Wednesday, June 13, 2018

صاف چلی شفاف چلی

‏السلام علیکم۔۔
آج کل ملک عزیز کی سیاست میں عمران خان نے سیاست میں ایک ایسی تبدیلی لا دی ہے کہ الزام اور جھوٹ کا بول بالا ہے۔ جس میں سچ بہت دب کر رہ گیا عمرانی سوشل میڈیا نے اس قدر طاقتور کمپین کی ہے کہ ان کی اس طاقت سے سچ لکھنے والے میڈیا کے لوگ بھی بہت دب کر لکھتے ہیں کیونکہ کون ایسا ہوگا جس کو اپنی عزت عزیز نہ ہوگی؟

ایک طرف عمرانی سوشل میڈیا اپنے جھوٹ کو انتہائی مکاری کے ساتھ اتنا زیادہ پھیلاتا ہے کہ عام انسان کو جھوٹ بھی سچ لگنے لگتا ہے۔ دوسری طرف اگر کوئی ان کے جھوٹ کو بےنقاب کرتا ہے تو اس کی ماں بہن ایک کر دی جاتی ہے۔ الغرض ان کے جھوٹ اور سینہ زوری نے معاشرے میں ایک ایسا طبقہ پیدا کردیا ہے جو صرف جھوٹ ہی سننا چاہتا ہے۔

کل زرداری کا نیب سے آخری ریفرنس بھی ختم ہو گیا اور زرداری مکمل طور پر مسٹر کلین بن چکے ہیں۔ یہ بات پاکستانیوں کو کیسے ہضم ہو سکتی ہے مگر یہ سچ کر دکھایا گیا ہے جس پر سوائے ایک مسکراہٹ کے کچھ بھی نہ کہا جاسکتا ہے کیونکہ زرداری کی کرپشن وہ مقام حاصل کر چکی تھی کہ بھٹو کا جیالا PPP کا دفاع کرنے میں ناکام تھا اور PPP چھوڑ کر PTI میں شامل ہو رہا تھا۔ عمرانی سوشل میڈیا اور اس کے ہمنوا الیکٹرانک میڈیا نے اپنی توپوں کا رخ نوازشریف کی طرف صرف اس لئے کئے رکھا کہ کسی طرح عمران نیازی کو وزیراعظم بنا دیا جائے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اصل کرپشن کے بانی اور ذمہ داری آج بری ہو رہے ہیں باقی ماندہ عمران نیازی کے ساتھ مل کر چور مچائے شور کی پالیسی پر گامزن ہیں۔

صوبہ پختونخواہ جس کا سربراہ عمران نیازی نے پرویزخٹک کو مقرر کرکے وزارت اعلیٰ کی مسند پر بٹھایا وہ شخص PTI میں آنے سے پہلے کرپشن اور اقربا پروری میں بےمثال تھا۔ خیبرپختونخواہ میں اس وقت سب سے بڑی جو کرپشن ہو رہی ہے وہ خیبرپختونخواہ کی معدنیات ہیں۔ اس کرپشن پر روشنی ڈالنے سے پہلے آپ کے علم میں یہ بات لانا ضروری ہے کہ معدنیات کی تھوڑی سی اہمیت آپ کو بتا سکوں۔ سوئٹزرلینڈ اور جنوبی افریقہ انہی معدنیات کی وجہ سے اپنا %75 بجٹ بناتے ہیں۔ جی ہاں کرومائیٹ وغیرہ۔ خیبرپختوخواہ میں جو کرومائیٹ نکالی جا رہی ہے اس کرومائیٹ سے کئی گناہ بہترین ہے اور اوپر سے کرومائیٹ کے دنیا کے سب سے بڑے خریدار چائینہ آپ کے دروازے پر موجود ہے۔ سابق دور حکومت میں پرویزخٹک نے بطور آبپاشی وزیر سابقہ حکومت میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے کرومائیٹ کی سب سے بڑی کان تنگی مائنز کا ٹھیکہ ایک شخص کو دلوایا اور اس سے یہ ٹھیکہ اپنے بھائی جلال خان کو لے دیا جو بدستور اب بھی جلال خان کے پاس ہے۔ جلال خان دبئی میں شہنشاہوں کی زندگی گذار رہا ہے جبکہ عملاً جہانگیرترین کی کمپنی کرومائیٹ نکال کر چین اور دوسرے ممالک میں بیچ رہی ہے اور یوں جس کرومائیٹ سے خیبرPK کے عوام کی قسمت تبدیل ہو سکتی ہے اس کرومائیٹ سے جہانگیرترین پرویزخٹک اور اس کے خاندان کی عیاشی ہو رہی ہے۔

خیبرPK میں پرویز خٹک نے مل بانٹ کر کھانے کا بہت خوبصورت نظام بنا رکھا ہے۔ اسدقیصر جو کہ اسپیکر صوبائی اسمبلی ہے جب سیاست میں آیا تو اس کا کل اثاثہ 14 مرلے کا گھر تھا۔ مگر آج اسد قیصر کا گھر پانچ کروڑ سے زیادہ قیمتی ہے اور اسلام آباد میں بنیگالا عمران نیازی کی رہائش کے قریب اس کا ایکڑوں میں پھیلا کروڑوں روپے کا بنگلہ ہے۔ اسد قیصر کا ذریعہ لوگوں کو من پسند نوکریاں بیچنا ہے۔

اب ترقیاتی کاموں کی طرف آئیے۔ جہاں %30 تک کمیشن خیبر PK کے وزیروں اور مشیروں کی جیب میں جارہا ہے۔ عمران نیازی کا سب سے بڑا کام بلین ٹری سونامی کیا ہے؟ آئیے اس کی حقیقت بھی جان لیجئے۔۔۔

معدنیات کی طرح لکڑی جسے ٹمبر بھی کہا جاتا ہے۔ اس سے KPK مالا مال ہے ٹمبرمافیا KPK میں بہت مضبوط مافیا ہے جو درخت کاٹتا ہے اور فروخت کرتا۔ یہ درخت جن کی لکڑی عمارتوں میں استعمال ہوتی ہے کم وبیش 70 سے لے کر 80سال کا درخت قابل استعمال ہوتا ہے۔ جبکہ بلین ٹری سونامی 4سال بعد سوشل میڈیا پر KPK کو امیر بنانے کے خواب دکھاتا ہے جس کا حقیقت کے ساتھ دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ صرف عوام کی نظروں میں دھول جھونک کر ٹمبر مافیا پر پردہ ڈالنے کی ایک تشہیری مہم ہے۔ KPK میں قیمتی ٹمبر چوری کرنے کو قانونی حفاظت دی گئی ہے۔ ذرا غور فرمائیے۔۔۔۔

آپ 100 روپے کی لکڑی چوری کریں اگر یہ چوری پکڑی جاتی ہے تو 40 روپے کی لکڑی KPK حکومت کو دیں۔ باقی 60 روپے کی لکڑی پر ٹیکس جمع کروائیں اور دھڑلے سے یہ لکڑی بیچیں آپ کو کوئی لکڑی چور نہ کہے گا۔ جی ہاں یہ KPK میں قانون ہے جسے انڈس پالیسی کہا جاتا ہے۔ ہو کچھ یوں رہا ہے کہ 100 کی چوری ظاہر کی جاتی ہے اور اس کی رسید پر 100 بار لکڑی بیچی جاتی ہے۔ جس کی مالیت اربوں روپے ماہانہ بنتی ہے۔ کوئی الیکٹرانک میڈیا آپ کو یہ نہیں بتائے گا۔ اور اس پر بلین ٹری سونامی کا شوشہ پردہ داری کا بہترین انتظام ہے۔

کرک کی طرف آئیے جہاں آئل فیلڈ سے کروڈ آئل نکالا جاتا ہے۔ جس کی رائلٹی وہاں کی مقامی آبادی کو دی جاتی ہے۔ مگر کرک کی مقامی آبادی کی بدحالی اس رائیلٹی کو طاقتوروں کے ہڑپ کرنے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کرک میں پانی کا ایک ٹیوب ویل 17 سے اٹھارہ لاکھ میں لگتا ہے۔ جبکہ کاغذوں میں اس کی لاگت پچاس 50لاکھ لکھ کر باقی ہڑپ کیا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں کرک کے MPA گل صاحب کے نوعمر بھائی کی فوٹو سوشل میڈیا کی زینت بنی تھی۔ جس میں وہ بیڈ پر نوٹ بچھا کر بیٹھا ہے۔ کرک PK40 کے ایم پی اے حاجی گل صاحب کی الیکشن کمپین جس شخص نے چلائی تھی اس کو ایک قیمتی گاڑی دے کر غیرسیاسی پولیس کا SHO لگایا ہوا ہے۔ کرک میں مول کمپنی کے ساتھ مل کر اربوں روپے کا کروڈ آئل چوری کا معاملہ سامنے آیا مگر اس پر کچھ بھی نہ ہوا۔ کیونکہ قانون FIR پر ہی آگے بڑھتا ہے۔ ذرا لطف اندوز ہوں کہ ان کا یہ SHO اربوں روپے کے کروڈ آئل کے معاملے کو دبا سکتا ہے جبکہ ان کے سرپرست وزیراعظم پاکستان کو 10 ہزار درھم تنخواہ نہ لینے پر ہٹا سکتے ہیں۔

دوستو۔۔۔
سرکاری ٹھیکوں سے کمیشن کی چوری پر انتہائی احمقانہ طریقے سے KPK حکومت کا اقرار اس وقت سامنے آیا جب عائشہ گلالئی پر خود انھوں نے کمشن لینے کا الزام لگایا۔ خیبرPK کے احتساب کمیشن کے سربراہ کی حقیقت آپ کو اگلی قسط میں بتائی جائے گی۔ فی الحال آپ کو اس سربراہ جنرل حامد کا بیان یاد کروایا جا رہا ہے۔
"خیبرپختونخوا میں 100 روپے ترقیاتی فنڈ سے 60 روپے کرپشن ہو رہی ہے۔ جنرل ریٹائرڈ حامد خان"

اب سنئیے کہ اس جنرل ریٹائرڈ حامد خان نے کیا کیا اور اس کے ساتھ کیا ہوا۔ تبدیلی کے نام پر عمران نیازی نے سب سے خوبصورت نعرہ جو لگایا تھا وہ تھا "میں نوے دن میں کرپشن کا خاتمہ کروں گا"۔ طالبان کی مہربانی سے عمران نیازی کی پارٹی کو خیبرPK میں اکثریت مل گئی تو اس نعرے کو عملی جامہ پہنانے کا معاملہ درپیش آیا۔ 90 دن کی بجائے کافی وقت کے بعد کرپشن کے خاتمے کے لئے عمران نیازی نے خیبرPK میں احتساب کمیشن کے نام سے ایک ادارہ بنا دیا۔ جیسا کہ سب کو پتہ ہے کہ عمران نیازی اپنے پرائیویٹ اداروں اور پارٹی تک میں اعلیٰ عہدوں پر صرف اپنے دوست ہی رکھتا ہے۔ اسی طرح "خٰیبرPKاحتساب کمیشن" کے سربراہ کے لئے بھی عمران نیازی نے اپنے دیرینہ دوست ریٹائرڈ جنرل حامد خان کا انتخاب کیا۔ عمران نیازی کی بدقسمتی یہ ہوئی کہ عمران نیازی کا یہ دوست جنرل حامد خاں اسکے باقی دوستوں جیسا بےایمان نہ نکلا۔

جنرل حامد خان نے جب "احتساب کمیشن"کا انتظام سنبھالا تو وہ ششدر رہ گیا۔ اور اس کا پہلا شہرہ آفاق بیان آیا کہ خیبر پختونخوا میں تو کرپشن کی انتہا ہی نہیں ہے یہاں تو 100 روپے کے کام میں 60 روپے کمیشن لیا جا رہا ہے۔ اور بہت بڑے پیمانے پر ہرکوئی کرپشن کی گنگا میں نہا رہا ہے۔
جنرل حامد خان نے دن رات ایک کرکے تفتیش شروع کر دئیے اس کی تفتیش نے اسے ظاہر کر دیا کہ KPK میں وزیراعلیٰ اسکی کابینہ حتیٰ کہ صوبائی اسپیکر اور اعلیٰ بیورکریسی اس میں ملوث ہے۔ جنرل حامد خان نے تقریباً پرویزخٹک کی پوری کی پوری کابینہ اور بیوروکریسی جو اسدعمر اور جہانگیر کی نگرانی میں کرپشن کر رہی ہے کے خلاف ثبوت اکٹھے کر لئے جب ابھی ایک ہی مچھلی پر ہاتھ ڈالا تو جہانگیر ترین پرویزخٹک اور اس کی پوری کابینہ بمعہ ٹاپ بیوروکریسی کے عمران نیازی کے پاس بنی گالا آگئی۔ اور اسے کہا کہ تم نے یہ کیا مصیبت ہم پر نازل کی ہے۔ سب کی بپتا سن کر عمران نیازی نے جنرل حامدخان کو سمجھانے اور ہتھ ہولا رکھنے کا کہا مگر جنرل حامد نے جنٹلمین سوری کہہ کر جواب دے دیا اور اپنے فرض پر قائم رہنے کا فیصلہ سنا دیا جس کے بعد ان کے قانونی مشیروں نے مشورہ دیا کہ آئینی ترمیم کرکے جنرل حامد خان کے اختیار کم کئے جائیں۔ ان کے پاس آئنی ترمیم کے لئے مطلوبہ تعداد نہ تھی۔ جس کو پورا کرنے کے لئے شیرپاو گروپ سے رابطہ کیا گیا۔ مگر شیرپاو نے عمران خان کے سب سے بڑا چور کہنے کے الفاظ یاد کروائے۔ عمران خان نے اپنے کنٹینر پر کہے الفاظ کی معافی مانگ لی جسے شیرپاو نے تسلیم نہ کیا اور کہا کہ جرگہ بنا کر معافی مانگی جائے تاکہ سب کو پتہ چلا کہ نیازی نے معافی مانگی ہے۔ تھوک کر چاٹنے کے عادی عمران نیازی نے جرگے کے سامنے معافی مانگی تب جاکر یہ KPK اسمبلی میں ترمیم کرنے کے قابل ہوئے۔ اس ترمیم کے بعد ""خیبرPKاحتساب کمیشن"" غیرموثر ہو کر رہ گیا بلکہ کرپشن کو KPK میں قانونی شیلٹر میسر آگیا۔ 90 دن کے لئے KPK میں کرپشن چھپا لو۔ اس کے بعد سرعام پھرو کیونکہ 90 دن کے بعد اس کرپشن پر احتساب کمیشن کو کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔ یاد رکھیں اگر نیازی کا یہی فارمولہ سارے ملک پر اپلائی کیاجائے تو پھر ملک میں کرپشن کا ایک بھی کیس نہ رہے۔

مزید نئی کرپشن پر کارروائی پر لگام ڈالنے کے لئے احتساب کمیشن کو پابند کردیا کہ وہ کسی بھی حکومتی عہدیدار یا بیوروکریسی کے افسر کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے وزیراعلیٰ KPK یا اسپیکر اسدقیصر سے اجازت لیں۔ یہ دیکھ کر جنرل حامد خان نے گورنر KPK کو اپنا استعفیٰ دے دیا اور ایک کاپی عمران نیازی کی سنڈ کردی۔ احتساب کمیشن پر تالے لگے ہیں اور یوں پھر سے دھڑلے کے ساتھ KPK میں کرپشن کا کاروبار بغیرخوف و خطر جاری ہے۔

میڈیا تو ان کے ساتھ ہے ہی لہزا جب کوئی ان کی کرپشن پر آواز اٹھائے تو اس پر الزام اور گالی گلوچ کا سلسلہ شروع کردیا جاتا ہے۔

Thursday, May 31, 2018

پانی کا بحران

پاکستان میں پانی کے موجودہ بحران کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں ایک تجویز آتی ہے کہ پاکستان کے پاس پانی کا عظیم ذخیرہ سمندر کی صورت میں موجود ہے جس سے ہم فائدہ نہیں اٹھا رہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے سمندر کے پانی کو پینے کے قابل بنانے کے کارخانے لگا رکھے ہیں اور پانی کے بحران کا مسئلہ حل کیا ہوا ہے۔

مگر اس کے ساتھ ہی میرے ذہن نے یہ بھی سوچا کہ ایسے کارخانے پاکستان میں لگائے گا کون؟ پاکستانی قوم کا تو یہ حال ہے کہ جنہوں نے خالصتان پروجیکٹ کو سبوتاژ کرکے پاکستان کو بجلی اور پانی کے بحران میں مبتلا کیا، انہیں پسند کرتی ہے اور دوبارہ ان کے اقتدار میں آنے کی خواہش کرتی ہے۔ اس کے برعکس جنہوں نے بجلی کی پیداوار کے متبادل منصوبوں پہ کام کرکے پاکستان کو اس بحران سے نکالنے کی کوشش کی اور اس کے لئے کارخانے لگائے، انہیں غدار قرار دیتے یہ قوم نہیں تھکتی۔

اگر پاکستان میں سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کے کارخانے کوئی لگا سکتا ہے تو صرف اور صرف میاں محمد نوازشریف اور میاں محمد شہبازشریف ہیں کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ ان کے علاوہ کسی حکمران نے پاکستان میں کارخانے، انڈسٹری اور معیشت کے فروغ کے لئے کام نہیں کیا۔ لیکن اس کام کے لئے ان کا اقتدار میں ہونا اور "بااختیار اقتدار" میں ہونا بہت ضروری ہے۔

اگر ہم اسی طرح اپنے محسنوں کو کرپٹ اور غدار قرار دیتے رہے تو ہم اپنی نسلوں کو اس انجام سے ہرگز نہیں بچا سکیں گے جو آج ایتھوپیا کے بچوں کا نظر آتا ہے۔ ذرا تصور تو کیجئے کہ آپ کا بچہ بھوکا پیاسا ننگ دھڑنگ سوکھی روٹی کے ایک لقمے کی تلاش میں زمین پہ گھسٹ رہا ہو اور کوئی گدھ چند فیٹ کے فاصلے پہ بیٹھا اس کے مرنے کا انتظار کررہا ہو۔ کیا یہ تصویر قابل برداشت ہے؟ سنا ہے کہ جس شخص نے یہ تصویر بنائی تھی اس نے بعد میں خودکشی کرلی تھی۔ کیا ہمارا ضمیر بھی اس فوٹوگرافر کے ساتھ ہی مرگیا تھا؟

(پاکستانی شیر)

Wednesday, May 30, 2018

بجلی اور پانی کی کمی

مشرف کے دور میں انڈس واٹر کمیشن میں خلائی مخلوق کا ایک بندہ بیٹھا تھا جس نے مشرف کی رضامندی سے انڈیا کو 52 ڈیموں کا این او سی جاری کر دیا، اپنا بریف کیس لیا اپنے بیوی بچوں کو ساتھ لیا اور آج امریکہ میں بیٹھا کروڑوں ڈالروں میں کھیل رہا ہے عیش کر رہا ہے بیوقوف پاکستانی قوم کا منھ چڑا رہا ہے۔ انڈیا جب بھی نیا ڈیم شروع کرتا ہے پاکستان انڈس واٹر ٹریٹی کے گارنٹر ورلڈ بینک کے پاس جاتا ہے تب انڈیا پاکستان کا جاری کیا گیا NOC دکھاتا ہے, بس پھر پاکستان اپنا سا منھ لے کر واپس آجاتا ہے۔

آج دنیا کی ہر خرابی کی طرح پاکستان میں پانی کی کمی کا ذمہ دار بھی نواز شریف کو ہی ٹھرا کر لمبی لمبی تحریریں گھڑی جارہی ہیں مگر معاملے کی بنیاد کی طرف کوئی بھی نہیں جانا چاہتا۔ سب کو پتہ ہے کہ جب اصل حقائق سامنے ائیں گے تو بےنظیر بھٹو، اعتزاز احسن اور مشرف ذمہ دار بنتے ہیں۔ کہاں تھے وہ محب وطن افراد جب بےنظیر اور اعتزاز احسن پشاور میں خالصتان تحریک سے متعلق دستاویزات راجیو گاندھی کے حوالے کررہے تھے؟ کیا انہیں اس وقت یہ غداری نظر نہیں آئی؟ ان کی حب الوطنی اس وقت کہاں مرگئی تھی؟ کہاں تھی ان کی حب الوطنی جب ایک چھوٹے محب وطن نے بڑے محب وطن کی منظوری سے بھارت کو این او سی جاری کیا تھا۔ اب نوازشریف کیا کرے۔ وہ جب بھی پاکستان کا مقدمہ عالمی عدالت میں لےجاتا ہے تو اسے ایک عظیم محب وطن کا جاری کیا ہوا این او سی دکھا دیا جاتا ہے۔

جب آپ کے دریاوں میں پانی نہیں آئے گا تو بجلی کیسے بنے گی۔ بجلی بنانے کے متبادل ذرائع پہ نوازشریف سے پہلے کس نے کام کیا؟ کوئی ایک نام تو بتائیں میرا منہ بند کرنے کے لئے۔ نوازشریف پہلا حکمران ہے جس نے بجلی کی پیداوار کے متبادل منصوبوں پہ کام کا آغاز کیا اور لوڈشیڈنگ کو 20 گھنٹے سے گھٹا کن 4/5 گھنٹے پہ لایا مگر یہ ناشکری قوم پھر بھی گھنٹے گن گن کر اسے گالیاں دینے کو جواز ڈھونڈ رہی ہے۔ شاید ایسے لوگوں کی نظر میں اس کام کا ثواب روزے سے بھی زیادہ ہوگا۔

Sunday, September 24, 2017

نصر من اللہ والفتح القریب

نصر من اللہ والفتح القریب

میاں نواز شریف کے خلاف ہونے والی ہر سازش، ہر فیصلہ اور ہر منفی پراپوگینڈے پہ مجھے ان کے والد محترم میاں محمد شریف کی وہ پیشگوئی یاد آتی ہے جس کے الفاظ خود بھی وطن دشمنوں کے خلاف اعلان جنگ ہیں اور مجھے بھی وہی حوصلہ دیتے ہیں جو بولنے والے میں نظر آتا تھا:

*ایسٹیبلشمنٹ کے خلاف آخری لڑائی میرا بیٹا لڑے گا۔*

‏یہ جملہ میرا حوصلہ بحال کردیتا ہے کہ اس وقت یہ جنگ جاری ہے اور میں اس جنگ میں نواز شریف کا ساتھ دے رہا ہوں، جس حد تک بھی دے سکتا ہوں۔

‏آج جو شخص بھی اس جنگ میں نواز شریف کا ہمرکاب ہے وہ خود پہ فخر کرسکتا ہے کہ ‏اس جنگ کی جیت ہماری زندگی میں ہوتی ہے یا ہمارے بعد، ہم اپنی آئیندہ نسلوں کے سامنے شرمندہ نہیں ہونگے۔

Monday, September 11, 2017

کیا ہم قوم ہیں

والد نے ان کا نام محمد لطیف رکھا۔ وہ بڑے ہو کر چودھری محمد لطیف ہو گئے لیکن دنیا انہیں ”سی ایم لطیف“ کے نام سے جانتی تھی۔ وہ پاکستان کے پہلے وژنری انڈسٹریلسٹ تھے، اور انڈسٹریلسٹ بھی ایسے کہ چین کے وزیراعظم چو این لائی، شام کے بادشاہ حافظ الاسد اور تھائی لینڈ کے بادشاہ ان کی فیکٹری دیکھنے کیلئے لاہور آتے تھے۔ چو این لائی ان کی فیکٹری، ان کے بزنس ماڈل اور ان کے انتظامی اصولوں کے باقاعدہ نقشے بنوا کر چین لے کر گئے اور وہاں اس ماڈل پر فیکٹریاں لگوائیں۔

سی ایم لطیف کی مہارت سے شام، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور جرمنی تک نے فائدہ اٹھایا۔ وہ حقیقتاً ایک وژنری بزنس مین تھے۔ وہ مشرقی پنجاب کی تحصیل بٹالہ میں پیدا ہوئے۔ والد مہر میران بخش اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتے تھے لیکن وہ لطیف صاحب کے بچپن میں فوت ہو گئے۔ لطیف صاحب نے والد کی خواہش کے مطابق اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ یہ 1930ء میں مکینیکل انجینئر بنے اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے دو کمروں اور ایک ورانڈے میں اپنی پہلی مل لگائی۔ یہ صابن بناتے تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی محمد صدیق چودھری بھی ان کے ساتھ تھے۔ صدیق صاحب نے بعد ازاں نیوی جوائن کی اور یہ قیام پاکستان کے بعد 1953ء سے 1959ء تک پاکستان نیوی کے پہلے مسلمان اور مقامی کمانڈر انچیف رہے۔ لطیف اور صدیق دونوں نے دن رات کام کیا اور ان کی فیکٹری چل پڑی۔ یہ ہندو اکثریتی علاقے میں مسلمانوں کی پہلی انڈسٹری تھی۔ یہ صابن فیکٹری کے بعد لوہے کے کاروبار میں داخل ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے علاقے میں چھا گئے اور لاکھوں میں کھیلنے لگے۔

پاکستان بنا تو ان کے پاس دو آپشن تھے۔ یہ اپنے کاروبار کے ساتھ ہندوستان میں رہ جاتے یا یہ کاروبار، زمین جائیداد اور بینک بیلنس کی قربانی دے کر پاکستان آ جاتے۔ سی ایم لطیف نے دوسرا آپشن پسند کیا۔ یہ بٹالہ سے لاہور آ گئے۔ لاہور اور بٹالہ کے درمیان 53 کلو میٹر کا فاصلہ ہے لیکن اگر حقیقی طور پر دیکھا جائے تو یہ دونوں شہر دو دنیاؤں کے فاصلے پر آباد ہیں۔

آزادی نے سی ایم لطیف کا سب کچھ لے لیا۔ یہ بٹالہ سے خالی ہاتھ نکلے اور خالی ہاتھ لاہور پہنچے۔ بٹالہ میں ان کی فیکٹریوں کا کیا سٹیٹس تھا؟ آپ اس کا اندازہ صرف اس حقیقت سے لگا لیجئے کہ ہندوؤں اور سکھوں نے ان کی ملوں پر قبضہ کیا، کاروبار کو آگے بڑھایا اور آج بٹالہ لوہے میں بھارتی پنجاب کا سب سے بڑا صنعتی زون ہے۔ سی ایم لطیف بہرحال پاکستان آئے اور 1947ء میں نئے سرے سے کاروبار شروع کر دیا۔ انہوں نے لاہور میں بٹالہ انجینئرنگ کمپنی کے نام سے ادارہ بنایا۔ یہ ادارہ آنے والے دنوں میں ”بیکو“ کے نام سے مشہور ہوا۔

بیکو نے پاکستان میں صنعت کاری کی بنیاد رکھی۔ لوگ زراعت سے صنعت کی طرف منتقل ہوئے اور ملک میں دھڑا دھڑ فیکٹریاں لگنے لگیں۔ ملک کے نئے صنعت کاروں میں میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے والد میاں شریف بھی شامل تھے۔ میاں شریف سات بھائی تھے۔ یہ لوگ امرتسر کے مضافات میں ایک چھوٹے سے گاؤں ”جاتی امرا“ کے رہنے والے تھے۔ میاں شریف کے والد میاں رمضان حکیم تھے۔ یہ سکھوں کے گاؤں میں اکیلا مسلمان گھرانہ تھا۔ میاں برکت خاندان کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔

یہ میاں رمضان کی پہلی بیگم کی اولاد تھے۔ یہ بیگم فوت ہو گئی۔ میاں رمضان نے دوسری شادی کی۔ دوسری بیگم سے چھ بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی‘ میاں برکت اور میاں شفیع سے گھر کی غربت دیکھی نہ گئی۔ یہ دونوں جاتی امرا سے نکلے۔ لاہور آئے اور ریلوے روڈ پر لوہے کی ایک بھٹی پر نوکری کر لی۔ یہ دونوں بھائی سارا دن لوہا کوٹتے تھے۔ شام کو انہیں ایک روپیہ ملتا تھا۔ یہ اس میں سے دو وقت کی روٹی کے پیسے رکھ کر باقی رقم گاؤں بھجوا دیتے تھے۔

خاندان نے میاں شریف کو سکول داخل کرا دیا۔ میاں شریف نے جاتی امرا سے چار کلو میٹر دور ”نیویں سرلی“ سے پرائمری تک تعلیم حاصل کی۔ لاہور آئے اور بھائیوں کے ساتھ مزدوری شروع کر دی۔ یہ صبح مسلم ہائی سکول رام گلی جاتے تھے اور شام کو لوہا کوٹتے تھے۔ یہ میٹرک کے بعد اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں داخل ہو گئے۔ غربت اور تعلیم کا شوق دونوں اتنے زیادہ تھے کہ یہ کالج میں ”فیس معافی“ کی درخواست دینے پر مجبور ہو گئے اور اساتذہ نے ان کے سخت ہاتھ دیکھ کر انہیں ”ہوم ورک“ سے معافی دے دی۔

میاں شریف نے مزدوری کر کے پیسے جمع کئے۔ حاجی فیروز دین سے 310 روپے میں بھٹی خریدی۔ چچا سے پانچ سو روپے ادھار لئے اور اپنا کام شروع کر دیا۔ کام چل پڑا تو بھائی بھی ساتھ شامل ہو گئے۔ 1945ء میں ایک انگریز گاہک نے کراچی کے ایک ایسے انگریز کا ذکر کیا جو لوہے کے سکریپ سے کاسٹ آئرن (دیگی لوہا) بنانے کا ماہر تھا۔ میاں شریف کراچی پہنچے، انگریز سے ملے اور اسے اس کے منہ مانگے معاوضے پر ملازم رکھ لیا۔

وہ انگریز لاہور آیا اور ہاتھوں سے لوہا کوٹنے والے بھائی ملک کے بڑے صنعت کار اور لوہا پگھلانے والی بھٹی ”اتفاق گروپ“ بن گئی۔ 1960ء تک لوہے کے کاروبار میں دو بڑے گروپ تھے۔ بیکو اور اتفاق۔ سی ایم لطیف زیادہ پڑھے لکھے اور زیادہ منظم تھے چنانچہ ان کا گروپ پہلے نمبر پر تھا جبکہ اتفاق گروپ دوسرے نمبر پر آتا تھا۔ سی ایم لطیف نے ملک میں بے شمار نئی چیزیں متعارف کرائیں۔ یہ سائیکل سے لے کر جہازوں کے پرزے تک بناتے تھے۔ بیکو گروپ یورپ سے لے کر چین اور جاپان تک مشہور تھا۔ جاپان اور چین کی حکومتیں اپنے لوگوں کو ٹریننگ کیلئے بیکو بھیجتی تھیں لیکن پھر یہ دونوں گروپ سیاسی شب خون کا شکار ہو گئے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے 1970ء میں الیکشن لڑا۔ علامہ اقبال کے صاحبزادے جاوید اقبال ان کے مد مقابل تھے۔ میاں شریف جاوید اقبال کے مدد گار تھے۔ سی ایم لطیف نے بھی ذوالفقار علی بھٹو کو فنڈ دینے سے انکار کر دیا۔ 1971ء میں پاکستان ٹوٹ گیا اور ذوالفقار علی بھٹو موجودہ پاکستان کے صدر بن گئے۔ بھٹو نے 1972ء میں ملک کے تما م صنعتی گروپ قومیا لئے یوں صدر کے ایک حکم سے ملک بھر کے تمام بڑے صنعت کار فٹ پاتھ پر آ گئے۔

ان میں میاں شریف بھی شامل تھے اور سی ایم لطیف بھی۔ میاں شریف کے پاس اردو بازار کے ایک بند برف خانے اور ایک کار کے سوا کچھ نہیں تھا۔ سات بھائیوں کے گھروں سے پیسے اور زیورات جمع کئے گئے۔ بیچے گئے تو صرف نوے ہزار روپے اکٹھے ہوئے۔ سی ایم لطیف کی صورت حال زیادہ ابتر تھی۔

آپ تصور کیجئے۔ ایک شخص جس نے 1932ء میں بٹالہ میں کام شروع کیا اور وہ جب وہاں سیٹھ بنا تو اس کا سارا اثاثہ آزادی نے لوٹ لیا۔ وہ لٹا پٹا پاکستان آیا۔ اس نے دوبارہ کام شروع کیا۔ ایک ایک اینٹ رکھ کر ایسی عمارت کھڑی کی جسے دیکھنے کیلئے دنیا کے ان ملکوں کے حکمران آتے تھے، جنہوں نے مستقبل میں ”اکنامک پاورز“ بننا تھا لیکن پھر ایک رات اس کا سارا اثاثہ اس ملک نے چھین لیا جس کیلئے اس نے 1947ء میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا۔

آپ تصور کیجئے‘ اس شخص کی ذہنی صورتحال کیا ہو گی؟ میاں شریف اور سی ایم لطیف دونوں اس صورتحال کا شکار ہو گئے۔ میاں شریف نے ہار نہ مانی۔ انہوں نے اردو بازار کے برف خانے سے دوبارہ کاروبار شروع کیا۔ گرنڈلیز بینک کے منیجر نے ان پر اعتبار کیا۔ انہیں قرضہ دے دیا اور یوں یہ دوبارہ قدموں پر کھڑے ہو گئے لیکن سی ایم لطیف حوصلہ ہار گئے۔ وہ پاکستان سے نقل مکانی کر گئے۔ وہ جرمنی گئے اور جرمنی کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں زندگی گزار دی۔ انہوں نے دوبارہ کوئی کمپنی بنائی۔ کوئی کاروبار کیا اور نہ ہی کوئی فیکٹری لگائی۔ وہ طویل العمر تھے، ان کا انتقال 2004ء میں 97 سال کی عمر میں ہوا۔ وہ باقی زندگی صرف باغبانی کرتے رہے‘ ان کا کہنا تھا کہ "دنیا کا کوئی شخص مجھ سے پودے اور پھول نہیں چھین سکتا"۔

جنرل ضیاء الحق نے 1977ء میں انہیں بیکو واپس لینے کی درخواست کی لیکن سی ایم لطیف نے معذرت کر لی۔ 1972ء میں جب بھٹو نے سی ایم لطیف سے بیکو چھینی تھی۔ اس وقت اس فیکٹری میں چھ ہزار ملازمین تھے اور یہ اربوں روپے سالانہ کا کاروبار کرتی تھی لیکن یہ فیکٹری بعد ازاں زوال کا قبرستان بن گئی۔ حکومت نے اس کا نام بیکو سے پیکو کر دیا تھا۔ پیکو نے 1998ء تک اربوں روپے کا نقصان کیا۔
یہ ہر سال حکومت کا جی بھر کر خون چوستی تھی۔

بیکو بادامی باغ کے پاس واقع تھی۔ اسکی وجہ سے یہ علاقہ کبھی پاکستانی صنعت کا لالہ زار ہوتا تھا اور دنیا بھر سے آنے والے سربراہان مملکت کو پاکستان کی ترقی دکھانے کیلئے خصوصی طور پر بادامی باغ لایا جاتا تھا لیکن حکومت کی ایک غلط پالیسی اور ہماری سماجی نفسیات میں موجود حسد اور خودکشی کے جذبے نے اس لالہ زار کو صنعت کا قبرستان بنا دیا اور لوگ نہ صرف بیکو کی اینٹیں تک اکھاڑ کر لے گئے بلکہ انہوں نے بنیادوں اور چھتوں کا سریا تک نکال کر بیچ دیا اور یوں پاکستان کا سب سے بڑا وژنری صنعت کار اور ملک کی وہ صنعت جس نے جاپان اور چین کو صنعت کاری کا درس دیا تھا، وہ تاریخ کا سیاہ باب بن کر رہ گئی۔ آج حالت یہ ہے کہ وہ لوگ جن کے لیڈر پاکستان سے صنعت کاری کے نقشے حاصل کرتے تھے، وہ لوگ سی ایم لطیف کے ملک کو بلڈوزر سے لے کر ٹریکٹر اور ٹونٹی سے لے کر ہتھوڑی تک بیچتے ہیں اور سی ایم لطیف کی قوم یہ ساراسامان خرید کر پاک چین دوستی زندہ باد کے نعرے لگاتی ہے۔

ہم کیا لوگ ہیں۔ ہم 1972ء میں ملک کو کاروبار اور صنعت کاقبرستان بنانے والوں کی برسیاں مناتے ہیں لیکن ہمیں سی ایم لطیف اور میاں محمد شریف جیسے لوگوں کی قبروں کا نشان معلوم ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہے یہ زندگی کی آخری سانس تک پاکستان کو کس نظر سے دیکھتے رہے۔ یہ المیہ اگر صرف یہاں تک رہتا تو شاید ہم سنبھل جاتے، شاید ہمارا ڈھلوان پر سفر رک جاتا لیکن ہم نے اب ڈھلوان پر گریس بھی لگانا شروع کر دی ہے۔ ہم بیس کروڑ لوگوں کی قوم ہیں لیکن ہماری سوچ بےہنگم ہجوم کے جیسی ہے۔ کیا کام کرنا، ترقی کرنا جرم ہے؟ کیا سرمایہ دار ہمارا اور ہمارے ملک کا دشمن ہے؟ اگر سرمایہ دار کا پیسہ اور کاروبار اسی طرح بار بار تباہ و برباد ہوتا رہے گا تو کیا اسے پاگل کتے نے کاٹا ہے جو وہ اپنا پیسہ اس ملک میں رکھے گا؟

ہم اس ملک میں کام کرنے والے لوگوں کو سی ایم لطیف اور میاں محمد شریف کی طرح دوسرے ملکوں میں کیوں دیکھنا چاہتے ہیں؟ اگر یہ لوگ اپنی فیکٹریاں اور کاروبار اس ملک سے سمیٹ کر باہر لےجائیں گے تو اس ملک کے غریب کو روزگار کہاں سے ملے گا۔ اس ملک کی معیشت کیسے مستحکم رہ سکے گی؟

مجھے اکثر اوقات محسوس ہوتا ہے‘ ہم اس ملک میں کام کرنے والوں اور ترقی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔ وہ لوگ جو ریاست کے داماد بن کر پوری زندگی گزار دیتے ہیں۔ وہ ہمارے ہیرو ہوتے ہیں اور جو لوگ ملک بھر کے پیاسوں کے لیے کنوئیں کھودتے ہیں، ہم جب تک سی ایم لطیف اور میاں شریف کی طرح انہیں کنوئیں میں نہ پھینک دیں، ہمیں اس وقت تک تسلی نہیں ہوتی، ہم محسنوں کو ذلیل کرنے والے لوگ ہیں۔ ہم نے اس ملک میں ملک بنانے والوں کو بخشا، ملک بچانے والوں کو بخشا اور نہ ہی ملک سنوارنے والوں کو بخشا۔ ہم نے صرف ملک توڑنے والوں کو سلام کیا۔