بہت عجیب بات ہے کہ دنیا میں کہیں بھی کبھی بھی کوئی مسئلہ ہو تو ملک میں چند طبقات فوری طور پہ حکومت پہ تنقید کرنے لگتے ہیں کہ حکومت بھنگ پی کے سو رہی ہے، حکومت کیا کر رہی ہے، حکومت کا بھی کوئی فرض ہے، وغیرہ وغیرہ۔ میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ کیا ایسے افراد کو سفارتی آداب کے بارے میں کچھ بھی معلومات نہیں ہیں؟ کیا ایسے افراد کو بین الاقوامی قوانین کے بارے میں ذرہ برابر بھی علم نہیں ہے؟
بین الاقوامی سفارتی آداب و قوانین تو ایک طرف، جس شاعر مشرق کو ہم بچپن سے پڑھتے چلے آرہے ہیں، کیا ان کی شاعری سے ہم نے کچھ بھی سیکھنے کی کوشش کی؟ اقبال کا بڑا مشہور شعر ہے کہ
ہو صداقت کے لئے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے
اس شعر کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو تحریک پاکستان کی مکمل تصویر سامنے آجاتی ہے۔ پہلے اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے بکھرے ہوئے مسلمانوں کو یکجا کیا، انہیں ایک طاقت بنایا۔ سرسید احمد خان نے ان میں علم کی اہمیت اجاگر کی۔ دیگر اکابرین نے انہیں دوقومی نظریہ کی اہمیت سے روشناس کروایا۔ قائد اعظم نے قیادت کا بیڑہ سمبھالا تو مسلمان ایک قوم کی صورت میں ابھر کر سامنے آئے۔ اس تمام کا جائزہ لیا جائے تو سامنے آتا ہے کہ جب ان تمام عوامل کے نتیجے میں مسلمان متحد قوم کی صورت میں ایک طاقت بنے، ان کی آواز نے اہمیت اختیار کرلی اور نتیجہ پاکستان کی تشکیل کی صورت میں سامنے آیا۔
اب ہم ترکی کی مثال لیتے ہیں۔ ہم یہ تو دیکھتے ہیں کہ ترکی دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے آواز اٹھاتا ہے اور طیب اردگان اس وجہ سے ہماری نظر میں ہیرو کا درجہ حاصل کرتا چلا جارہا ہے۔ لیکن طیب اردگان کو یہ جزبہ اور یہ طاقت کیسے حاصل ہوئی۔ ابھی چند ماہ پہلے کہ بات ہے جب ترکی میں بھی یہودی انقلاب نے سر اٹھانے کی کوشش کی تھی۔ طیب اردگان کی ایک آواز پہ اس کی قوم اٹھی اور انہوں نے انقلابیوں کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ یہی عوام کے اتحاد کی طاقت تھی جس نے آج طیب اددگان کو اس قابل کیا کہ وہ دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرسکے۔ ترک صدر کی اس قابلیت کو اگر علامہ اقبال کے اسی شعر کی روشنی میں دیکھیں تو واضع ہوجاتا ہے کہ پہلے عوام نے اپنے اتحاد سے طیب اردگان کے پیکر خاکی میں جاں پیدا کی جس کے نتیجے میں وہ صداقت کے لیے آواز اٹھانے جوگا ہوا۔
اب اپنے پاک وطن کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔ کوئی دو سال قبل طیب اردگان نے اپنی بیٹی کی شادی کی تقریب میں نواز شریف کو بھی دعوت دی۔ دعوت تو دیگر کئی ممالک کے سربراہان مملکت کو بھی دی گئی تھی اور وہ شریک بھی تھے مگر نواز شریف کو جب بیٹی کی شادی میں طیب اردگان نے نکاح کے گواہ کا درجہ دے کر غیر معمولی عزت بخشی تو مسلم دشمنوں کے ماتھے پہ تشویش کے سائے لہرانے لگے اور پھر سازشوں کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو نواز شریف کی انتہائی غیرمنصفانہ نااہلی پہ منتج ہوا۔
تاریخ گواہ ہے کہ نواز شریف کے علاوہ کوئی بھی شخص پاکستان میں حکمران ہو، نہ تو اسے ایسی عزت دی جاتی ہے جیسی طیب اردگان نے دی، نہ اس پہ ایسا اعتماد کیا جاتا ہے کہ غیرملکی سرمایہ دار پاکستان کا رخ کرے، نہ کوئی ملک پاکستان کے کسی منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہوتا ہے۔ پاکستان کی عوام یہ تمام چیزیں جاننے کے باوجود اس غلیظ اور مزموم پراپوگینڈے کا شکار ہوجاتی ہے جو ملک دشمنوں کی جانب سے ان کے ایجنٹ پاکستان میں پھیلاتے ہیں۔ طیب اردوگان اور نواز شریف کے قریبی تعلقات کو انتہائی تشویش کی نظر سے دیکھا گیا اور ان دونوں حکمرانوں کو منظرنامے سے ہٹانے کی سازشیں شروع کی گئیں۔ پہلا وار ترکی پہ کیا گیا جو عوام کے اتحاد کے نتیجے میں بری طرح ناکام ہوا۔ راقم کی نظر میں یہ انقلابیوں کی نہیں بلکہ ان کے سرپرستوں کی شکست فاش تھی جس کے بعد انہوں نے حکمت عملی کو تبدیل کیا اور پاکستان میں وہی سازش مختلف طریقے سے عمل میں لائی گئی۔ پاکستان کی عوام کو حکمرانوں کے خلاف کردیا گیا۔ حکمرانوں کے ہر فلاحی اور ترقیاتی کام کو منفی بنا کر پیش کیا گیا۔ جھوٹے پراپوگینڈے کے نتیجے میں ان لیڈروں کو فرشتہ بنا کر پیش کیا گیا جن کی کارگردگی حقیقتا صفر تھی مگر میڈیا پہ سوفیصد ظاہر کی گئی۔ لیکن ایک طاقت وہ بھی ہے جس نے اس لیڈر کو اپنے منہ سے بین الاقوامی میڈیا پہ اپنی ناکامی تسلیم کرنے پہ مجبور کردیا۔
بہرحال میڈیا کے اس منفی پراپوگینڈے نے پاکستان کی عوام کو کئی حصوں میں تقسیم کردیا۔ کچھ لوگ وہ ہیں جو کارگردگی کا تجزیہ اپنے ذہن سے کرتے ہیں اور حکمران جماعت کے ترقیاتی کاموں اور اس کی دنیا میں قدر و منزلت کو سراہتے ہیں اور اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کچھ وہ ہیں جو حکومت مخالفین اور ان کے کرپٹ حواریوں کے اقتدار میں آنے کے منتظر ہیں کہ انہیں بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا موقع مل جائے گا۔ عوام کا کچھ حصہ ان لوگوں پہ مشتمل ہے جنہیں برادری اور علاقے کی بنیاد پہ متعصب بنا دیا جاتا ہے اور پھر اس تعصب کو ہوا دے کر اچھے حکمرانوں سے ذہنی طور پہ دور رکھا جاتا ہے۔ ایک طبقہ وہ بھی ہے جو محض میڈیا تک محدود ہوتا ہے لہزا وہ میڈیا کے منفی پراپوگینڈا کا شکار ہوجاتا ہے اور حکومت کے مثبت کاموں کو بھی منفی انداز میں لیتا ہے۔
جس ملک کی عوام اتنے بہت سے حصوں میں تقسیم شدہ ہو کیا اس ملک کا حکمران طیب اردگان کی طرح کسی بھی دوسرے ملک کو للکار سکتا ہے؟ طیب اردگان نے پاکستان کے وزیراعظم میں کوئی تو خوبی دیکھی ہوگی جس کی وجہ سے اس کو اتنی عزت بخشی تھی۔ آج اگر نواز شریف بھی حکومت میں ہوتا تو وہ بھی طیب اردگان کی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملاتا۔ ایک اکیلا اور دو گیارہ کے مصداق دو عظیم مسلمان ممالک کی آواز کس قدر طاقتور ثابت ہوسکتی تھی یہ کوئی ذی شعور شخص ہی سمجھ سکتا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ 36 "مسلم" ممالک نے ایک مشترکہ فوج بنا رکھی ہے جس کا سربراہ بھی پاکستان سے ہے مگر کیا اس فوج کی جانب سے ایک لفظ بھی برما کے مسلمانوں کے حق میں بولا گیا؟ وہ فوج کس لئے اور کس کے لئے بنی ہے، اس موضوع کو نہ چھیڑا جائے تو بہتر ہوگا۔
میرے عزیز ہم وطنو، آپ خود تو درجنوں طبقات میں تقسیم ہو اور اپنے حکمرانوں سے یہ توقع کرتے ہو کہ وہ دنیا کے مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھائے! اگر آپ واقعی سنجیدگی سے یہ چاہتے ہو کہ وہ بھی طیب اردوگان کی طرح دنیا کے مسلمانوں کی آواز بن جائے تو پہلے آپ خود تو متحد ہو کر اس کے پیکرخاکی میں جاں پیدا کرو۔ اگر ہم سب ایسے ہی مختلف طبقات میں بٹے رہے تو ہمارے حکمران کیسے دنیا کے مسلمانوں کی آواز بن سکتے ہیں؟
اگر مناسب سمجھو تو سوچنا ضرور۔
No comments:
Post a Comment