہ آخری معرکہ تھا۔ لاہور جو پہلے ہی تہذیب کا مرکز تھا اور مغلیہ سلطنت کا مضبوط سیاسی قلعہ، اس شہر میں برطانیہ نے نوآبادیاتی مقاصد کے پیش نظر یہاں پر تعلیمی نظام کی بنیاد رکھنی شروع کی۔ 1864ء میں گورنمنٹ کالج لاہور کے بعد 1886ء میں دو سو ایکٹر رقبے پر ایچی سن کالج کی بنیاد رکھی گئی۔ دو جنوری 1886ء کو اس لاہور میں چیفس کالج کی بنیاد رکھی گئی تھی جس کا نام 13 نومبر 1886ء کو تبدیل کر کے ایچی سن کالج رکھ دیا گیا۔

 

اس بورڈنگ کالج میں ابتدائی طور پر پنجاب بھر کے جاگیردار، وڈیرے اور پھر برطانیہ کے لیے بطور سیاسی ایجنڈ کام کرنے والے خاندانوں کے بچوں کے لیے تعلیم کا بندوبست ہوا۔ ایچی سن کالج میں پہلے دن سے ہی بھاری فیسوں کی وجہ سے یہاں پر صرف انہی خاندانوں کے بچوں کی ذہنی آبیاری کی جانے لگی جس کا مقصد مستقبل کے لیے برطانیہ کو اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطروفاداروں کی نئی پود تیار کرنا تھی۔ اس کالج کی خاص بات یہ تھی کہ یہاں پر نافذ ہونے والے تعلیمی نظام اور نصاب تعلیم کو نوآبادیاتی سانچے میں ڈھالا گیا اس کے بعد یہ کالج پھلنے پھولنے لگا۔ برطانیہ کے وفادار پنجاب کے خاندان ہی نہیں بلکہ سندھ کے جاگیرداروں کے بچوں کو بھی اسی کالج میں داخلے دیے گئے۔ جاگیردارخاندانوں کا یہ وہ ٹولہ تھا جو 1857ءکی جنگ آزادی میں قومی غداری کا مظاہرہ کیا اور انگریزوں کی وفاداری کے مرتکب ہوکر برطانیہ کی فتوحات کے جھنڈے پنجاب میں بھی بلند کرائے۔ ایچی سن کالج میں اس نئی وفادارنسل کی تیاری میں بیوروکریسی کا وہ طبقہ بھی تیار ہوا جو برطانوی سامراج کے ساتھ ملکر اس قوم پر غلامی مسلط کرنے میں انگریزوں کی وفاداری کرتا رہا۔

ایچی سن کالج کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ 130سالوں سے یہاں پر صرف اشرافیہ کے بچوں کو پڑھایا جاتا ہے اور آزادی کے بعد بھی خود کو برہمن تصور کرنے والی پاکستانی اشرافیہ کے بچوں کو ہی ایچی سن کالج میں داخلہ ملتا ہے۔ عوامی ٹیکسوں پر پلنے والے یہ انسان دشمن پاکستانی برہمن باقی ساری عوام کو شودر سمجھتے ہیں۔ 1947ء سے لیکر آج تک سیاسی اشرافیہ نے بیوروکریسی کے توسط سے ایچی سن کالج پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ اس کالج میں اشرافیہ کے بچوں کی جدید نوآبادیاتی دور کے تقاضوں کے مطابق ذہنی آبیاری کی جارہی ہے اور پھر یہاں کے فارغ التحصیل طلباء بیرونی ممالک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان پر سیاسی اور بیوروکریسی کی شکل میں مسلط کر دیے جاتے ہیں۔ سابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، اکبر بگٹی، چوہدری نثار علی خان،عمران خان، پرویز خٹک، فاروق لغاری، سردار ایاز صادق،غلام مصطفی کھر سمیت کتنے ایسے نام اوربھی موجود ہیں جو ملکی سیاست پر چار دہائیوں سے قابض ہیں ۔

 

آج تک سندھ اور پنجاب کی ستر سے اسی فیصد زمین پہ یہی سردار، وڈیرے اور جاگیردار قابض ہیں جو اس علاقے میں بسنے والے غریبوں سے چھین کر برطانیہ کی طرف سے اس علاقے کے غداروں کو تحفے میں دی گئی تھی۔ ان جاگیرداروں کو نسل در نسل وفادار رکھنے کے لیے ان کی ذہن سازی کے مقاصد کے لیے ایچی سن کالج لاہور، میو کالج اجمیر اور تعلق دار کالج اودھ قائم کیے گئے جہاں کسی غریب کا داخلہ لینا بھی محال تھا۔ مسلم لیگ میں قائد اعظم کے سوا اکثر قائدین یہی وڈیرے، جاگیردار اور سردار تھے جو پاکستان بنتا دیکھ کر اپنی وڈیرا شاہی کی حفاظت کے لیے مسلم لیگ میں شامل ہوگئے تھے اور ان وڈیروں نے ملک میں چلنے والی ان تمام زمینی اصلاحات کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جس سے ان کی وڈیرا شاہی خطرے میں پڑتی ہو۔

 

اب حال یہ ہے کہ پاکستان میں1970ء سے اب تک597 بااثر خاندان حکومت پر قابض ہیں۔ ان خاندانوں میں سے 379 کا تعلق پنجاب سے، 110 کا سندھ، 56 کا کے پی کے، 45 کا بلوچستان جبکہ 7 کا تعلق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے ہے۔ جنوبی پنجاب میں اب یہ شرح 64 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں اب یہ شرح 44 فیصد، سندھ میں41 فیصد، کراچی میں9 فیصد، کے پی کے میں28 فیصد اور فاٹا میں18 فیصد تک جاپہنچی ہے۔ 1990ء کے نگران وزیراعظم غلام مصطفیٰ جتوئی کے 11افراد مختلف اسمبلیوں میں رہے۔ 2008ء میں جتوئی کے 4 بیٹے ملک کے تینوں قانون ساز اداروں میں موجود تھے۔ بااثر سیاسی خاندانوں میں لغاری، کھوسہ، خان، سید، بگٹی، مرزا، چوہدری، مزاری، زرداری، مروت، شریف، بھٹو اور دیگر خاندان شامل ہیں، موجودہ وزیراعظم نوازشریف کے خاندان کے کئی افراد حکومت میں ہیں جن میں اسحاق ڈار، حمزہ شہباز، مریم نواز، کیپٹن(ر)صفدر اور دیگر شامل ہیں، چوہدری ظہور الٰہی کے خاندان سے چوہدری شجاعت، پرویز الٰہی، مونس الٰہی، شفاعت حسین، لغاری خاندان میں سے فاروق لغاری، اویس لغاری، سمیرا ملک، عائلہ ملک، مینا لغاری، جمال خان لغاری، رفیق حیدر لغاری، محمد خان لغاری، محسن لغاری، یوسف لغاری شامل ہیں۔ کھر خاندان کے بہت سے لوگ حکومت میں رہے ہیں۔ زرداری خاندان سے فریال تالپور سمیت کئی لوگ حکومت میں آئے ہیں۔ اور ان میں سے اکثر خاندان انگریزوں سے وفاداری کے صلے میں جاگیریں حاصل کرکے مالی و سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے قابل ہوئے۔ انگریز سے وفاداری کے صلے میں جاگیریں حاصل کرنے والے لغاری خاندان کی رحیم یارخان میں 1920 میں بننے والی رہائش گاہ کی قلعہ نما دیواریں، چھتیں اور کمروں میں پڑا فرنیچر آج بھی کسی بادشاہ کے دربار کا منظر پیش کرتے ہیں۔

 

پاکستان جمہوریت اور 22 کروڑ عوام کو چند ہزار وڈیروں، سرمایہ داروں، کا رخانہ داروں سیاست دانوں نے یرغمال بنا یا ہے اور 70 سال سے سیاسی حکمران پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی قسمت سے کھیل رہے ہیں۔ یہ گنے چُنے خاندان تقریباً 7 ہزار مُنظم سرمایہ داروں، کا رخانہ داروں، جاگیر داروں، نوابوں پر مشتمل ہے جو آبادی کا 0.0028 فی صد بھی نہیں بنتا مگر انہوں نے 22 کروڑ عوام کو یر غمال بنایا ہوا ہے۔ یہ خاندان اور روایتی سیاست دان پاکستان کے عوام کو اقتدار کے نیٹ میں گھسنے نہیں دیتے۔

ان خاندانوں میں بھٹو خاندان (سر شاہنواز بھٹو، پھر ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، غنوی بھٹو، بلاول بھٹو زرداری اور فاطمہ بھٹو)،

شریف خاندان (نواز شریف تین دفعہ وزیر اعظم، شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب، نواز شریف کی اہلیہ قومی اسمبلی ممبر، مریم نواز اور اُنکے شریک حیات کیپٹن صفدر قومی اسمبلی ممبر، حمزہ شریف ممبرصوبائی اسمبلی)

باچا خان فیملی (خان عبدالغفار خان، ڈاکٹر خان، پھر ان کے بیٹے ولی خان، بہو نسیم ولی خان، فرزند ولی خان اسفند یار ولی اور اب اسفندیار ولی کا بیٹا ایمل اور بھانجا امیر حیدر ہوتی)

مولانا مُفتی محمود فیملی (مُفتی محمود صاحب وزیر اعلیٰ سرحد، پھر مولانا فضل الرحمان، بھائی عطاء الرحمان اور اب ان کا بیٹا اور داماد)

شیر پائو فیملی (حیات محمد خان شیر پائو، شہادت کے بعد بھائی آفتاب شیر پائو، اور اب فرزند آفتاب احمد شیر پائو سکندر شیر پائو، سینئر وزیر)

ارباب فیملی (ارباب نیار سابق وفاقی وزیر، ارباب جہانگیر سابق زیر اعلیٰ ، بیٹا ارباب عالمگیر سابق وفاقی وزیرمواصلات اور انکی اہلیہ عا صمہ عالمگیر)،

ہوتی فیملی(محمد علی خان سابق وزیر تعلیم، عبد الغفور ہوتی سابق ریلوے وزیر)

چوہدری فیملی(چوہدری ظہور الٰہی، چوہدری شجاعت حسین، چوہدری پر ویز الٰہی، چوہدری وجاہت حسین اور اب چوہدری مونس الٰہی)

سیف اللہ فیملی(بیگم کلثوم سیف اللہ، ایم این اے، سلیم سیف اللہ، ایم این اے اور ایم پی اے، ہمایوں سیف اللہ، انور سیف اللہ)،

لغاری فیملی (فاروق احمد خان لغاری، سابق صدر، اویس لغاری وفاقی وزیر، ایم پی اے اور ایم این اے)

مروت فیملی (حبیب اللہ خان جسٹس مغربی پاکستان، شاہ نواز خان، سابق چیف جسٹس کے پی کے)

مزاری فیملی (بلخ شیر مزاری وزیر اعظم، شیر باز خان مزاری قائد حزب اختلاف، شوکت مزاری سابق ایم پی اے پنجاب اسمبلی سپیکر، شیریں مزاری ایم این اے)

سومرو خاندان (خان بہادر اللہ بخش سومرو، دو دفعہ سندھ کے وزیر اعلیٰ، الٰہی بخش سومرو، سپیکر قومی اسمبلی وفاقی وزیر، رحیم بخش سومرو وزیر سندھ، محمد میاں سومرو وزیر اعظم، صدرپاکستان،سینیٹر و گو رنر سندھ)

زرداری فیملی (حاکم زرداری، آصف زرداری، بلاول زرداری، فر یال تالپور، عزراء پلیجو)

ترین فیملی(ایوب خان صدر پاکستان فیلڈ مارشل، گوہر ایوب، عمر ایوب ، یوسف ایوب)

رائو فیملی (رائو محمد ہاشم خان، رائو محمد اجمل خان، رائو سکندر اقبال، رائو قیصر علی خان، رائو محمد افضال)

قاضی فیملی (قاضی عبدالمجید عابد 4 بار وفاقی وزیر، فہمیدہ مرزا، سپیکر قومی اسمبلی، تین دفعہ ایم این اے، ذوالفقار مرزا، صوبائی وزیر،

پیر فیملی (پیر مظہرا لحق، کئی بار وزیر، ما روی مظہر ، صوبائی وزیر سندھ،

پیر زادہ فیملی(شریف ا لدین پیر زادہ، 1973 آئین کے آر کیٹک، وفاقی وزیر قانون، عبدالحفیظ پیر زادہ، سابق وزیر تعلیم،

نون فیملی (فیروزخان نون وزیر اعظم، وزیر خارجہ اور وزیر اعلیٰ پنجاب، انور خان نون، سابق ایم این اے، امجد خان نون ، ضلع ناظم، وقارالنساء نون بھٹو خاندان کی قانونی مشیر،

منہاس فیملی (اکبر خان فورسٹار جنرل، افتخار خان ، پہلے نامزد چیف آف آرمی سٹاف، عفت لیاقت علی وفاقی وزیر، ریاض احمد صوبائی وزیر پنجاب، میاں فیملی آف باغبانپورہ  جسٹس میاں شاہ دین، سر میاں محد شفیع، صدرآل انڈیا مسلم لیگ، میاں شاہ نواز، میاں افتخار الدین سابق سیاست دان،

گبول فیملی: اللہ بخش گبول ممبربمبئی اور سندھ قانون ساز اسمبلی، دو دفعہ کراچی کے میئر، نبیل گبول، سابق وفاقی وزیر جہاز رانی،

جدون فیملی: اقبال جدون وزیر اعلیٰ سرحد، امان اللہ جدون ، وزیر پٹرولیم،

کھر فیملی: مصطفی کھر، وزیر اعلیٰ پنجاب ، غلام ربانی کھر ایم این اے، حنا ربانی کھر، سابق وزیر خارجہ،

خٹک فیملی: حبیب اللہ خٹک، علی قلی خان، فوجی جنرل، غلام فاروق خان، قانون ساز، نصراللہ خٹک وزیر اعلیٰ سر حد، یوسف خٹک، اجمل خٹک، پرویز خٹک ( وزیر اعلیٰ کے پی کے،

کھوکر خاندان ، بگتی خاندان ، مگسی خاندان ، اچکزئی فیملی، پرنس اورنگ زیب فیملی، ترہ کئی خاندان، جتوئی خاندان اور اسکے علاوہ دیگر اور بھی خاندان ہیں جو پاکستان پر 70 سال سے حکومت کر رہے ہیں۔

 

پاکستان کے سیاسی وڈیرے عقیل عباس جعفری کی اردو تصنیف ہے جس میں آپ نے پاکستان کے سیاسی خاندانوں کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے۔ پاکستان کے سیاسی وڈیرے سیاست کے موضوع پر ان کی پہلی کتاب ہے جس نے شائع ہوتے ہی تہلکہ مچا دیا۔ یہی وہ کتاب تھی جس نے سیاست کی دنیا میں سیاسی وڈیرے کی اصطلاح کو متعارف کروایا۔ صوبہ سرحد کے سیاسی خاندانوں کا تذکرہ شروع ہوتا ہے تو وہ ارباب، رند، بلور، ترین، تنولی، جدون اور خٹک خاندانوں کا پس منظر بیان کرتے ہوئے راجگان گکھڑ، شیر پاؤ، کنڈی، گنڈا پور اور محمد زئی تک آتے ہیں اور پھر ہمیں میاں گُل، ناصر، ہوتی اور یوسف زئی خانوادوں سے متعارف کراتے ہیں۔ بلوچستان کی طرف بڑھتے ہیں تو اسی الفبائی ترتیب میں ہمیں اچکزئی، بزنجو، بگٹی، جام، جمالی، جوگیزئی، خاندانوں سے ملواتے ہوئے خان آف قلات، ڈومکی، رند، رئیسانی، زہری، کھوسہ، کھیتران خاندانوں تک لے جاتے ہیں اور وہاں سے محمد حسنی، مری، مگسی، مینگل اور نوشیروانی خاندان تک ہمیں اپنا ہم سفر بناتے ہیں۔ صوبہ سندھ کے جن سیاسی خاندانوں پر عقیل عباس جعفری نے خامہ فرسائی کی ہے ان میں ارباب، انڑ، بجارانی، بھٹو، پٹھان، پگاڑا، پیرزادہ، تالپور، شاہ (تھرپارکر)، جام، جاموٹ، جتوئی، جونیجو، چانڈیو، شاہ (خیر پور)، زرداری، سید(سن)، سومرو، پیر (سہیون) شیرازی، عباسی، قاضی، کھوڑو، گبول، لوند، شاہ (مٹیاری)، مخدوم، مری، ملک، مہر، شاہ (نواب شاہ)، وسان اور ہارون خاندان شامل ہیں۔

 

خاندانوں کی سب سے بڑی تعداد قابلِ فہم طور پر پنجاب کے حصّے میں آئی ہے جن میں الپیال، بابر پٹھان، پراچے، ٹوانے، جنجوعے، چٹھے، چوہدری، چیمے، خلف زئی پٹھان، دریشک، دستی، دولتانے، ڈاہا، روکڑی، رئیس، سردار، سیّد، عباسی، قریشی، قصوری، نواب آف کالا باغ، کھٹڑ، کھر، کھرل، کھوسہ، گردیزی، گیلانی، لغاری، مخدوم زادے، مزاری، موکل، نوابزادے، نکئی، نون، وٹو اور وریو خاندان شامل ہیں۔جمہوری سیاست کا دور آئے یا مارشل لاء کے ڈنڈے کی حکمرانی، ہر صورت میں قیادت جاگیردار طبقے کی ہوتی ہے۔ کبھی یہ ری پبلِکن کا نام اختیار کرتے ہیں، کبھی کنونشن لیگ کے پرچم تلے جمع ہوجاتے ہیں، کبھی بھٹو کی اسلامی سوشلزم میں محفل جماتے ہیں، کبھی ضیاء الحق کی مجلسِ شوریٰ میں نظر آتے ہیں اور کبھی نواز شریف کا نفسِ ناطقہ بن جاتے ہیں عرض ہر عہد اور ہر اُلٹ پھیر میں انھی کا سِکہ رواں ہوتا ہے اور حد یہ ہے کہ حزبِ اقتدار ہی نہیں، حزبِ اختلاف بھی انہی سرداروں، وڈیروں، نوابوں اور خانوں پر مشتمل ہوتا ہے اور سچ یہ ہے کہ آج بھی برطانیہ ان ملک و مذہب دشمن لوگوں کے ذریعے برصغیر پہ حکومت کر رہا ہے۔ کب تک یہ قوم سوتی رہے گی۔

 

Friday, May 7, 2021

نواب ‏اکبر ‏بگٹی ‏شہید

بنام 
شہید نواب اکبر بگٹی 

2002 سے ایف سی نے سوئی آئل فیلڈ کی حفاظت کے بہانے سوئی اور ڈیرہ بگتی میں ڈیرے ڈال دیے۔ اس سے حالات بہتر ہونے کی بجائے مزید خراب ہونے لگے۔ اور اسی دوران بدقسمتی سے ڈاکٹر شازیہ والا واقعہ پیش آ گیا۔

ڈاکٹر شازیہ خالد سوئی آئل فیلڈ میں بطور میڈیکل آفیسر تعینات تھیں۔ آئل فیلڈ اور رہائشی کالونیوں کی حفاظت کی ذمہ داری ڈیفنس سروسز گارڈز یا ڈی ایس جی کے سپرد تھی۔ مبینہ طور پر ڈی ایس جی کے کیپٹن حماد نے ایک رات زبردستی ان کے کمرے میں داخل ہو کر انہیں زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا۔اس دوران ڈی ایس جی کے گارڈز باہر پہرا دیتے رہے۔ صبح ڈاکٹر شازیہ نے جب انتظامیہ کو اس واقعے کی اطلاع دی تو انہیں ہمدردانہ مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنی زبان بند رکھیں، ورنہ انہی کی بدنامی ہوگی۔ جب انہوں نے اپنے اہل خانہ سے رابطہ کرنے پر اصرار کیا تو انہیں تین دن خواب آور دوائیں دے کر بیہوش رکھا گیا اور اسی بیہوشی میں انہیں کراچی کے ایک دماغی امراض کے ادارے میں منتقل کر دیا گیا۔ مقصد انہیں ذہنی مریض قرار دینا تھا۔ یہیں سے وہ بمشکل اپنے شوہر سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوئیں جو ان دنوں لیبیا مقیم تھے۔ اس دوران سوئی فیلڈ کے ملازمین نے یہ خبر باہر پھیلا دی۔ 

بلوچوں کے ہاں اپنے علاقے میں کام کرنے والی خواتین کو پورے قبیلے کی آبرو سمجھا جاتا ہے- ڈاکٹر شازیہ کا تو آبائی علاقہ بھی سوئی تھا۔ بگٹی قبائل میں شدید اشتعال پھیل گیا۔ مسلح قبائلیوں نے آئیل فیلڈ اور ڈی ایس جیز پر حملے کرنے کی کوشش کی۔ ایک فوجی کانوائے پر راکٹ فائر کئے گئے۔ نواب اکبر بگٹی جہاں ایک جانب اپنے قبیلے کو سمجھاتے بجھاتے رہے وہیں انہوں نے حکومت سے اس واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران ڈاکٹر شازیہ اور ان کے شوہر کراچی میں لگ بھگ دو ماہ عملاً ہاؤس اریسٹ میں رہے۔ جنرل مشرف پی ٹی وی پر نمودار ہوا اور بغیر تحقیقات کے کیپٹن حماد کو معصوم قرار دے ڈالا۔ اس متکبرانہ رویے نے صورتحال مزید خراب کی۔ اوپر سے بلوچستان کی مقامی انتظامیہ متضاد اور من گھڑت انکشافات کرتی رہی۔ ایک بار کہا گیا کہ تشدد ہوا ہے، زیادتی نہیں۔ پھر کہا گیا کہ زیادتی ہوئی ہے مگر کرنے والا بگٹی قبیلے کا ایک کلرک ہے- 

ڈاکٹر شازیہ کا اس رات کا لباس، ان کے کمرے میں ٹوٹا ہوا ٹیلی فون جس کے ساتھ مجرم ان پہ تشدد کرتا رہا تھا اور کمرے میں مزاحمت کی تمام نشانیاں ختم کر دی گئیں۔ ریاست کا من پسند حربہ آزمایا گیا یعنی اخبارات میں ایک غلیظ اور گھٹیا مہم چلائی گئی جس کے مطابق ڈاکٹر شازیہ کا اپنا کردار ٹھیک نہیں تھا۔ ڈاکٹر شازیہ نے مایوس ہو کر خودکشی کی کوشش کی۔ اس دوران ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ ملک چھوڑ دیں یہاں ان کی جان کو خطرہ ہے- جھانسہ یہ دیا گیا کہ آپ فوری برطانیہ چلی جائیں وہاں سے حکومت آپ کو کینیڈا شفٹ کروا دے گی مگر ایک بار وہ ملک سے نکل گئیں تو انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔

دورہ امریکا کے دوران واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو میں مشرف نے کہا کہ پاکستانی خواتین ریپ کو پیسہ کمانے اور غیرملکی نیشنیلٹی حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔ دو دن بعد وہ اس بیان سے مکر گیا اور کہنے لگا کہ اس کے سامنے یہ بات ہوئی تھی اس نے نہیں کی تھی، مگر واشنگٹن پوسٹ کے پاس اس ملاقات کی ریکارڈنگ موجود تھی۔ یوں ایک بے شرم اور ذلیل انسان نے ایک جونئیر آفیسر کی خاطر اپنے پورے ادارے کی نیک نامی اور عزت داؤ پر لگا دی۔

مشرف اور بعض لوکل کمانڈرز کا خیال یہ تھا کہ صرف تین سرداروں خیر بخش مری، عطا اللہ مینگل اور نواب اکبر بگٹی کا بندوبست کر دیا جائے تو صورتحال نارمل ہو سکتی ہے- مشرف نے 2005 کے آغاز میں یہی پچاس برس پرانا مردہ کلیشے دہرایا کہ " سارے مسائل کی جڑ دو تین بلوچ سردار ہیں۔ پچھلی حکومتیں ان سے مذاکرات کرتی اور ان کی باتیں مانتی رہی ہیں۔ میری حکومت ریاست کی رٹ منوا کر رہے گی"

نواب اکبر بگٹی نے مذاکرات کی پیشکش پر جنوری 2005 میں کہا کہ " یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ فوجی آپریشن اور مذاکرات ساتھ ساتھ چلیں۔ اگر آپ مذاکرات چاہتے ہیں تو طاقت کا استعمال ترک کرنا ہوگا۔"

اس کے صرف دو ماہ بعد سترہ مارچ 2005 کو جب نواب اکبر بگٹی اور ان کے بیٹے نواب جمیل بگٹی اپنے گھر پر موجود تھے، ان پر بمباری کی گئی۔ اکبر بگٹی، شاہد بگٹی اور جمیل بگٹی بمشکل جان بچا پائے۔ چھیاسٹھ ہندو خواتین، مرد اور بچے اس بمباری کی زد میں آ کر جاں بحق ہوئے۔ بلوچ روایات سے ناواقف قارئین کو بتاتا چلوں کہ کسی بھی بلوچ قبیلے کی حدود میں رہنے والے کسی بھی اقلیتی برادری کے افراد اس قبیلے کی مشترکہ ذمہ داری سمجھے جاتے ہیں اور نواب اکبر بگٹی نے ڈیرہ بگتی کے تمام ہندوؤں کو اپنے ذاتی ڈیرے پر رہائش گاہیں دے رکھی تھیں۔ نواب جمیل بگٹی نے بعد میں بتایا کہ وہ یہ بات کبھی نہ بھول پائیں گے کہ جو گھر ہندو بھائیوں کی پناہ گاہ تھا وہی ان کیلئے موت کا پھندا ثابت ہوا۔

اس حملے پر پورے ہی ملک میں شدید ردعمل آیا۔ سندھ اور پنجاب کے سیاستدانوں کو بھی اس بات کا احساس ہوا کہ مشرف طاقت کا ناجائز استعمال کر رہا ہے- چوہدری شجاعت حسین نے مشرف سے مذاکرات کی اجازت لی اور سینیٹر مشاہد حسین سید کی قیادت میں ایک مذاکراتی وفد ڈیرہ بگتی پہنچا۔ شیری رحمان بھی اس وفد کا حصہ تھیں۔ بعد میں مشاہد حسین سید نے الجزیرہ کو انٹرویو میں بتایا کہ " ہم نے نواب اکبر بگٹی کو مصالحت، مذاکرات اور سمجھوتے کیلئے تیار پایا مگر بدقسمتی سے پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کا ایک مائنڈ سیٹ ہے- یہ مائنڈ سیٹ چھوٹے صوبوں کو ان کے جائز حقوق دینے میں ہمیشہ سے رکاوٹ رہا ہے"

خیر مشاہد حسین سید کی کوششوں اور چوہدری شجاعت کے درپردہ رابطوں کے نتیجے میں چند شرائط پر اتفاق ہوا، مگر مشرف کے دباؤ پر اس وقت کے کٹھ پتلی وزیراعظم شوکت عزیز نے سمجھوتے میں شامل عام معافی کی شرط کا اعلان کرنے سے انکار کر دیا۔ نواب اکبر بگٹی نے اپنی جانب سے اس معاہدے کی ہر ممکن پاسداری کی۔

مشرف دسمبر 2005 میں بلوچستان کے دورے میں سب سے حساس ترین علاقے کوہلو جا پہنچا جہاں کچھ قبائلیوں کو زبردستی اس کا خطاب سننے کیلئے اکٹھا کیا گیا تھا۔ اس جلسے پر کچھ راکٹ فائر ہوئے، پولیس کے کچھ لوگ زخمی ہوئے۔ یہ مری قبائل کا علاقہ تھا۔ سترہ دسمبر 2005 میں فوج نے تیس ہزار سپاہیوں، بارہ گن شپ ہیلی کاپٹرز اور چار جیٹ فائٹرز کے ساتھ کوہلو سے آپریشن کا آغاز کیا جو بڑھتا ہوا ڈیرہ بگتی اور مکران تک پھیل گیا۔ اس آپریشن میں چھیاسی افراد شہید ہوئے جن میں پچیس کے قریب مرد تھے جو علیحدگی پسند قرار پائے۔ باقی سب خواتین اور بچے تھے جو اپنے گھروں ہی میں آسمانوں سے برستی آگ میں جھلس کر رہ گئے۔

امن معاہدے کی عملاً دھجیاں بکھر چکی تھیں۔ مشرف نے ایک بار پھر ٹی وی پر آ کر بلوچوں کو کھلم کھلا دھمکی دی کہ "وہاں سے ہٹ کریں گے کہ پتہ بھی نہیں چلے گا"

یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ نواب اکبر بگٹی کا کوئی ایک مطالبہ بھی غیر آئینی نہیں تھا۔ نہ ہی انہوں نے شیخ مجیب کی طرح پاکستان سے علیحدگی کی بات کی تھی۔ جیو نیوز کیلئے حامد میر کو دیے گئے اپنے اگست 2006 کے انٹرویو میں جو ان کا آخری انٹرویو ثابت ہوا، نواب اکبر بگٹی نے کہا۔

" بلوچوں نے ہمیشہ ہر غیر آئینی اقدام کی مزاحمت کی ہے۔ غدار میں نہیں ہوں، جنہوں نے آئین کے آرٹیکل سکس کی خلاف ورزی کی وہ اس ملک کے اصل غدار ہیں۔ میر گل خان نصیر (مرحوم قوم پرست رہنما اور شاعر) کی طرح میں بھی صرف اپنے لوگوں کیلئے مساوی حقوق مانگ رہا ہوں۔ مگر جنرل مشرف کے نزدیک یہ ایسا جرم ہے، جس کی سزا صرف موت ہے-" انہوں نے مزید کہا کہ " آپ کے کمانڈو جرنیل کو میری شہادت پر ہی سکون آئے گا، مگر وہی اس صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ اب یہ آپ لوگوں پر ہے پاکستان یا جنرل مشرف میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیں، فیصلہ آپ کا ہے"

صرف دو سال بعد مشرف کے اپنے ادارے نے مشرف کی بجائے پاکستان کا انتخاب کر لیا مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ ایسا ہرگز نہیں تھا کہ بلوچستان کے متعلق یہ پالیسی پورے ادارے کی سوچ تھی۔ معروف صحافی زاہد حسین کو ایک کور کمانڈر نے بتایا کہ انہوں نے خود تین مرتبہ مداخلت کر کے آپریشن رکوایا تھا کیونکہ فوج میں بھی یہ سمجھا جا رہا تھا کہ طاقت اس مسئلے کا حل نہیں ہے- مگر مشرف فوج کو اپنی ذاتی آنا اور اپنے گھٹیا مقاصد کی تکمیل کیلئے بیشرمی سے استعمال کرتا رہا۔ زاہد حسین کے نیوز ویک میں شائع ہونے والے آرٹیکل "اٹس وار ناؤ" پہ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر شوکت سلطان نے فون کر کے مشرف کی جانب سے ناراضگی کا اظہار کیا۔ بعد میں آرٹیکل میں لکھی تمام باتیں سچ ثابت ہوئیں۔

26 اگست 2006 کو فوج نے اس غار پر جس میں نواب اکبر بگٹی کچھ ساتھیوں سمیت پناہ لئے ہوئے تھے، حملہ کر کے انہیں شہید کر ڈالا۔ ان کی لاش قبضے میں لے لی گئی اور بعد میں تابوت کو تالے لگا کر واپس کی گئی تاکہ لواحقین ان کا آخری دیدار کرنے سے بھی محروم رہیں۔ جنازے میں عوام کی شرکت بھی ناممکن بنا دی گئی۔

شہادت سے ایک ماہ قبل نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا " وہ مجھے مارنے پر تلے ہوئے ہیں، مگر میں اپنا ورثہ اپنی آنے والی نسلوں کو منتقل کر کے جا رہا ہوں، میرے بعد نوجوان اپنے حقوق کی جنگ جاری رکھیں گے"

اور بالکل ایسا ہی ہوا۔ صحافی شاہ میر ان کی شہادت سے اگلے دن پسنی میں اپنے گھر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے، جب انہیں باہر شور کی آوازیں سنائی دیں۔ پسنی پاکستان کے سیاسی معاملات سے لاتعلق ایک الگ تھلگ سی ساحلی بستی تھی مگر وہاں کے لوگ اکبر بگتی کی شہادت کی خبر سن کر گھروں سے باہر نکل آئے تھے، عورتیں شیرخوار بچوں سمیت پولیس سٹیشن کے باہر کھڑی ماتم کناں تھیں، مرد سرکاری عمارتوں پر حملہ کرنے کو تیار تھے۔

بلوچستان میں اس سے پہلے والی چاروں شورشوں میں مکران ڈویژن الگ رہا تھا۔ 2005 سے شروع ہونے والی مسلح جدوجہد میں مکران ڈویژن پیش پیش ہے- اس سے پہلے والی بغاوتوں میں زیادہ تر ان پڑھ قبائلی ہی شریک ہوا کرتے تھے۔ اس بار بلوچستان کے ڈاکٹرز، انجینئرز اور بزنس گریجویٹس بھی اس تحریک کا حصہ ہیں۔ اس سے پہلے ہر شورش میں کسی نے آنکھ اٹھا کر بھی قائد ریزیڈنسی کی جانب نہیں دیکھا تھا کیونکہ تب قائد کا ساتھی نواب اکبر بگٹی زندہ تھا، اس بار زیارت ریزیڈنسی جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دی گئی۔ اس سے پہلے بدترین حالات میں بھی سرکاری عمارتوں پر پاکستانی پرچم لہراتا رہتا تھا۔ اس مرتبہ سرکاری سکولوں میں قومی ترانہ پڑھنا بھی چھوڑ دیا گیا۔ آج تیرہ برس گزر جانے کے باوجود تحریک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ کیونکہ جو بلوچ راہنما اس تحریک کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے، مر چکے یا جلاوطن ہیں۔

مشرف کب کا دم دبا کر بھاگ چکا مگر بلوچستان اس کی بھڑکائی آگ میں اب تک جل رہا ہے- 2013 تا 2017 کے چار سالوں میں حالات میں کسی قدر بہتری کی امید بندھی تھی۔ مگر چند قلیل مدتی گھٹیا سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے راتوں رات چند سیاسی ٹاوٹوں کی جماعت کھڑی کر کے اسے بلوچستان پر مسلط کر دیا گیا ہے- جو وزیر اعلیٰ کور کمانڈر کی اجازت کے بغیر واش روم جانے کی ہمت نہیں رکھتا وہ بھلا بلوچستان کے پیچیدہ سیاسی مسائل کا حل خاک نکالے گا۔

اس ملک میں جمہوریت، آئین کی بالادستی اور سویلین سپریمیسی کی جدوجہد کرنے والوں کی جنگ کسی ادارے، کسی شخصیت کے خلاف نہیں ہے- یہ جنگ اس فرسودہ، گلی سڑی اور بدبودار سوچ سے ہے جو قیام پاکستان کے حق میں مہم چلانے والے، بانی پاکستان کے ساتھی، صوبے کے دو مرتبہ وزیر اعلیٰ اور ایک مرتبہ گورنر رہنے والے اس دھرتی کے قابل فخر سپوت کو غدار قرار دے کر مار ڈالتی ہے- نفرت اس سوچ سے ہے جس کے تحت ملک کا ایک منتخب صدر، دو منتخب وزرائے اعظم تو ٹرائل کے دوران جیل بھگتتے ہیں اور سینکڑوں بے گناہوں کے قاتل، دو مرتبہ آئین شکنی کے مرتکب بزدل بھگوڑے آمر کو ریاست پندرہ لاکھ ماہوار پر وکیل مقرر کر کے دیتی ہے-

بگٹی تیرہ برس بعد بھی زندہ ہے، بگٹی ایک سو تیرہ برس بعد بھی زندہ رہے گا۔ اس نے اپنی دھرتی کے حقوق کی جنگ لڑتے ہوئے جان دی ہے اور بلوچ اپنے شہیدوں کو کبھی نہیں بھلاتے۔ جبکہ مشرف جیتے جی مر چکا ہے، بوٹ چاٹ قبیلے کے سوا پورے ملک میں کوئی اس پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرتا۔

نواب اکبر بگٹی زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ تمام تر ریاستی پروپیگنڈے کے باوجود وہ ہزاروں لاکھوں پنجابیوں کیلئے بھی اتنے ہی محترم ہیں جتنے بلوچوں کیلئے۔ ان کے یوم شہادت پر ایک پنجابی ان کو سلام پیش کرتا ہے۔
 
ایک اصلی قوم پسند پنجابی کی وال کاپی پیسٹ

ہم ٹیپو سلطان کی برسی کیوں نہیں مناتے؟

 ہم ٹیپو سلطان کی برسی  کیوں نہیں مناتے؟ 

(تحریر طاہر نعیم ملک) 


رواں سال بھی ٹیپو سلطان کی برسی  خاموشی اور بےاعتنائی سے گزر جائے گی۔ ہم ٹیپو سلطان کو کیوں یاد نہیں کرنا چاہتے۔ اس سوال کو جاننے کے لئے ہمیں ٹیپو سلطان کو جاننا پڑے گا۔


ٹیپو سلطان جنہیں انگریز مورخ شیر میسور کے نام سے یاد کرتے ہیں انگریز سرکار کے نزدیک ایک ظالم حکمران تھا۔ جو انگریز کے ہندوستان میں تسلط اور بالادستی کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ سمجھا جاتا تھا۔


بہادری اور قومی غیرت اُسے اپنے والد حیدر علی سے ورثے میں ملی مدراس سے دو سو میل دور اپنی ریاست سرنگا پٹم کے قلعے میں ٹیپو سلطان اور انگریز فوج میں گھمسان کا رن پڑا۔ جس دلیری اور استقامت سے ٹیپو سلطان اور اُسکی افواج نے انگریز افواج کا مقابلہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ مقامی سطح پر تیار ہونے والی توپیں اور دیگر سامان ضرب و عصب اس جنگ کا حصہ تھے۔ ٹیپو سلطان جنگ سے قبل فرانس کے حکمران نیپولین سے رابطہ میں تھا۔ اُسکی خواہش تھی کہ فرانس کے ساتھ مل کرسلطنت برطانیہ کو شکست دی جائے لیکن یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔


ٹیپو سلطان کی افواج میں شیروں کا ایک دستہ بھی شامل تھا۔ آج بھی لندن کے وکٹوریہ میوزیم میں جنگ کی نایاب تصاویر موجود ہیں جس میں ایک شیر نے انگریز فوجی کو دبوچ رکھا ہے اور اُسکی خوف کے مارے جان نکل رہی تھی۔


ٹیپو سلطان یہ کہا کرتا تھا کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے لہذا اس قول کے عملی مظاہرہ کا جب وقت آیا تو اُس نے اگلے مورچوں پر لڑتے ہوئے اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ وطن کی آزادی کی خاطر جان دیدی لیکن اُصولوں پر سمجھوتہ نہ کیا۔


افسوس کا مقام یہ ہے کہ انگریز افواج اُسے شکست نہ دے سکتی اگر نظام آف حیدرآباد کی سپاہ کا ایک دستہ افواج کا حصہ نہ بنتا۔ لہذا 1799 سے لے کر آج تک ہماری ہر شکست تقسیم کرو اور حکومت کرو کی حکمت عملی کی مرہون منت چلی آرہی ہے۔


جب میں یہ سوچتا ہوں کہ ٹیپو سلطان کی اتنی بڑی قربانی کو ہم نے کیوں فراموش کر دیا تو مجھے چند روز قبل اخبار میں شائع ہونے والی ایک خبر یاد آتی ہے۔


روزنامہ دنیا میں شائع ہونے والی خبر کہ مطابق چوہدری نثار علی خان کے آبائی گاوں چک بیلی خان سے تعلق رکھنے والے شاہ حامد خان کو برطانیہ کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز وکٹوریہ کراس ملنے کی سو سالہ یاد گاری تقریب پاکستان آرمی کے زیر انتظام منائی گئی۔ پاک فوج کے اعلیٰ افسران نے ان کی قبر پر سلامی پیش کی۔ پہلی جنگ عظیم کے شاہ حامد خان نے دشمن فوج کا بڑی دلیری سے مقابلہ کیا لہذا بر طانوی حکومت نے 12اپریل 1916 کو وکٹوریہ کراس سے نوازا۔ تقریب میں پاکستان آرمی کے اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔


میرا تعلق بھی چکوال کی تحصیل تلہ گنگ سے ہے ٹیپو سلطان کو دریافت کرنے سے قبل میں بھی اس تفاخر کا شکار رہا کہ چکوال برصغیر میں پہلے وکٹوریہ کراس حاصل کرنے والے مسلمان برطانوی فوجی کا ضلع ہے اور انگریز کی فوج میں بھرتی ہونے والے مسلمان مارشل ریس سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن جب مطالعہ پاکستان کا نصاب زمانہ طالب علمی میں پڑھا تو مزید تضادات آشکار ہوتے چلے گئے کہ ایک جانب تو ہماری تاریخ میں یہ لکھا ہے کہ ہم نے انگریزوں اور ہندوں سے آزادی حاصل کی تو دوسری جانب ٹیپو سلطان کے بجائے وکٹوریہ کراس حاصل کرنے والے فوجی افسران ہمارےہیرو کیوں ہیں۔ وہ جاگیردار اور پیر جنہوں نے انگریزوں سے لڑنے کے بجائے معمولی مفادات کے پیش نظر غلامی کو ترجیح دی اور اپنی قوم کا سودا کیا لیکن ہم ہر سال انکی برسی بڑی شان و شوکت سے مناتےہیں۔


آج بھی ہم ٹیپو سلطان کے نام پر کسی شہر کا نام نہ رکھ سکے۔ آج بھی راولپنڈی کینٹ میں جنرل گریسی کے نام پر ایک سڑک منسوب ہے۔ اگر ٹیپو سلطان ہمارے قومی نصاب میں جگہ نہ بنا سکا تو کیا اسکی وجہ یہ ہے کہ ٹیپو سلطان ہمیں غیرت و حمیت کا درس دیتا ہے؟ اُسکی ڈکشنری میں ڈیل کرنا، آف شور کمپنیوں کے ذریعے بیرون ملک دولت کے انبار لگانا، بیرون ملک جائیدادیں بنانا ریٹارمنٹ کے بعد غیر ملکی ملازمت قبول کرنا، اپنی نوکری کی خاطر قومی مفادات داؤ پر لگانا اور اپنی جان بچا کر میدان جنگ سے فرار ہونا اور سب سے بڑھ کر یہ اپنی مٹی سے غداری کرنا شامل ہی نہ تھا۔

جنرل_رانی کی کہانی

 جنرل_رانی کی کہانی 


نوٹ

(اگر اپنے جرنیلو کے شلواریں اترتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہو تو ضرور پڑھئے)


شاہِ ایران سرکاری دورے پر پاکستان آئے ہوئے تھے۔ جب ان کی واپسی کا وقت آیا تو صدر یحییٰ اپنے کمرے سے نہیں نکل رہے تھے۔ پروٹوکول کا بہت سنگین مسئلہ پیدا ہو گیا کیوں کہ کوئی ان کے بیڈ روم میں داخل ہونے کی جرات نہیں کر رہا تھا۔


سابق آئی جی پولیس سردار محمد چوہدری نے اپنی آپ بیتی ’جہانِ حیرت‘ میں لکھا ہے کہ ’آخر صدر کے ملٹری سیکریٹری جنرل اسحٰق نے اقلیم اختر رانی سے کہا کہ وہ اندر جائے اور صدر کو باہر لائے۔ وہ کمرے میں داخل ہوئی تو ملک کی ایک مشہور ترین گلوکارہ کو صدر کے رنگ رلیاں مناتے پایا۔ خود رانی کو اس منطر سے بڑی کراہت محسوس ہوئی۔ اس نے کپڑے پہننے میں صدر کی مدد کی اور بدقت تمام اسے باہر لائی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ’جہانِ حیرت‘ کے انگریزی روپ The Ultimate Crime: Eyewitness to Power Games میں تو چوہدری صاحب نے اس ’رنگ رلی‘ کی تھوڑی وضاحت بھی کی ہے، لیکن اردو میں گول مول کر گئے۔ خیر جو بات انہوں نے چھپا دی، ہم کیوں ظاہر کریں؟ دوسری بات یہ کہ انہوں نے ’مشہور ترین‘ گلوکارہ کا نام لکھنے سے گریز کیا ہے، لیکن اسی کہانی میں آپ نیچے چل کر دیکھیں تو شاید یہ معمہ حل ہو جائے۔


یہ اقلیم اختر رانی کون تھیں اور انہیں پاکستان کی طاقتور ترین خواتین میں سے ایک کیوں کہا جاتا ہے، حالانکہ نہ تو وہ سیاست دان تھیں نہ کسی نوابی یا جاگیردار خانوادے سے تعلق تھا اور نہ ہی ان کا واسطہ ادب یا شو بزنس سے تھا۔


ملکی سالمیت کے لیے خظرہ

اس عجیب و غریب کردار کا اصل نام تو اقلیم اختر رانی تھا لیکن وہ ملک کے گوشے گوشے میں ’جنرل رانی‘ کے نام سے مشہور ہوئیں۔ ایک زمانے میں ان کے مقام و مرتبے کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ 17 دسمبر 1971 کو جب پاکستانی فوج نے بھارت کے سامنے ہتھیار ڈالے تو اس کے چند دن بعد جنرل رانی کو گجرات میں ان کے گھر میں نظر بند کر کے باہر پولیس کا پہرا لگا دیا گیا اور ساتھ ہی ان کا فون کاٹ دیا گیا۔ نظر بندی کے حکم میں انہیں تنبیہ کی گئی کہ وہ کوئی ایسا بیان نہیں دیں گی جو پاکستان کی سالمیت اور دفاع کے منافی ہو۔


اس موقعے پر اخباروں میں جو سرخیاں لگیں وہ بھی ایک نظر دیکھ لیجیے:

*رانی جو کبھی پاکستان کی ملکہ تھی، اپنے گھر میں نظر بند کر دی گئی (نوائے وقت)

*رانی، جس نے مجرموں کو معافی دلوائی اور تاجروں کو لائسنس دلائے (مساوات)


ایک عورت، جس کے پاس کوئی سیاسی یا فوجی عہدہ نہیں اس کا حکم ملک کے صدر پر کیسے چلتا تھا؟ انہیں اخبار پاکستان کی ملکہ کیوں کہتے تھے اور وہ مجرموں کو معافی کیسے دلوا دیتی تھی؟ اور سب سے بڑھ کر وہ ملک کی سالمیت اور دفاع کے لیے اتنی خطرناک کیسے سمجھی گئی کہ اس پر پہرہ بٹھا دیا جائے؟


اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے ملک کی گنجلک تاریخ کی چند گردآلود راہداریوں میں جھانکنا پڑے گا۔


اقلیم اختر 1931 میں گجرات کے ایک چھوٹے سے زمیندار کے گھر میں پیدا ہوئیں۔ کچھ عرصہ تو وہ سکول جاتی رہیں مگر میٹرک نہیں کر سکیں۔ کم عمری ہی میں ان کی شادی ایک پولیس افسر سے کر دی گئی۔ یہ شادی کئی سال چلی اور اس دوران اوپر تلے ان کے چھ بچے پیدا ہوئے۔


یہاں تو حالات بالکل اس زمانے کے رواج اور معمول کے مطابق چلتے رہے، اس کہانی میں یکلخت ایک موڑ ایسا آیا جس نے سارا پلاٹ تلپٹ کر دیا۔


ہوا کا وہ تاریخ ساز جھونکا

60 کی دہائی کے اوائل کا ذکر ہے کہ اقلیم اختر اپنے خاوند کے ساتھ مری کی مشہور مال روڈ پر چہل قدمی کر رہے تھیں۔ خاتون نے اس وقت کے عام دستور کے مطابق برقع اوڑھ رکھا تھا۔ اس دوران اچانک ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا آیا۔


یہاں سوال اٹھتا ہے کہ اگر یہ ہوا کا جھونکا نہ آتا تو کیا پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی؟ وہ جو کہتے ہیں کہ بحرِ اوقیانوس پر ایک تتلی کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سے ہوا میں معمولی انتشار پیدا ہوتا ہے، جو مختلف موسمی اور ماحولیاتی مرحلے طے کرتے کرتے بالآخر جا کر امریکہ میں شدید بحری طوفان کا باعث بن جاتا ہے۔


مری کے مال روڈ پر چلنے والے اس جھونکے نے وہ الاؤ بھڑکایا جس نے آنے والے برسوں میں بہت سوں کے کردار اور کیریئر کو جلا کر راکھ کر دیا۔


اقلیم اختر نے 2002 میں نیوز لائن کی عائشہ ناصر کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ جھونکے کا لمس اپنے چہرے پر محسوس کرنے کے لیے انہوں نے ایک لمحے کو نقاب اٹھا دیا۔ روایتی تھانے دار خاوند کو اپنے چھ بچوں کی ماں کا چہرہ مال روڈ پر لوگوں کے درمیاں یوں عریاں ہونا پسند نہیں آیا اور انہوں نے بیوی کو ڈانٹ پلائی بلکہ اپنی پولیس کی چھڑی سے ٹہوکا بھی دے دیا۔


اقلیم اختر کہتی ہیں کہ بس یہی وہ لمحہ تھا جس نے ان کے اندر بغاوت کا شعلہ بھڑک گیا۔ خاوند کی ڈپٹ میں انہیں اتنی ذلت محسوس ہوئی کہ انہوں نے وہیں اپنا برقع نوچ کر مال روڈ پر پھینک دیا۔


وہ کہتی ہیں: ’مجھے لگا کہ بس بہت ہو گئی۔ میرے اندر کئی مہینوں سے غصے اور محرومی کے جذبے پل رہے تھے۔ اس دن سب کچھ باہر آ گیا۔ میں اپنے خاوند کے مفلر کے چیتھڑے اڑانا چاہتی تھی، اس کے چہرے کو نوچ ڈالنا چاہتی تھی، اس کے بال اکھاڑ دینا چاہتی تھی۔ مجھے صرف ایک بات نے روکا کہ اس وقت مال روڈ پر بہت بھیڑ تھی۔‘


اقلیم اختر نے اسی وقت تہیہ کر لیا کہ اب وہ کسی خاوند کی بیوی بن کر نہیں رہیں گی۔ وہ خود اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں گی اور اپنی مرضی کی زندگی گزاریں گی جہاں انہیں روکنے ٹوکنے اور ڈانٹنے ڈپٹنے والا کوئی نہ ہو۔


وہ اسی انٹرویو میں کہتی ہیں کہ ’میں مردوں کو انہی کے کھیل میں شکست دینا چاہتی تھی۔ میرا خاوند پولیس میں تھا اس لیے میں نے بہت سے طاقتور مردوں کو دیکھا تھا اور مجھے احساس ہوا کہ تمام طاقتور مردوں کو اپنی بھڑاس نکالنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، اور یہ بھڑاس کسی بستر کے ساتھی کی صورت میں نکل سکتی ہے۔ مرد کا عہدہ جتنا بڑا ہو گا، اس کی یہ ضرورت اتنی ہی شدید ہو گی۔‘


اقلیم اختر نے مردوں کی یہی ضرورت پوری کرنے کے لیے ایک ایجنسی کھول لی، جس میں کئی خوبرو لڑکیاں ان کے لیے کام کرنے لگیں جن میں فلموں کی بعض ناکام ادکارائیں بھی شامل تھیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کراچی یا لاہور جیسے بڑے شہروں کی بجائے راولپنڈی کا انتخاب کیا۔ شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ ان دو شہروں میں نیپیئر روڈ اور ہیرا منڈی کی شکل میں پہلے ہی مقابلہ بہت سخت تھا۔


روئی اور چنگاری

اسی دوران کسی طرح سے جنرل یحییٰ اور اقلیم اختر کے ستارے ٹکرا گئے۔ یہ ملاقات کہاں ہوئی، کن حالات میں ہوئی، اس بارے میں مختلف راوی مختلف کہانیاں بیان کرتے ہیں۔ خود اقلیم کہتی ہیں کہ یہ ملاقات ناؤ و نوش کی ایک محفل میں ہوئی تھی، یحییٰ خان کہتے ہیں کہ میں جنرل رانی کو بچپن سے جانتا ہوں جب میرے والد کی گجرات میں پوسٹنگ تھی۔ سردار چوہدری نے لکھا ہے کہ یہ دونوں پہلی بار سیالکوٹ میں ملے جہاں رانی سی ایم ایچ میں زیرِ علاج تھیں۔


ملاقات چاہے جہاں ہوئی، اور جن حالات میں ہوئی، بہرحال کچھ ایسا ہی معاملہ ہوا جیسے روئی کو چنگاری دکھا دی گئی ہو۔ اس کے بعد جنرل یحییٰ اقلیم اختر کے ہاں باقاعدگی سے آنے جانے لگے۔ حتیٰ کہ سردار چوہدری کے بقول 1965 کی جنگ میں جب یحییٰ خان چھمب جوڑیاں سیکٹر کے انچارج تھے، اس وقت بھی محاذ آرائی سے وقت نکال کر فوجی ہیلی کاپٹر میں رانی کے گھر آیا جایا کرتے تھے۔


لیکن رانی کے علاوہ یحییٰ خان کی نظریں صدارت کی کرسی پر بھی لگی تھیں، اس لیے انہوں نے کچھ ایسی ڈوریاں ہلائیں کہ جنرل ایوب باگیں یحییٰ خان کو سونپ کر اقتدار کے سرکش گھوڑے سے اتر گئے۔ ضرورت نہیں تھی، لیکن یحییٰ خان ملک میں دوسرا مارشل لا نافذ کر کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔ جنرل یحییٰ کا ستارہ بلند ہوا تو بیگم اقلیم کے اختر بھی اوپر اٹھتے چلے گئے۔


دروغ بر گردنِ راوی، لیکن کہا جاتا ہے کہ وہ جنرل صاحب اور ملک کی دوسری طاقتور اور مقتدر ہستیوں کی ’بھڑاس‘ نکالنے کا کام زور و شور سے کرنے لگیں۔ یہی وہ زمانہ ہے جب اخباروں میں ان کا تذکرہ ’جنرل رانی‘ کے نام سے ہونے لگا۔ مشہور ہے کہ یہ خطاب انہیں ذوالفقار علی بھٹو نے دیا تھا۔


کہا جاتا ہے کہ اداکارہ ترانہ بھی جنرل رانی کی ٹیم کا حصہ تھیں، تاہم جس بڑی شخصیت کو اقلیم اختر نے جنرل یحییٰ خان متعارف کروایا وہ میڈیم نور جہاں ہیں۔


یحییٰ خان کو میڈم کی آواز پسند تھی (کم از اس معاملے میں انہیں صاحبِ ذوق کہا جا سکتا ہے!) جنرل رانی کے بقول، ایک رات انہوں نے نور جہاں کا گیت سننے کی فرمائش کی تو جنرل رانی نے کہا گیت کیا میں آپ کو خود نورجہاں سے ملوا دوں گی، اور چند دنوں کے اندر اندر جنرل رانی نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔


اگر آپ کو یاد نہیں تو یاد دلا دوں کہ یہ وہی زمانہ ہے جب مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی جاری تھی اور ملک دو حصوں میں ٹوٹنے والا تھا۔


ملک کا خداحافظ

یحییٰ خان باصلاحیت اور ذہین فوجی افسر تھے۔ دوسری عالمی جنگ میں وہ بحیرۂ روم کے محاذ پر لڑے اور جرمنوں کے ہاتھوں گرفتار بھی ہوئے۔ انہیں اعزاز حاصل ہے کہ وہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے کم عمر میجر جنرل ہیں۔ انہوں نے نئے دارالحکومت اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں کلیدی کردار ادا کیا اور کچھ عرصہ سی ڈی اے کے چیئرمین بھی رہے۔

تاہم شراب و شباب کی لت اور سب سے بڑھ کر اقتدار کی ہوس نے یحییٰ خان کو مکمل طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا۔ اسے پاکستان کی بدقسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ اپنی تاریخ کے نازک ترین دور میں اس کی باگ ڈور ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں تھی جو ہوش و حواس سے بیگانہ ہو چکا تھا۔


سابق آئی جی پنجاب راؤ رشید نے اپنی کتاب ’جو میں نے دیکھا‘ میں لکھا ہے کہ جب مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی عروج پر تھی، اسی دوران یحییٰ خان کا پشاور میں سرکاری خرچ پر تیارہ شدہ اپنےبنگلے کا افتتاح کر رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس تقریب میں جنرل رانی بھی شریک تھیں۔ آگے کا حال راؤ صاحب ہی سے سنیے:


’سوئمنگ پول کے سامنے رات کے ایک دو بجے تک شراب وغیرہ چلتی رہی۔ بڑا ہاؤ ہو ہوتا رہا۔ سرخ لائٹیں لگی ہوئی تھیں۔ وہاں پشاور کا ایک جرمن ۔۔۔ تھا، اس کی بیوی بڑی خوبصورت تھی اور اس کے متعلق مشہور تھا کہ سی آئی اے کی ایجنٹ ہے۔۔۔ وہ بکینی پہن کر سب کے ساتھ نہا رہی تھی۔۔۔ کھیل یہ تھا کہ اس محترمہ کو جرنیل اٹھا اٹھا کر سوئمنگ پول میں پھینکتے تھے، وہ پھر باہر نکلتی تھی، قہقہے لگتے تھے۔


’یہ اس وقت کا حال ہے جب ایسٹ پاکستان میں ہمارے بےشمار فوجی مارے جا رہے تھے اور ایسٹ پاکستان کے آخری دن تھے۔ چونکہ یہ قصہ میرے گھر کے سامنے ہو رہا تھا، میں دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ اگر یہی حال ہے تو پھر ملک کا خدا ہی حافظ ہے۔‘


جنرل رانی کی نظربندی

جنرل یحییٰ خان کے زوال کے بعد جنرل رانی کا ستارہ بھی گہنا گیا اور انہیں کئی ماہ تک نظر بند رکھا گیا۔ مشہور وکیل ایس ایم ظفر نے ان کا مقدمہ لڑا اور کوشش کر کے انہیں رہا کروانے میں کامیاب ہو گئے۔ وہ اپنی کتاب ’میرے مشہور مقدمے‘ میں لکھتے ہیں کہ جنرل رانی کو ذوالفقار بھٹو پر بڑا غصہ تھا کہ ان کے دور میں ان کے ساتھ یہ سلوک کیوں ہو رہا ہے۔ انہوں نے ایس ایم ظفر کو ایک خط میں لکھا:


’میری دوستی یحییٰ خان سے زیادہ تو بھٹو صاحب سے تھی۔ ایک سال سے وہ میرے آگے پیچھے رہے۔ میں ان کے لیے دعوتوں کا اہتمام کرتی رہی ۔ ۔ ۔‘


بھٹو صاحب کے علاوہ بھی کئی پردہ نشینوں کو خدشہ تھا کہ جنرل رانی ان کے راز نہ کھول دے۔ اس کا ذکر سردار چوہدری کی زبانی سن لیجے


جنرل رانی کے پاس یحییٰ خان اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں معلومات کا طومار تھا۔ اس کے بقول یحییٰ خان نے نومبر 1968 میں اقتدار پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کرنا شروع کر دی تھی۔۔۔ وہ فوج کے تقریباً ہر اہم آدمی کو جانتی تھی اور جرنیلوں کی رنگ رلیوں، سمگلنگ، زر اندوزی، اور دیگر کرتوتوں پر مبنی بہت سے کہانیوں سے واقف تھی۔‘

چوہدری صاحب کی معلومات میں اس لیے شک نہیں کیا جا سکتا کہ جنرل رانی کی نظر بندی کے دوران انہی نے 28 دن تک ان سے پوچھ گچھ کی تھی.


بعد میں جنرل رانی کا معاملہ حمود الرحمٰن کمیشن تک بھی پہنچا۔ جب کمیشن نے یحییٰ خان سے جنرل رانی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا:

’میں اس خاندان کو اس وقت سے جانتا ہوں جب میرے والد آغا سعادت علی کی بطور ایس پی گجرات میں پوسٹنگ ہوئی۔ یہ بہت عرصہ پہلے کی بات ہے۔ رانی میری بہن کی طرح ہے۔‘


ایس ایم ظفر کا کار کا معمہ

جنرل رانی کی نظربندی ختم ہوئی تو انہو ں نے ایس ایم ظفر سے ملاقات کر کے شکریہ ادا کرنا چاہا۔ ایس ایم ظفر لکھتے ہیں کہ اتفاق سے ان دنوں میری گاڑی چوری ہو گئی تھی اس لیے جب جنرل رانی کی طرف سے کال آئی تو میں نے معذرت کر لی کہ میں نہیں آ پاؤں گا۔ اس پر انہوں نے اپنے بیٹے محسن رضا کو گاڑی دے کر بھیج دیا کہ وہ مجھے انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل لے آئے جہاں وہ ٹھہری ہوئی تھیں۔


خیر، ملاقات ہوئی اور جنرل رانی نے اپنے وکیل کا شکریہ ادا کیا جس کی وجہ سے ان کی جلد رہائی ممکن ہو سکی۔ اس کے بعد کا واقعہ بےحد دلچسپ ہے۔ ایس ایم ظفر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’ایک ماہ بعد سول لائیز پولیس سٹیشن لاہور سے اطلاع ملی کہ میری کار برآمد ہو گئی ہے۔ ہم نے ڈی اسی پی سے پوچھا کہ ہماری کار کہاں سے ملی؟ انہوں نے جواب دیا کہ آخری بار یہ کار محسن رضا کے پاس تھی۔ گویا ہم اپنی کار میں بیٹھ کر انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل گئے اور پھر اسی میں واپس اپنے گھر پہنچے۔‘


ایس ایم ظفر نے اس تحریر کے آخر میں چار سوال اٹھائے ہیں:


جنرل رانی جنرل یحییٰ تک کیسے پہنچی؟


بھٹو اور کھر جنرل یحییٰ تک کیسے پہنچے؟


جنرل رانی اور جنرل یحییٰ نظر بندی تک کیسے پہنچے؟


میری کار جنرل رانی تک کیسے پہنچی؟


ہم اپنی طرف سے پانچویں سوال کا اضافہ کرنا چاہتے ہیں:


اگر اس دن مری کی مال روڈ پر ہوا کا وہ جھونکا نہ چلتا تو کیا پاکستان کی تاریخ وہی ہوتی جو آج ہے؟


٭٭٭٭

یہ بتانا ضروری تو نہیں لیکن ضمناً سن لیجیے کہ جنرل رانی عدنان سمیع خان کی رشتے کی اور فخرِ عالم کی سگی نانی ہیں۔ ان کا انتقال یکم جولائی 2002 کو لاہور میں ہوا۔