Saturday, April 6, 2024

نیشنلائزیشن

 ‏نیشنلائزیشن

آج کی جواں نسل جن باتوں سے بے خبر ہے اور عمران منافق جیسوں کی تقریروں سے متاثر ہو کر یہ کہتی ہے کہ پچتہر سالوں سے ملک لوٹا جارہا ہے، سب چور ہیں، ہم نے کچھ نہیں کیا، ہم غلام ہیں،  ان کی معلومات کے لیے بتانا چاہتا ہوں کہ 1970 تک پاکستان  میں تیس چالیس امبانی، ٹاٹا، برلا، سے بڑے صنعتکار بینکار بزنس جینئس تھے جنہوں نے ملک کی معیشت کو سنبھالا ہوا تھا۔ ملک کوریا جاپان سے بہت آگے تھا مڈل ایسٹ کے ممالک کسی گنتی میں نہیں تھے۔ ان صنعتکاروں بینکاروں کو بائیس خاندان کا نام دے کر ٹارگٹ کیا گیا۔

ان میں سے سہگل گروپ نے کپڑے کی صنعت کو عروج دیا۔ داؤد گروپ ہیوی وہیکل اور زرعی مشینری کے بادشاہ تھے۔ داؤد ہرکولیس ٹریکٹر ان کی پروڈکٹ تھی۔ ہارون خاندان چھوٹی مصنوعات، اصفہانی سلہٹ کے چائے کے باغات کے مالک نے ملک کی پہلی ائیرلائن قائم کی جو آج کی سب ائر لائنوں سے بہتر تھی۔ حبیب گروپ بینکنگ کے کنگ تھے. ساٹھ کی دہائی میں ان کا حبیب پلازہ ایشیأ کی بلند ترین عمارت تھی۔ ایشیأ میں پہلا آئی بی ایم بینکنگ سسٹم اس بلڈنگ کی نویں منزل پر نصب ہوا۔ فینسی کپڑے کی صنعت نشاط گروپ کے پاس تھی اور اس کے علاوہ بھی وہ مختلف مصنوعات کے بانی تھے۔ لاہور بیکو یعنی بٹالہ انجینئرنگ سائیکل موٹرسائیکل اسمبل کرتے تھے۔ ان کی بیکو، ہرکولیس، سہراب، رستم سائیکل پورے ملک میں چلتیں۔ میاں شریف کا اتفاق گروپ ٹیوب ویل اور ویٹ تھریشر کے بانی تھے۔ 1966 میں بیکو کے میاں لطیف اور اتفاق کے میاں شریف نے مغل پورہ ورکشاپ میں ٹینک سازی کی اجازت لی۔ لارنس پور وولن ملز کی سُوٹنگ دنیا میں نمبر ون تھی۔ غرض ایک پوری صنعتی ریاست تھی جن کے مالکان نیشنلائزیشن کے نتیجے میں اپنی مشینری بنگلہ دیش لے گئے۔

بھٹو صاحب (اس وقت کے عمران خان) نے ان بائیس خاندانوں کے خلاف تحریک چلائی کہ ملک کی ساری دولت ان کے پاس ہے، ان کے پیٹ سے نکالوں گا، لہزا ہم عوام ان کے خون کے پیاسے ہو گئے تھے۔ ہم نے اپنے ان مُحسن خاندانوں کے خلاف خُونی تحریک چلائی۔ بھٹو صاحب خود بھی فیوڈل تھے  اور فیوڈلز یعنی بڑے زمین داروں نے پاور میں آکر سب صنعت کاروں کی املاک بلا معاوضہ قومی ملکیت میں لے لیں۔ لاہور کی بیکو اب پیکو بن کر تباہ ہوئی۔ سب جینئس خاندان تباہ و برباد ہوئے۔ بیکو کے میاں لطیف جرمنی چلے گئے، اتفاق کے میاں شریف ملک چھوڑ کر مڈل ایسٹ میں گلف سٹیل ملز لگا کر بیٹھ گئے. اصفہانی کنگال ہو گئے،  ان کے سلہٹ کے چائے کے باغات بنگلہ دیش لے گیا. ائیرلائن پی آئی اے بن کر تباہ ہوگئی. حبیب گروپ سے حبیب بینک چھین لیا گیا، سہگل گروپ نے کوہ نور جیسی بزنس ایمپائرز پلاٹ بنا کر نیلام کر دی۔ کوہ نور جو پوٹھوہار کی ماں کہلاتی تھی، تباہ ہوئی. مشرقی پاکستان میں جنرل ایوب خان کے دور کے میمن سنگھ اور نرائن گنج کے بہت بڑے انڈسٹریل زون بنگلہ دیش کے کام آئے. کراچی سائیٹ انڈسٹریل  ایسٹیٹ جہاں گندھارا والے ہینو ٹرک بناتے، شاہنواز لمیٹڈ  شیورلیٹ اور مرسیڈیز اسمبل کرتے، سب کچھ قومیا کر تباہ کر دیا گیا. ان خاندانوں میں سے اصفہانی کی بیٹی حسین حقانی کی اہلیہ امریکہ چلی گئی۔

بعد میں جنرل ضیاء نے صنعت کاروں کو ڈھونڈنا شروع کیا۔  ہارون خاندان کے محمود اے ہارون کو گورنر سندھ بنایا۔  شریف خاندان کو جنرل ضیاء باہر سے بلا کر لائے اور پھر اسی شریف خاندان کے نواز شریف نے ملک کو ترقی کی اُس راہ پر ڈالا کہ آج کا ملک جو کچھ نظر آتا ہے اسی نواز شریف کے وژن اور کاموں کی بدولت ہے ورنہ بھٹو والے تو شروع میں موٹروے پر تنقید کر کے اسے بھی ختم کرنا چاہتے تھے۔ اسی ارب پتی شریف خاندان کو چور چور کہتے پھرتے ہیں. کبھی اندر کبھی باہر، کبھی جیل کبھی جلاوطنی، کبھی دو فلیٹ کہاں سے آئے، کبھی پاکستان کی دولت واپس لاؤ۔

اصل میں غلامی اور غربت تو بھٹو کی دی ہوئی ہے۔ عوام کو بےروزگار کیا، فیوڈلز، وڈیرے، چوہدری، مخدوم، لغاری، جتوئی، ٹوانے، سب بڑے زمیندار اسمبلیوں میں پہنچ گئے اور ایلیکٹیبلز بن گئے اور صنعتکاروں کو تباہ کرکے لوگوں کو ان وڈیروں کا، اور ملک کو آئی ایم ایف کا غلام  بنا دیا گیا۔

پرائی جنگ میں کودنا

پرائی جنگ میں کودنا

بچپن سے سنا ہوا اپنے سیانے اور تجربہ کار آباؤ اجداد کا قول دہراتا ہوں

جس گھر دانے اس کے کملے بھی سیانے


تو بھائی جو ہماری معاشی حالت ہے، اس میں رہتے ہوئے ہماری کوئی آواز نہیں ہے اور نہ ہماری کوئی اوقات ہے.


دوسری بات یہ کہ ہماری عوام کا سرے سے کوئی نظریہ ہی نہیں ہے. نظریاتی عوام وہ ہوتی ہے جس کے چھوٹی چھوٹی چیزوں سے پاؤں نہیں ڈگمگاتے اور وقتی تکالیف کی بنیادی وجوہات کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں. جبکہ ہمارا حال یہ ہے کہ ایک حکومت کے دور میں مہنگائی ہو تو پہلے والی کو اچھا ماننے لگتے ہیں جس کی مخالفت اس کے دور میں اسی بنیاد پہ کی تھی کہ مہنگائی ہوئی تھی۔


یہ رویہ اس وجہ سے انتہائی خطرناک ہوتا ہے کہ ۔ ۔ ۔


پہلے ہم ایٹمی قوت بننا چاہتے تھے، جب دھماکے کر لیے اور نتیجے میں معاشی پابندیاں لگی تو وہی لوگ کہتے پائے گیے کہ کیا ضرورت تھی یہ پٹاخے چلانے کی۔


بالکل اسی ذہنی سطح کے لوگ آج اچھل اچھل کر بڑھکیں مارتے نظر آتے ہیں کہ ہم اپنی فوج کو غزہ اور فلسطین کی مدد کے لیے کیوں نہیں بھیج رہے۔

لیکن اگر ہم نے یہ کام کرلیا تو ساری غیر مسلم دنیا نے ہم پہ حملہ آور ہونا ہے اور پھر یہی سب لوگ کہتے نظر آئیں گے کہ کیا ضرورت تھی پرائی جنگ میں کودنے کی۔ 


دیکھا نہیں افغان جنگ میں کودنے کا نتیجہ؟ سب اسی بنیاد پہ جنرل ضیا کو گالیاں دیتے ہیں کہ کیا ضرورت تھی پرائی جنگ میں کودنے کی۔ 


تو بھائی، اوپر لکھے  گئے محاورے کی تائید میں علامہ اقبال کے شعر پہ بات ختم کرتا ہوں، اسے سمجھیں اور اپنے مقام (اوقات) کو پہچانیں۔


ہو صداقت کےلیے جس دل میں مرنے کی تڑپ

پہلے  اپنے  پیکر خاکی  میں  جاں پیدا  کرے

مہنگائی

 مہنگائی

اشیاء خورد و نوش کی قیمتیں کیسے بڑھتی ہیں؟

کسان نے فصل اگائی، نگہداشت کی، کھاد ڈالی، راتوں کو جاگ کے رکھوالی کی، فصل تیار ہوئی جو منڈی جانے کو تیار ہے۔

اب آڑھتی درمیان میں کود پڑا۔ اس نے اونے پونے دام پہ فصل خریدی، کسان کو بمشکل ہی کوئی منافع ہوا۔ اکثر اس کی فصل نقصان میں ہی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ فصل ابھی وہیں کھیت میں پڑی ہے۔

کسان سے ڈیل کرنے والے آڑھتی نے منڈی پہنچانے والے آڑھتی کے ساتھ فصل کا سودا کیا۔ مال منڈی پہنچانے والے آڑھتی نے منڈی والے آڑھتی کے ساتھ فصل کا سودا کیا۔ تینوں نے ٹھیک ٹھاک مال بنا لیا۔ تھوک والا آڑھتی وہ مال تھوک فروش (ہول سیلر) کو بیچے گا، جس سے وہ مال پرچون فروش خریدے گا اور وہاں سے عوام خریدے گی۔ تھوک اور پرچون فروش نے بھی منافع کی صورت میں ٹھیک ٹھاک مال بنا لیا۔ عوام نے چونکہ اس فصل کو، یعنی گندم، دال، چنا وغیرہ کو خود استعمال کرنا ہے لہزا وہاں تو کسی منافع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اب غور کیجیے کہ کسان کو تو پورے سیزن کی محنت کے بعد صرف واجبی سی آمدنی ہوئی لیکن اس کے بعد تین آڑھتیوں اور دو دکانداروں نے اپنا پورا منافع وصول کیا اور ٹھیک ٹھاک مال بنا لیا۔ اب کسان نے جس قیمت پہ مال بیچا، عوام کو مال اس سے شاید پچیس گنا یا اس سے بھی زیادہ قیمت پہ ملا۔

حل کیا ہے؟

کھیت سے منڈی تک سڑکوں کا جال بنا دیا جائے اور کسان کو آسان اقساط پہ ٹریکٹر ٹرالی دے دی جائے تاکہ وہ اپنی پیداوار خود منڈی پہنچائے جس کے نتیجے میں عوام کو وہ مال سستا دستیاب ہوسکے۔

لیکن جس نے سڑکیں بنانے کی کوشش کی، اس کے ساتھ ہم نے کیا کیا؟ اور ہم نے ایسا کیوں کیا؟

ہمارے دماغوں میں میڈیا کے ذریعے جھوٹ بول بول کر زہر بھرا گیا، اور ہم نے بغیر سوچے سمجھے اس جھوٹ کو سچ مانا۔

مجرم تو ہم بھی ٹھرے نا، آخر دماغ تو ہمیں بھی دیا تھا اللہ تعالیٰ نے، لیکن استعمال تو ہم نے خود کرنا تھا۔

اللہ تعالٰی ہمیں معاملات کو درست انداز میں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

رکاوٹیں

 رکاوٹیں

اگر ملک میں بےروزگاری کا خاتمہ ہوگیا تو کون جائے گا وڈے گھر کے ریکروٹمنٹ سینٹر میں بھرتی ہونے کے لیے؟ صرف شہادت کے جزبے سے تو شاید ایک فیصد عوام بھی نہ جائے۔

اگر شہر صاف ستھرے ہوگئے اور سہولیات میسر ہوگئیں تو مہنگا ڈی ایچ اے اور بحریہ کون خریدے گا؟

اگر پولیس اور دیگر سول ادارے ٹھیک ہوگئے تو آفات کی صورت میں انہیں کون شہروں میں بلائے گا، جس کا وہ بجٹ کے علاؤہ الگ سے معاوضہ وصول کرتے ہیں۔

لیکن ہم نے بھی قسم کھا رکھی ہے کہ سمجھنا نہیں ہے۔

پیلی ٹیکسی سکیم نے بےروزگاری پہ تگڑی ضرب لگائی تھی لیکن لانے والے کا انجام کیا ہوا؟

سیپیک بےروزگاری کا بڑی حد تک خاتمہ کرسکتا تھا لیکن لانے والے کے خلاف کیا کچھ نہیں ہوا؟

اور جنہوں نے اس کے خلاف یہ سب کیا، بےروزگاری اور غربت سے تنگ یہی عوام ڈٹ کے ان کے اور ان کے لائے ہوئے کے ساتھ کھڑی رہی اور اب تک کھڑی ہے۔

پاکستان کی مزہبی جماعتیں

 پاکستان کی مزہبی جماعتیں

ہمارے ملک کی مزہبی جماعتیں (بظاہر) ساری کی ساری اسٹیبلشمنٹ کی پالتو ہیں. نہ صرف مزہبی جماعتیں بلکہ بڑی بڑی گدیاں بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔ ان سب نے نام تو مزہبی جماعتوں والے رکھے ہوتے ہیں لیکن دراصل یہ اقتدار کے بھوکے گدھ ہیں۔ ان کا مزہب اور سیاست کو ساتھ ساتھ چلانے کا مقصد یہی ہے کہ دونوں طرف کے فوائد سے مستفید ہوتے رہیں جبکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ

خدا ہی ملا نہ وصال صنم

ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے

 

چونکہ ان کے پاس نفری بہت زیادہ ہوتی ہے، لہزا اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایسی مزہبی جماعتیں بہت قیمتی ہوتی ہیں کیونکہ یہ مزہب اور مسلک کے نام پہ بڑی سیاسی پارٹیوں کے ووٹ توڑنے کے کام آتی ہیں۔ 2018 کی ہی مثال لے لیں۔ تمام عالمی اداروں کے سروے کیا پیشگوئیاں کر رہے تھے لیکن چند ایسی چالیں چل کر ایسا پانسہ پلٹا گیا کہ ملک کا ہی بیڑہ غرق کردیا گیا۔

 

پہلا واقعہ دیکھ لیں:

ممتاز قادری کو سزا کس نے سنائی، جج نے

پھانسی کے ریڈ وارنٹ پہ دستخط کس نے کیے، اسی جج نے جس نے اسے سزا سنائی تھی

اگر کوئی اس کی سزا معاف کرسکتا تھا تو کون، صدر پاکستان

وزیراعظم کا اس تمام عدالتی عمل میں کتنا کردار ہوتا ہے، صفر

 

لیکن آپ اس پھانسی کی ٹائمنگ دیکھیں کہ نوازشریف کا سارا بریلوی ووٹ یہ جھوٹا پراپوگینڈا کرکے توڑا گیا کہ یہ عدالتی فیصلے پہ اثرانداز کیوں نہیں ہوا۔ اوئے عقل کے اندھے لوگو، کیا ملک کا وزیراعظم ایک فیصد بھی عدالتی سسٹم پہ اثرانداز ہونے کا اختیار رکھتا ہے؟

 

دوسرا واقعہ دیکھیں۔ نوازشریف کی حکومت کا وزیر قانون تھا زاہد حامد۔ کسی نجی محفل میں اس نے کہ دیا کہ ہم ایسا قانون لانے کی کوشش کررہے ہیں جس کے تحت عدلیہ اور مسلح افواج کے فنڈز کا بھی آڈٹ ہوا کرے گا یہ بات باہر نکلنے کی دیر تھی کہ خادم رضوی صاحب فیض آباد جا پہنچے اور جو گالی گلوچ کا بازار گرم ہوا کہ اللہ کی پناہ نام اسے دیا گیا تھا توہین رسالت کے خلاف جہاد کا جس کے نام پہ یہ تمام ہلڑ بازی مچائی گئی۔ ایک ماہ تک یہ فحش گوئی اور ہلڑبازی چلتی رہی اور جیسے ہی زاہد حامد استعفیٰ دے کر چلے گئے، دھرنا ختم ہوگیا۔ آج بھی کسی ٹی ایل پی کے ورکر سے یا اس مسلک کے کسی بھی بندے سے پوچھ لیں، جو اس وقت نواز حکومت کو منہ بھر بھر کے گالیاں دیا کرتے تھے کہ جس ترمیم سے توہین رسالت ہو رہی تھی، اس کے الفاظ کیا تھے۔ مجھے سو فیصد یقین ہے کہ ایک بھی شخص شاید ہی بتا سکے گا۔ حافظ حمد اللہ مسلسل کہتے رہے کہ اس ترمیم سے کوئی توہین رسالت کا پہلو نہیں نکلتا اور اس ترمیم کی تجویز ن لیگ نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے آئی تھی لیکن جاہل عوام کو کون سمجھائے جو مزہب اور مسلک کے نام پہ اندھی ہوجاتی ہے۔ اپنی عقل استعمال کرنے کی  تو انہیں تربیت ہی نہیں دی گئی۔ فیض آباد دھرنے کے پیچھے کون تھا یہ جاننے کے لیے وہ ویڈیو کافی ہے جس میں دھرنے کے شرکا کو باقاعدہ وردی میں رہتے ہوئے ایک ایک ہزار روپیہ بانٹا جا رہا ہے۔

 

اور پھر جب خادم رضوی صاحب کی زبان سے نکلا کہ "میں دساں کدے آکھنے تے میں فیض آباد گیا سی"، تو یہ دھمکی وہ پنجابی گانا ثابت ہوئی

 

چھپ جاؤ تاریو پادیو ہنیر نی

آساں ایس رات دی نہیں ویکھنی سویر نی

 

گولڑہ شریف کے گدی نشینوں کا کیا کام تھا 2018 کے انتخابات سے پہلے ایک ہفتہ مزاکرات کرنا؟

 

پیر سیالوی نے مرنے سے پہلے اعترافی بیان دیا تھا کہ مجھ پہ دباؤ تھا لہزا میں نے عمران خان کا ساتھ دیا۔

دباؤ کس کا تھا؟؟؟

 

پاکستان کی عوام کا تو خیر نصیب ہی برا ہے لیکن ہماری اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی سوجھ بوجھ اور مردم شناسی بھی ہمیشہ انتہائی ناقص ہی ثابت ہوئی ہے۔ کراچی سیاسی سرگرمیوں کا ہمیشہ سے مرکز رہا ہے لہزا پہلے انہوں نے سیاسی پارٹیوں کا ووٹ توڑنے کے لیے ایم کیو ایم بنائی جو بعد میں عوام کے لیے مستقل قومی مصیبت ثابت ہوئی لیکن خود بنانے والوں کے لیے بھی وہ کسی عفریت سے کم نہ رہی۔ اب یہی کچھ عمران خان کے معاملے میں ہوا۔ یہ بھی ان کے لیے اب ایک بےقابو عفریت بن چکا ہے جس نے طاقت کے حصول کے لیے کثیر جہتی تعلقات قائم کررکھے ہیں، مثلا ایک جانب طالبان ہیں تو دوسری جانب جماعت اسلامی۔ یہ تو ایک مسلک کی سپورٹ ہوگئی۔ ٹی ایل پی، طاہر القادری اور مختلف گدیوں کی صورت میں دوسرے مسلک کی جانب سے بھی مدد حاصل ہوگئی۔ اپنے عوامی جلسوں میں جس امریکہ کو گالیاں دیتا پھرتا  ہے اور اپنے ٹایگرز کو ایبسولیوٹلی ناٹ کا جھانسہ دیتا رہا، اسی امریکہ کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی خاطر بھاری معاوضے پہ لابنگ فرمز ہائر کر رکھی ہیں. فارن فنڈنگ کیس کی تفصیلات اتنی ہوشربا ہیں کہ جس دن سامنے آگئی، وہ دن پاکستان کے لیے ہیرو شیما سے کم نہیں ہونے لگا۔

 

ہمیں ضرورت اس امر کی ہے کہ خود اپنے ذہن میں دو اور دو چار کریں اور معاملات کو پرکھیں پراپوگینڈا کا شکار ہونا کچے ذہن کی علامت ہے اور ہماری کم از کم اسی فیصد آبادی اسی مرض کا شکار ہے۔ خدارا، خود سے غیرجانبدارانہ تجزیہ کرکے درست نتائج اخذ کرنے کی عادت ڈالیں۔

Monday, October 11, 2021

Maryam & Safdar wedding

Real Name Mehrunnisa Safdar
Nickname Mehrunnisa
Profession Self- Employed
Famous For Grand-Daughter of Former Prime Minister of Pakistan Nawaz Sharif
Marriage Date 2015
Caste Muslim
Husband Name Raheel Munir
Husband Caste Muslim
Marital Status Married
Son N/A
Physical Status 
Age 28
Height
In centimeters- 167 cm
In meters- 1.67 m
In Feet Inches-5’6”
Weight
In Kilograms- 55 kg
In Pounds- 121 lbs
Eye Colour Black
Hair Colour Light Brown
Shoe Size 4 US
Personal Information
Date of Birth 23 November 1993
Birth Place Lahore, Pakistan
Zodiac sign Leo
Nationality Pakistani
School Name Private School
College Name N/A
Qualifications –
Family Profile
Father Name Muhammad Safdar Awan
Mother Name Maryam Nawaz
Siblings Sister: Mahnoor Safdar
Brother:- Muhammad Junaid Safdar

Career 
Source Of Income N/A
Appeared In N/A
Net Worth, Salary N/A
Mehrunnisa Safdar

https://arealnews.com/mehrunnisa-safdar/?amp

Sunday, September 12, 2021

قائداعظم ‏کی ‏جائداد

"قائد اعظم اپنی وصیت کی رو سے کھرب پتی تھے"

قائداعظم کے اثاثوں کی مالیت کا جائزہ اگر آج کے دور سے کیا جائے تو ان کی حیثیت دو ارب ڈالر سے زائد بنتی ہے۔

تحریر: سجاد اظہر

نوٹ: (ان لوگوں کے لیے جنہیں آج کل کے سیاست دانوں کے چند لاکھ ڈالرز کے فلیٹس سے کرپشن کی خوشبو آتی ہے۔)

قائداعظم جب اپنی علالت کے دن کوئٹہ میں گزار رہے تھے تو یکم ستمبر 1948 کو انہیں برین ہیمبرج ہوا۔ ان کے ڈاکٹر الہٰی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو کہا کہ انہیں جلد کراچی لے جانا چاہیے کوئٹہ جیسے شہر کی بلندی ان کے لیے موزوں نہیں ہے۔

ان کے خون میں انفیکشن بھی ظاہر ہوا تھا اور انہیں سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔ ڈاکٹرز نے بتایا کہ اب امید کی کوئی کرن باقی نہیں ہے اور کوئی معجزہ ہی انہیں بچا سکتا ہے۔ جب ڈاکٹرز نے انہیں کراچی لے جانے کے لیے اجازت مانگی تو انہو ں نے کہا کہ ’ہاں مجھے کراچی لے چلو میں وہیں پیدا ہوا تھا اور وہیں دفن ہونا چاہتا ہوں۔‘

اس کے ساتھ ہی ان کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ محترمہ فاطمہ جناح اپنی کتاب ’میرا بھائی‘ میں لکھتی ہیں کہ میں ساتھ کھڑی ہو گئی، نیم بے ہوشی میں ان کے ٹوٹتے الفاظ سن سکتی تھی۔ ’کشمیر۔ ۔ ۔ انہیں۔ ۔ ۔ فیصلہ کرنے کا۔ ۔ ۔ حق دو۔ ۔ ۔ آئین۔ ۔ ۔ میں اسے۔ ۔ جلد ہی۔ ۔ مکمل کروں گا۔ ۔ مہاجرین۔ ۔ ۔ ان کی۔ ۔ ہر ممکن۔ ۔ ۔ امداد۔ ۔ دیجیے۔ ۔ ۔ پاکستان۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘

یہ قائد کا آخری پیغام تھا، اس کے بعد کراچی کے ہسپتال میں 11 ستمبر کو ان کی زبان سے کلمہ طیبہ نکلا اور ان کا سر ایک جانب ڈھلک گیا۔ ہسپتال پہنچنے سے پہلے جب ان کی ایمبولینس راستے میں کھڑی ہو گئی تو فاطمہ جناح لکھتی ہیں کہ دوسری ایمبولینس آنے میں سڑک پر ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑا انہوں نے میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو میں نے کہا کہ ’ایمبولینس خراب ہو گئی ہے۔‘

ایمبولینس کیوں خراب ہوئی؟ قائداعظم کے علاج معالجے میں کیا کیا غلطیاں ہوئیں؟ انہیں بیرون ملک کیوں نہیں لے جایا گیا؟ لیاقت علی خان سے ملاقات کے بعد وہ اتنے مایوس کیوں ہو گئے تھے کہ انہوں نے اپنی بہن سے یہ کیوں کہا تھا کہ اب وہ مزید زندہ نہیں رہنا چاہتے؟ اس موضوع پر گذشتہ سالوں میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔

قائداعظم اگر بانیِ پاکستان نہ ہوتے تو بھی مالی لحاظ سے وہ اتنے مستحکم تھے کہ اپنا علاج دنیا میں کہیں بھی کرا سکتے تھے۔ ان کے اثاثوں کی مالیت کا جائزہ اگر آج کے دور سے کیا جائے تو ان کی حیثیت دو ارب ڈالر سے زائد ہو سکتی ہے جو روپوں میں ساڑھے تین کھرب بنتی۔

معروف محقق اور نامور بیوروکریٹ ڈاکٹر سعد خان نے 2020 میں چھپنے والی اپنی کتاب ’محمد علی جناح، دولت، جائیداد، وصیت‘ میں قائداعظم کے اثاثوں کے متعلق بہت تفصیل سے لکھا ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ قائد اعظم نے اپنی وصیت 30 مئی 1939 کو لکھی تھی جو اسماعیلی مروجہ قانون کے تحت تھی۔ یہ قانون انہیں اپنی مرضی سے حصے متعین کرنے کی اجازت دیتا تھا۔

وصیت کے دو حصے تھے پہلا حصہ خاندان کے افراد سے متعلق ہے جبکہ دوسرا پاکستان اور بھارت کے کئی اداروں کے نام اپنی وراثت چھوڑتا ہے۔ اس کے بعد قائداعظم نو سال تک زندہ رہے۔ پاکستان بھی بن گیا مگر انہوں نے اپنے رشتہ داروں اور تعلیمی اداروں کے حصوں میں کوئی کمی بیشی نہیں کی۔

ان میں اسلامیہ کالج پشاور، سندھ مدرستہ الا سلام، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، انجمن ِاسلام سکول بمبئی، عریک کالج نئی دہلی اور یونیورسٹی آف بمبئی شامل تھے۔

محمد علی جناح سے قائد اعظم بننے کا سفر تو تاریخ میں بہت تفصیل سے بیان ہوا ہے مگر ایک عام انسان سے کھرب پتی بننے کی داستان سے کوئی واقف نہیں ہے۔

ڈاکٹر سعد خان اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ 1900 میں بطور پریزیڈنسی مجسٹریٹ ان کی تنخواہ 1500 روپے ماہانہ تھی مگر انہوں نے چھ ماہ کے اندر یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا تھا کہ اتنے پیسے وہ روزانہ کما لیا کریں گے۔

پھر وہ دن آ ہی گیا جب ان کا شمار ہندوستان کے مہنگے ترین وکلا میں کیا جاتا تھا۔ انہوں نے وکالت سے جو پیسے کمائے ان سے سرمایہ کاری کی۔ 1926 میں بمبئی ڈائنگ، ٹاٹا سٹیل اور ٹرام وے کمپنی میں ان کے حصص کی مالیت 14 لاکھ روپے تھی جو آج کی کرنسی کے حساب سے 68 کروڑ روپے بنتی ہے۔
اس عرصے میں قائد اعظم کا شمار ہندوستان کے چوٹی کے 10 سرمایہ کاروں میں ہونے لگا تھا۔ اسی سال جب وہ اپنی بیگم رتی جناح کے ساتھ چھٹیاں منانے سری نگر کی ڈل جھیل گئے تو وہاں بیگم جناح نے ایک ہفتہ گزارنے کے لیے تیرتی کشتی کی تزئین و آرائش پر 50 ہزار روپے خرچ کر دیے۔ اس زمانے میں اس رقم سے کراچی یا لاہور کے پوش ایریا میں چار کنال کا بنگلہ مل جاتا تھا۔

قائداعظم اس زمانے میں کراچی، بمبئی، دہلی اور لاہور میں پرائم لوکیشنز پر انتہائی قیمتی جائیدادوں کے مالک بھی تھے۔ انہوں نے سب سے پہلے جو جائیداد خریدی وہ بمبئی میں لٹل گبز روڈ پر واقع ایک بنگلہ تھا اس کے ساتھ چار منزلہ عمارت مے فیئر فلیٹ نامی تھی جس میں آٹھ فلیٹس تھے۔ یہ عمارت انہوں نے منو چہر رستم جی سے 33 لاکھ آٹھ ہزار میں خرید کر کرائے پر چڑھا دی جسے انہوں نے 1943 میں 10 لاکھ میں فروخت کر کے کراچی اور لاہور میں جائیدادیں خریدیں۔

 بمبئی میں ساحل سمندر پر 15 ہزار 476 مربع گز پر ایک شاندار بنگلہ جو ساؤتھ کورٹ کہلاتا تھا انہوں نے 1916 میں سر آدم جی سے سوا لاکھ روپے میں خریدا تھا۔ جسے انہوں نے 1918 میں اپنی شادی کے موقع پر اپنی اہلیہ رتی جناح کو تحفہ میں دے دیا تھا۔

1936 میں انہوں نے پرانی عمارت کو گرا کر ایک اطالوی کمپنی کے ذریعے عالیشان بنگلہ بنوایا جس پر اس زمانے میں سوا دو لاکھ روپے لاگت آئی تھی اور یہ سوا تین سال میں مکمل ہوا تھا۔ اس گھر میں 22 ملازمین ان کی خدمات پر معمور تھے۔ مئی 1947 میں عراقی قونصل خانہ نے اسے 18 لاکھ میں خریدنے کی پیشکش کی تاہم قائداعظم اس کے 25 لاکھ مانگ رہے تھے۔

یہ جائیداد جو جناح ہاؤس کہلاتی ہے اُس وقت سے مقفل ہے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک سفارتی تنازعے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ تین سال پہلے اس کی قیمت کا تخمینہ 40 کروڑ ڈالرز لگایا گیا تھا۔

 جناح منزل دہلی قائداعظم نے 1938 میں ایک لاکھ میں خریدی تھی جہاں ان کے 19 ملازمین بھی رہا کرتے تھے اس زمانے میں اس گھر کا ماہانہ خرچہ 10 ہزار روپے تھا۔ 1947 میں قائداعظم نے جناح ہاؤس بھارت کے چوٹی کے صنعتکار اور ٹائمز آف انڈیا کے مالک کرشنا ڈالمیا کو تین لاکھ میں فروخت کر دیا تھا۔ اب یہ مکان ہالینڈ کے سفیر کی رہائش گاہ ہے جس کی موجودہ مالیت 12 کروڑ ڈالر ہے۔

اڑھائی ایکڑ پر محیط جناح منزل کراچی انہوں نے 1943 میں ایک لاکھ 80 ہزار روپے میں خریدی تھی۔ جو اب عجائب گھر میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں قائد اعظم کے ذاتی استعمال کی اشیا رکھی ہوئی ہیں۔ جب قائداعظم نے کراچی کا جناح ہاؤس خریدا اسی دوران انہوں نے جناح ہاؤس لاہور بھی خریدا۔ مال روڈ پر پونے پانچ ایکڑ پر محیط 53 نمبر بنگلہ ایک لاکھ 62 ہزار 500 روپے میں خریدا اور یہ سودا قائداعظم کی جانب سے جسٹس فائز عیسی کے والد قاضی محمد عیسی نے کیا تھا۔ اب یہ کور کمانڈر ہاؤس ہے۔

لاہور میں ہی قائداعظم نے 1945 میں نواب افتخار ممدوٹ سے اچھرہ میں 324 کنال اراضی خریدی تھی۔ اس راضی پر آج کل گلبرگ ٹو اور تھری ہے۔

اس کے علاوہ ان کے پاس لبرٹی مارکیٹ میں ڈیڑھ کنال کا کمرشل پلاٹ، انڈسٹریل ایریا میں 10 کنال کا پلاٹ تھا۔ کراچی میں بھی قائداعظم نے ملیر میں 12 ایکٹر کا باغ نواب آف بہاولپور سے خریدا تھا۔ قائداعظم نے کیماڑی میں ساحل سمندر پر 20 ایکڑ خرید کر اس میں ہٹ بنوایا۔ یہ جگہ محترمہ فاطمہ جناح کی وفات کے بعد ایک کروڑ 11 لاکھ میں فروخت کر کے رقم قائداعظم ٹرسٹ میں جمع کرا دی گئی۔

آئی آئی چندریگر روڈ پر تقریباً چار کنال پر ایک کمرشل پلازہ بھی انہوں نے خریدا تھا جسے بعد میں محترمہ فاطمہ جناح نے دادا بھائی کو فروخت کر دیا تھا۔ اپنی وفات سے 15 دن پہلے بھی انہوں نے میکلوڈ روڈ موجودہ آئی آئی چندریگر روڈ پر ایک کمرشل بلڈنگ 10 لاکھ میں خریدی تھی۔ یہ بلڈنگ ایک سال بعد محترمہ فاطمہ جناح نے ایک بینک کو 16 لاکھ میں فروخت کر دی جس میں آج سٹینڈرڈ چارٹرڈ بنک قائم ہے۔ فریئر ٹاؤن کراچی میں 10 کنال کا ایک بنگلہ بھی قائد کی ممکنہ جائیدادوں میں سے ہے جہاں آج کل پارک ٹاور نامی پلازہ ہے۔ اسی فہرست میں سول لائن نمبر ایک میں 9 کنال کا بنگلہ بھی آتا ہے۔

قائداعظم نے 36 برس کی عمر میں ہی مختلف کمپنیز کے حصص خریدنے شروع کر دیے تھے۔ انہوں نے سمپلیکس مل میں ایک لاکھ 25 ہزار کی سرمایہ کاری کی۔ آپ ا س مل کے تیسرے بڑے شیئر ہولڈر تھے۔

1927 تک آپ 11 بڑی کمپنیز کے حصص کے مالک بن چکے تھے۔ جہاں سے آپ کو سالانہ اچھ خاصی رقم بطور منافع مل رہی تھی۔ 1943 سے 1945 کے درمیان آپ نے مختلف صنعتوں میں 8 لاکھ سے زائد کی سرمایہ کاری کی۔

بمبئی میں واقع قائداعظم کے عظیم الشان بنگلہ ساؤتھ کورٹ کو جب بھارتی حکومت پاکستان کے حوالے کرنے پر تیار نہ ہوئی تو حکومت نے محترمہ فاطمہ جناح کو اس کے بدلے میں متروکہ جائیداد مہٹہ پیلس الاٹ کر دیا۔ 1999 سے اسے عجائب گھر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

قائداعظم کے 12 بینک اکاؤنٹ بھی تھے جن میں چار برطانیہ میں تھے۔ تقسیم کے بعد انہوں نے اپنے تمام کھاتے حبیب بینک کراچی میں منتقل کردیے جن کی مالیت اس وقت 62 لاکھ تھی۔

2 فروری 1948 کو آپ نے بینک سے 61 لاکھ قرضہ حاصل کیا جس میں سے 35 لاکھ 35 ہزار مسلم لیگ کے حوالے کر دیے۔

4 اگست کو انہوں نے خرابی صحت کی بنا پر بینک سے قرضے کی منسوخی استدعا کی اور نہ صرف پورے 61 لاکھ واپس کر دیے بلکہ بینک نے ایک لاکھ سات ہزار 658 روپے 12 آنے کا سود بھی وصول کیا۔

قائداعظم کی بطور گورنر جنرل ماہانہ تنخواہ 10 ہزار 476 روپے 10 آنہ مقرر ہوئی تھی جس میں سے چھ ہزار 112 روپے ٹیکس کٹوتی کے بعد آپ کو 4304 روپے 10 آنہ ملتے تھے