محض چند سال قبل مشرف کے دورِ آمریت کے میں پاکستانی عوام آمریت کی شدید مخالف ہوچکی تھی کیونکہ اس دور میں پاکستان کا تشخص بری طرح تباہ ہوچکا تھا۔ مگر عمران خان پھر سے محض نواز شریف کی دشمنی میں جھوٹ کا سہارا لے کر لوگوں کا برین واش کرکے عوام کو جمہوریت سے متنفر کرکے آمریت کا حامی بنانے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔ اس نے اس سلسلے میں آج تک جتنے بھی الزامات لگائے وہ سب کے سب جھوٹے ثابت ہوئے اور ان میں سے ایک بھی ثابت نہ کیا جا سکا۔
آج جتنے بھی لوگ پھر سے مارشل لاء کی خواہش کرتے ہیں، اگر اپنے گریبان میں جھانکیں تو کیا وہ سب کے سب مشرف دور میں آمریت کے شدید مخالف اور اس سے نجات کے خواہشمند نہیں تھے؟
ایک ایسا شخص، جس میں تمام شرعی عیب موجود ہیں، یعنی جھوٹ، شراب نوشی، زنا، جوا اور چوری (زکواۃ و چندے کی)، کیا ایک ایسے شخص کے جھانسے میں آکر عوام کو ایک بار پھر آمریت کی خواہش کرنی چاہیے؟ کیا مسلمان قوم کی حیثیت میں ہمیں مندرجہ بالا شرعی عیوب کے حامل شخص کے پیچھے چلنا چاہیے؟
ہرگز نہیں۔ عوام 126 دن کے دھرنے کو بالکل نہیں بھولیں گے جس کی بنیاد پینتیس پنکچر کے جھوٹ پہ رکھی گئی تھی۔ اس الزام کے لیے عمران خان خود "محض ایک سیاسی بیان" کے الفاظ استعمال کرچکا ہے۔ اس الزام کے جھوٹا ہونے کی تصدیق عمران کا گُرگا افضل خان بھی کرچکا ہے اور باقاعدہ عدالت میں تحریری طور پہ معافی مانگ چکا ہے۔
عمران کا دوسرا گُرگا وہ ہے جس کے بارے میں عمران نے یہ کہا تھا کہ اسے تو میں اپنا چپڑاسی بھی رکھنا پسند نہ کروں، مگر یوٹرن کے ماہر عمران نے اسے اپنے ساتھ صرف اس لیے رکھا ہوا ہے کہ وہ بھی عمران کی طرح آمریت کا حامی ہے۔ یہ شیخ رشید ہر تقریر میں جلادو، توڑ دو، پھوڑ دو، تباہ و برباد کردو جیسے تخریبی الفاظ کا برملا استعمال کرتا رہتا ہے۔
اب عوام ہرگز ان جھوٹے اور غدّارِوطن لوگوں کے جھانسے میں نہیں آئیں گے، ہوش کے ناخن لیں گے اور اپنے وطن کو عظیم سے عظیم تر بنائیں گے۔
No comments:
Post a Comment