لوڈ شیڈنگ اور اس کی وجوہات:
دریاؤں کی موجودگی کے نتیجے میں پاکستان کا انحصار ہمیشہ پن بجلی پہ رہا یے۔ دریا سارے پنجاب میں ہیں۔ ان دریاؤں سے نہ صرف پورے ملک کے لیے بجلی پیدا ہوتی تھی بلکہ دریاؤں کے پورے راستوں پہ کھیتی باڑی بھی ہوتی تھی۔ دریاؤں میں پانی کشمیر کے گلیشئیر کے پگھلنے سے آتا تھا۔
کشمیر کے مسئلے کا سب سے بڑا اور قابل عمل حل محترم جنرل ضیاءالحق نے دیا اور اس پہ کام کیا اور وہ تھا خالصتان کا قیام۔ اس منصوبے کی کامیابی کے پاکستان کو اندرونی اور بیرونی، کئی فوائد تھے۔
1۔ بھارت ٹوٹ جاتا اور ہمارا دشمن طاقت میں کم ہوجاتا۔
2۔ صوبہ پنجاب سے بھارت کا سرحدی رابطہ ختم ہوجاتا کیوں کی وہ سرحد بھارت کی نہیں بلکہ خالصتان کی بن جاتی۔
3۔ کشمیر اور بھارت کے درمیان خالصتان آجاتا لہزا بھارت کا کشمیر پہ تسلط ختم ہوجاتا اور وہ آزاد ہوجاتا۔
4۔ کشمیر کے آزاد ہونے کے نتیجے میں گلیشئیر کا سارا پانی پاکستان کے دریاؤں میں آتا جو سارا سال بجلی کی پیداوار اور کھیتی باڑی کے کام آتا رہتا اور پاکستان میں کبھی لوڈشیڈنگ نہ ہوتی۔
یہ منصوبہ پاکستان کی بقا کیلیے اتنا قیمتی تھا کہ امریکہ نے اس کے خاتمہ کی خاطر جنرل ضیاءالحق کا خاتمہ ضروری سمجھا اور اپنے وزیر کی قربانی دے کر اپنا مقصد حاصل کرلیا۔
اس کے بعد محترمہ کو اقتدار میں لایا گیا اور اس کے ذریعے خالصتان کے قیام سے متعلق انتہائی اہم راز پاکستان سے حاصل کیے گئے۔ جس کا برملا اقرار محترمہ نے بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔
وہ راجیو گاندھی، جو کبھی کسی سارک کانفرنس میں بھی پاکستان نہیں آیا تھا، ان رازوں کو وصول کرنے بہ نفس نفیس پاکستان آیا اور ڈاکومنٹس کا بریف کیس وصول کیا جو کہ بیرسٹر اعتزاز احسن کے ہاتھوں حوالے کیا گیا۔
اس عظیم غداری کے بعد تمام سکھ لیڈروں کا قتل عام کیا گیا اور گردوارہ دربار صاحب کو تہس نہس کرکے خالصتان تحریک کا خاتمہ کردیا گیا۔ اس کے بعد پاکستان کو آنے والے دریاؤں کا پانی روک دیا گیا جس کے نتیجے میں پاکستان کے دریا، صحراؤں میں تبدیل ہوگئے۔ دریاؤں میں پانی نہ ہونے کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی اور پاکستان اندھیروں میں ڈوبتا چلا گیا۔ بعد کی کسی حکومت نے بجلی کے متبادل منصوبے بنانے میں کوئی دلچسپی نہ لی اور 1998 سے لے کر 2013 تک ایک میگا واٹ بجلی بھی نہ بنی۔ اس کے مقابلے میں نواز شریف کے موجودہ دور میں 8000 میگاواٹ سے زائد بجلی بنی۔
اگر نواز شریف نے اپنے ادھورے ادوار کے دوران بجلی کی پیداوار کے لیے متبادل منصوبے لگانے کی کوشش بھی کی تو ہر بار اس کی حکومت کا وقت سے پہلے خاتمہ کردیا گیا اور لوڈشیڈنگ کو اس ملک اور قوم کا مقدر بنا دیا گیا۔
موجودہ صورتحال سب کے سامنے ہے کہ نواز شریف تو ہر قسم کے ترقیاتی کام اور بجلی کی پیداوار کے متبادل منصوبوں پہ کام کر رہا ہے مگر اس کے راستے میں بےپناہ رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں اور اسے بالکل بھی کام نہیں کرنے دیا جارہا۔ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود مسلم لیگ ن نے بجلی کی پیداوار پہ بےپناہ کام کیا۔ موجودہ دور میں لگاۓ گئے پاور پلانٹس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے ۔ ۔ ۔
بھکی پاور پلانٹ 1180میگاواٹ
بلوکی پاور پلانٹ 1230میگاواٹ
حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ 1223میگاواٹ
چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ 680میگاواٹ
نندی پور پاور پلانٹ 425میگاواٹ
ساہیوال کول پاور پلانٹ 1320میگاواٹ
پورٹ قاسم کول پاور پلانٹ 1320میگاواٹ
فوجی فاؤنڈیشن کول پاور پلانٹ 118میگاواٹ
قائد اعظم سولر پاور پلانٹ 300میگاواٹ
تربیلہ توسعی 4 پروجیکٹ 1410میگاواٹ
پڑنڈ ہائیڈرو پاور 150میگا واٹ
گولین گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ 106میگاواٹ
نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ 969میگا واٹ
دوبر خاور پراجیکٹ 103میگا واٹ
نیلٹر 5 ہائیڈرو پراجیکٹ 514میگا واٹ
ونڈ پاور پلانٹس 750میگا واٹ
خود کچھ نہ کرنے والوں کے جھوٹے پراپوگینڈے سے متاثر ہوکر نواز شریف پہ تنقید کرنے والے اور اس کو گالیاں دینے والے تو بہت ہیں مگر اس کے مسائل کو سمجھنے والا کوئی نہیں ہے۔
(پاکستانی شیر)
No comments:
Post a Comment